پیر 22 جون 2026 - 12:50
اسلام دلیل، امن اور خدمتِ انسانیت کا دین ہے: مولانا سید اشرف علی الغروی

حوزہ/دفترِ نمائندگی آیت اللہ العظمیٰ سیستانی لکھنؤ میں جاری عشرۂ مجالسِ عزاء کی پانچویں مجلس عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوئی؛ مجلسِ عزاء سے مولانا سید اشرف علی الغروی نے خطاب کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، دفترِ نمائندگی آیت اللہ العظمیٰ سیستانی لکھنؤ میں جاری عشرۂ مجالسِ عزاء کی پانچویں مجلس عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوئی؛ مجلسِ عزاء سے مولانا سید اشرف علی الغروی نے خطاب کیا۔

مجلس کا آغاز مولانا قمر الحسن زینبی نے تلاوتِ کلامِ پاک اور زیارتِ عاشورا سے کیا، جبکہ مولانا سید محمد عباس واعظ اور مولانا شبیر علی نے بارگاہِ اہل بیت علیہم السلام میں منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔

مجلس سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی کے نمائندے حجت الاسلام والمسلمین مولانا سید اشرف علی الغروی نے کہا کہ اسلام جبر اور زور زبردستی کا نہیں، بلکہ دلیل، منطق اور حکمت کا دین ہے۔ اسلام اپنے پیغام کو استدلال کے ذریعہ پیش کرتا ہے، جذبات کے ذریعہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک معاشرتی اور اجتماعی مخلوق بنایا ہے، اسی لئے اسلام نے اجتماعی زندگی کے لئے ایسے جامع قوانین عطا کیے ہیں جو ایک متوازن، پُرامن اور باوقار معاشرے کی تشکیل میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

مولانا سید اشرف علی الغروی نے سورۂ ق کی آیت "اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں" کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ انسان عموماً اپنی قربت کا دائرہ رشتہ داروں اور دوستوں تک محدود رکھتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے سب سے زیادہ قریب ہے اور اس کے ظاہر و باطن سے پوری طرح آگاہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب انسان اپنے خالق سے حقیقی تعلق قائم کرتا ہے تو اس کی فکر محدود نہیں رہتی بلکہ اس کا دائرۂ ہمدردی وسیع ہو جاتا ہے اور وہ پوری انسانیت کی خیرخواہی کے لئے کوشاں رہتا ہے۔

امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے فرمان "بہترین انسان وہ ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچائے" کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا سید اشرف علی الغروی نے کہا کہ اسلام انسانیت کی خدمت، خیرخواہی اور نفع رسانی کی تعلیم دیتا ہے اور ایک مسلمان کی پہچان یہی ہے کہ اس کے وجود سے دوسروں کو فائدہ پہنچے۔

انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی کسی جنگ میں پہل نہیں کی اور نہ ہی امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام نے جنگ کا آغاز کیا۔ اسلام کا امتیاز یہ ہے کہ وہ امن، سلامتی، عدل اور انسانی وقار کا علمبردار ہے۔

مولانا سید اشرف علی الغروی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات "ہر قوم کے معزز فرد کا احترام کرو" اور "مہمان کا اکرام کرو" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی تعلیمات احترامِ انسانیت، حسنِ اخلاق اور باہمی رواداری پر زور دیتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بے شمار افراد اخلاقِ نبوی سے متاثر ہو کر اسلام کے حلقۂ بگوش ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انسان کے وضع کردہ قوانین وقت اور حالات کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہمیشہ باقی اور قابلِ عمل رہتا ہے، کیونکہ اسلامی نظامِ حیات جامع اور ہمہ گیر ہے جس میں تمام انسانوں کی فلاح و بہبود کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر مولانا سید اشرف علی الغروی نے واقعۂ کربلا کے ایک اہم پہلو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب حضرت حر بن یزید ریاحی اپنے لشکر کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کے سامنے پہنچے اور شدید پیاس میں مبتلا تھے تو امام حسین علیہ السلام نے سب سے پہلے ان کے لشکر اور گھوڑوں کو سیراب کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ اسلام کی حقیقی روح، رحم، انسان دوستی اور اخلاقِ محمدی کا روشن نمونہ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha