تحریر: شبیر علی
حوزہ نیوز ایجنسی| عاشوراء کا سورج غروب ہو چکا تھا۔ میدانِ کربلا میں لاشیں تھیں، نیزے تھے، ٹوٹے ہوئے خیمے تھے اور فرات کی لہریں گواہی دے رہی تھیں کہ آج نواسۂ رسولؐ نے اسلام کی بقا کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کربلا کا سانحہ شہادت پر ختم نہیں ہوا، بلکہ شامِ غریباں سے ایک نئے باب کا آغاز ہوا، جس کا نام تھا "اسیری"۔
وہ رات کتنی دردناک تھی! خیموں میں چراغ نہیں تھے، بلکہ آگ کے شعلے تھے۔ بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ نہیں تھی، بلکہ خوف اور یتیمی کے آنسو تھے۔ بیٹیوں کے سروں پر چادریں نہیں تھیں، بلکہ غم کا آسمان تھا۔ ہر طرف سسکیاں تھیں، ہر طرف "بابا... بابا..." کی صدائیں تھیں، مگر جواب دینے والا کوئی نہ تھا۔
جب ظالموں نے خیموں کو آگ لگائی تو رسولِ خداؐ کی بیٹیوں اور نواسیوں کو جلتے ہوئے خیموں سے نکلنے پر مجبور کیا گیا۔ معصوم بچے آگ اور دھوئیں کے درمیان ایک دوسرے کو ڈھونڈ رہے تھے۔ حضرت سکینہؑ اپنے بابا حسینؑ کو پکار رہی تھیں، حضرت رقیہؑ خوف سے کانپ رہی تھیں، اور اہلِ حرمؑ بے یار و مددگار کھلے آسمان کے نیچے کھڑے تھے۔ یہ وہ منظر تھا جسے یاد کر کے آج بھی دل کانپ اٹھتا ہے۔
اہلِ حرمؑ کی بے کسی کا عالم یہ تھا کہ جن کے دروازے پر کبھی جبرائیلؑ اترتے تھے، آج وہی رسولؐ کا گھرانہ دشمنوں کے رحم و کرم پر تھا۔ نہ کوئی محافظ باقی تھا، نہ کوئی سہارا۔ لیکن اس بے بسی کے باوجود کسی نے باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا، کسی نے یزید کی بیعت قبول نہیں کی، کیونکہ یہ حسینؑ کا قافلہ تھا، جو عزت کے ساتھ جینا اور عزت کے ساتھ مرنا جانتا تھا۔
اسی عالم میں حضرت امام زین العابدین شدید بیماری کے باوجود، امامت کی عظیم ذمہ داری ادا کر رہے تھے۔ آپؑ نے خوف زدہ بچوں کو تسلی دی، اہلِ حرمؑ کو صبر کی تلقین کی، اور امامت کے چراغ کو بجھنے نہیں دیا۔ اگر امام سجادؑ نہ ہوتے تو سلسلۂ امامت آگے نہ بڑھتا، اور اگر حضرت زینبؑ نہ ہوتیں تو کربلا کا پیغام دنیا تک نہ پہنچتا۔
اور پھر تاریخ نے ایک ایسی خاتون کو دیکھا جس کا صبر پہاڑوں سے بلند تھا۔ حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا۔ ایک بہن جس نے اپنے بھائی کی لاش دیکھی، اپنے جوان بھتیجوں کے جنازے دیکھے، چھ ماہ کے علی اصغرؑ کا خون دیکھا، خیموں کو جلتے دیکھا، بچوں کو روتے دیکھا، مگر جب اللہ کی رضا کا سوال آیا تو فرمایا:
"ما رأيتُ إلا جميلاً"
"میں نے اللہ کی راہ میں ہر چیز کو حسین ہی دیکھا۔"
یہ جملہ صرف صبر کا اعلان نہیں تھا، بلکہ یزیدیت کے منہ پر ایسا طمانچہ تھا جس کی گونج قیامت تک سنائی دیتی رہے گی۔
پھر اسیری کا سفر شروع ہوا۔ شہداء کے سروں کو نیزوں پر بلند کیا گیا، اور رسولؐ کی بیٹیوں کو بے پردہ قیدی بنا کر کربلا سے کوفہ لے جایا گیا۔ مگر دشمن یہ نہ جان سکا کہ وہ جنہیں قیدی سمجھ رہا ہے، حقیقت میں وہی اسلام کے سب سے بڑے محافظ ہیں۔ میدانِ کربلا میں امام حسینؑ نے اپنے خون سے دین کو بچایا، اور کوفہ و شام میں حضرت زینبؑ اور امام سجادؑ نے اپنے خطبات سے یزید کے تخت کو ہلا دیا۔
پیغام
شامِ غریباں ہمیں صرف رونے کا درس نہیں دیتی، بلکہ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ ظلم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، حق آخرکار سرخرو ہوتا ہے۔ حضرت زینبؑ کا صبر، امام سجادؑ کی استقامت، اور اہلِ بیتؑ کی قربانیاں ہمیں یہ پیغام دیتی ہیں کہ ایمان، عزت اور حق کی خاطر ہر قربانی قبول کر لینی چاہیے، مگر باطل کے سامنے کبھی سر نہیں جھکانا چاہیے۔
السلام علی الحسین، وعلی علی بن الحسین، وعلی اولاد الحسین، وعلی اصحاب الحسین، وعلی زینب الکبریٰ، وعلی السجاد زین العابدین علیہم السلام









آپ کا تبصرہ