تحریر: شبیر علی
حوزہ نیوز ایجنسی| اسلام کی تاریخ میں دو عظیم حقیقتیں ایسی ہیں جو ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہیں: شہادتِ امام حسینؑ اور انتظارِ امام زمانہؑ۔ ایک طرف کربلا حق و باطل کی جنگ کا نقطۂ عروج ہے اور دوسری طرف ظہورِ امام مہدیؑ حق کی عالمی فتح کا وعدہ ہے۔ اگر کربلا قیام کا نام ہے تو انتظار اس قیام کی تکمیل کا نام ہے۔ اگر امام حسینؑ نے دین کو بچانے کے لیے خون دیا تو امام مہدیؑ اسی دین کو دنیا بھر میں نافذ کرنے کے لیے ظہور فرمائیں گے۔
فلسفۂ شہادتِ امام حسینؑ
امام حسینؑ نے اپنی تحریک کا مقصد خود بیان فرمایا:"إِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشِرًا وَلَا بَطِرًا وَلَا مُفْسِدًا وَلَا ظَالِمًا، وَإِنَّمَا خَرَجْتُ لِطَلَبِ الْإِصْلَاحِ فِي أُمَّةِ جَدِّي."میں نہ سرکشی، نہ تکبر اور نہ فساد کے لیے نکلا ہوں، بلکہ اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں۔"
امام حسینؑ کی شہادت کا مقصد اقتدار حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ دینِ محمدیؐ کو تحریف اور نابودی سے بچانا تھا۔ کربلا نے انسانیت کو سکھایا کہ حق کی خاطر قربانی دینی پڑے تو دریغ نہ کیا جائے اور ظلم کے سامنے خاموشی اختیار نہ کی جائے۔
قرآن مجید فرماتا ہے:"وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ" "ظالموں کی طرف جھکاؤ نہ رکھو، ورنہ تمہیں آگ چھو لے گی۔"(سورۂ ہود: 113)
امام حسینؑ نے اسی قرآنی حکم پر عمل کرتے ہوئے یزید کی بیعت سے انکار کیا اور حق کا پرچم بلند رکھا۔
انتظارِ امام زمانہؑ کا فلسفہ
انتظار کا مطلب صرف ظہور کا انتظار کرنا نہیں بلکہ ظہور کے لیے خود کو تیار کرنا ہے۔ امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:"مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ الْقَائِمِ فَلْيَنْتَظِرْ." "جو شخص چاہتا ہے کہ امام قائمؑ کے اصحاب میں سے ہو، اسے انتظار کرنا چاہیے۔"
یہ انتظار بے عملی کا نام نہیں بلکہ تقویٰ، بصیرت، عدل اور اصلاحِ معاشرہ کی جدوجہد کا نام ہے۔
امام حسینؑ اور امام مہدیؑ کا تعلق:
امام مہدیؑ کا ظہور درحقیقت کربلا کے مشن کی تکمیل ہے۔ اسی لیے روایات میں آیا ہے کہ ظہور کے بعد امام مہدیؑ کا ایک اہم شعار *"یا لثارات الحسین"* ہوگا، یعنی "اے حسینؑ کے خون کا بدلہ لینے والو!"
زیارتِ عاشورا میں ہم پڑھتے ہیں:"أَنْ يَرْزُقَنِي طَلَبَ ثَارِكَ مَعَ إِمَامٍ هُدًى ظَاهِرٍ."خدا مجھے یہ توفیق دے کہ میں آپ کے خون کا بدلہ ایک ظاہر ہونے والے امامِ ہدایت کے ساتھ طلب کروں۔"
یہ دعا واضح کرتی ہے کہ عاشورا اور ظہور ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔
عصرِ حاضر میں ہماری ذمہ داری
اگر ہم واقعی حسینی ہیں تو ہمیں مہدوی بھی بننا ہوگا۔ امام حسینؑ کی عزاداری صرف آنسو بہانے کا نام نہیں بلکہ ان کے مقصد کو اپنانے کا نام ہے۔ اور امام زمانہؑ کا انتظار صرف دعا کا نام نہیں بلکہ اپنے آپ کو ان کے لشکر کے قابل بنانے کا نام ہے۔
حسینی بننے کا مطلب:
* ظلم کے خلاف آواز اٹھانا
* حق کا ساتھ دینا
* دین کی حفاظت کرنا
* اخلاق اور تقویٰ اختیار کرنا
اور مہدوی بننے کا مطلب:
* امامِ زمانہؑ کی معرفت حاصل کرنا
* عدل و انصاف کو فروغ دینا
* اصلاحِ نفس کرنا
* ظہور کی عملی تیاری کرنا
نتیجہ
کربلا آغاز ہے اور ظہور انجام۔ عاشورا نے ظلم کے خلاف قیام کا درس دیا اور انتظار ہمیں اس قیام کو عالمی سطح پر مکمل کرنے کی امید دیتا ہے۔ امام حسینؑ نے اپنے خون سے اسلام کو زندہ کیا اور امام مہدیؑ اسی اسلام کو پوری دنیا میں غالب کریں گے۔
لہٰذا جو شخص امام حسینؑ کو سمجھ لیتا ہے، وہ انتظارِ امام مہدیؑ کی حقیقت کو بھی سمجھ لیتا ہے، کیونکہ کربلا اور ظہور ایک ہی الٰہی مشن کے دو روشن باب ہیں۔
"كُلُّ يَوْمٍ عَاشُورَاءُ وَكُلُّ أَرْضٍ كَرْبَلَاءُ" ہر دن عاشورا ہے اور ہر زمین کربلا ہے۔
اور ہر سچا منتظر دراصل کربلا کے پیغام کو اپنے زمانے میں زندہ رکھنے والا ہے۔
السلام علی الحسینؑ، وعلی علی بن الحسینؑ، وعلی اولاد الحسینؑ، وعلی اصحاب الحسینؑ۔_
الھم العن قلۃ الحسین و اولاد الحسین و اصحاب الحسین
اللّٰهُمَّ عَجِّلْ لِوَلِيِّكَ الْفَرَجَ.









آپ کا تبصرہ