تحریر: شبیر علی
حوزہ نیوز ایجنسی| واقعۂ کربلا صرف ایک جنگ نہیں بلکہ کردار سازی، وفاداری، قربانی اور عشقِ الٰہی کا ایسا مدرسہ ہے جس کے ہر شہید نے انسانیت کے لیے ایک عظیم درس چھوڑا ہے۔امام حسین علیہ السلام کے باوفا ساتھیوں اور اہلِ بیتؑ میں بعض ایسی ہستیاں ہیں جن کے کردار رہتی دنیا تک حق کے متلاشیوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گے۔ حضرت عباسؑ، جنابِ قاسمؑ، عونؑ و محمدؑ اور حضرت علی اکبرؑ انہی درخشاں ستاروں میں شامل ہیں۔
حضرت عباسؑ کا کردار: وفا کا بلند ترین مینار
حضرت عباسؑ کربلا میں وفاداری، شجاعت اور ایثار کی کامل تصویر ہیں۔ آپؑ نے اپنی پوری زندگی امامِ وقت کی اطاعت میں گزاری اور کربلا میں یہ ثابت کر دیا کہ وفا صرف دعوے کا نام نہیں بلکہ قربانی کا دوسرا نام ہے۔
جب خیموں میں بچوں کی پیاس کی صدائیں بلند ہوئیں تو عباسؑ فرات تک پہنچ گئے۔ پانی تک رسائی حاصل کر لی، لیکن جب پانی ہاتھوں میں لیا تو پیاسے حسینؑ اور سکینہؑ یاد آگئے۔ پانی کو واپس دریا میں انڈیل دیا اور فرمایا:
_"اے نفس! حسینؑ کے بعد تیری زندگی کا کیا فائدہ؟"_
یہ وہ لمحہ تھا جس نے عباسؑ کو تاریخِ وفا کا بے تاج بادشاہ بنا دیا۔ آپؑ نے اپنے دونوں بازو قربان کر دیے مگر علمِ حسینؑ کو جھکنے نہ دیا۔ اسی لیے آج بھی دنیا انہیں باب الحوائج اور علمدارِ کربلا کے نام سے یاد کرتی ہے۔
جنابِ قاسمؑ کا کردار: عشق اور اطاعت کی مثال
حضرت قاسمؑ امام حسن مجتبیٰؑ کے فرزند تھے۔ کم سنی کے باوجود ان کا ایمان اور معرفت حیرت انگیز تھی۔ عاشور کے دن جب انہوں نے میدانِ جنگ میں جانے کی اجازت مانگی تو امام حسینؑ نے ان کی کم عمری کو دیکھ کر ابتدا میں اجازت نہ دی، لیکن قاسمؑ نے اپنے والد کی وصیت یاد دلائی۔
جب امام حسینؑ نے پوچھا:"بیٹا! تمہارے نزدیک موت کیسی ہے؟"
تو جناب قاسمؑ نے جواب دیا:"چچا جان! شہد سے زیادہ میٹھی۔"
یہ جواب صرف ایک نوجوان کا جواب نہیں تھا بلکہ ایک ایسے عاشقِ خدا کی آواز تھی جس نے حق کی خاطر جان قربان کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ جناب قاسمؑ نے ثابت کیا کہ عمر نہیں بلکہ ایمان انسان کی عظمت کا معیار ہے۔
جناب عونؑ و محمدؑ کا کردار: تربیتِ زینبؑ کا شاہکار
حضرت عونؑ اور محمدؑ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے فرزند تھے۔ کربلا میں انہوں نے اپنی والدہ کی تربیت اور اپنے نانا حضرت علیؑ کی شجاعت کا عملی ثبوت پیش کیا۔
حضرت زینبؑ نے انہیں خود امام حسینؑ کی نصرت کے لیے تیار کیا۔ ایک ماں کے لیے اپنے جوان بیٹوں کو موت کے میدان میں بھیجنا آسان نہیں ہوتا، لیکن جناب زینبؑ نے رضائے الٰہی کو اپنی مامتا پر مقدم رکھا۔
جناب عونؑ و محمدؑ میدان میں اترے، دشمن کے مقابل ڈٹے رہے اور آخرکار جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کی قربانی ہمیں سکھاتی ہے کہ اہلِ بیتؑ کی تربیت کا مقصد صرف محبت کا دعویٰ نہیں بلکہ حق کے لیے عملی قربانی دینا ہے۔
حضرت علی اکبرؑ کا کردار: جوانی کی معراج
حضرت علی اکبرؑ فرزند امام حسینؑ روایات کے مطابق آپؑ شکل، صورت، اخلاق اور گفتار میں رسولِ خدا ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہ تھے۔
جب بھی اہلِ بیتؑ کو رسولؐ کی یاد آتی تو حضرت علی اکبرؑ کو دیکھ لیا کرتے تھے۔ عاشور کے دن جب علی اکبرؑ میدان کی طرف روانہ ہوئے تو امام حسینؑ نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر فرمایا:"خدایا! گواہ رہنا، اب وہ جوان جا رہا ہے جو خلق و خُلق اور گفتار میں تیرے رسولؐ سے سب سے زیادہ مشابہ ہے۔"
علی اکبرؑ نے جوانی، طاقت اور زندگی کی تمام آرزوؤں کو خدا کی راہ میں قربان کر دیا۔ ان کی شہادت نے ثابت کر دیا کہ مؤمن کی جوانی کا سب سے خوبصورت مصرف حق اور دین کی حفاظت ہے۔
نتیجہ:
حضرت عباسؑ ہمیں وفا سکھاتے ہیں، جنابِ قاسمؑ عشق و اطاعت کا درس دیتے ہیں، جناب عونؑ و محمدؑ قربانی اور تربیتِ اہلِ بیتؑ کا نمونہ ہیں، جبکہ حضرت علی اکبرؑ جوانی، شجاعت اور سیرتِ نبویؐ کے آئینہ دار ہیں۔
کربلا کے یہ عظیم کردار ہمیں بتاتے ہیں کہ حق کی راہ میں عمر، رشتہ اور دنیاوی مفاد کی کوئی حیثیت نہیں۔ اصل کامیابی اللہ کی رضا اور امامِ وقت کی نصرت میں ہے۔(العجل یا امام مھدی ع)
سلام ہو عباسؑ کی وفا پر، قاسمؑ کے عشق پر، عونؑ و محمدؑ کی قربانی پر، اور علی اکبرؑ کی جوانی پر۔









آپ کا تبصرہ