اتوار 28 جون 2026 - 19:37
کربلا کے بعد حضرت زینبؑ کا کردار

حوزہ/کربلا میں امام حسینؑ نے اپنے خون سے اسلام کو زندگی بخشی اور شام میں حضرت زینبؑ نے اپنے خطبوں سے اس زندگی کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔

تحریر: شبیر علی

حوزہ نیوز ایجنسی|

کربلا میں امام حسینؑ نے اپنے خون سے اسلام کو زندگی بخشی اور شام میں حضرت زینبؑ نے اپنے خطبوں سے اس زندگی کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔

عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ کربلا کا واقعہ دس محرم کو ختم ہوگیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عاشورا صرف ایک مرحلہ تھا۔ اگر کربلا میدانِ جہاد تھا تو کوفہ اور شام میدانِ تبلیغ تھے۔ اگر امام حسینؑ نے تلوار اور قربانی سے دین کی حفاظت کی، تو حضرت زینب کبریٰؑ نے اپنے صبر، بصیرت اور بے مثال خطبات کے ذریعے اس قربانی کے مقصد کو دنیا کے سامنے آشکار کیا۔

عاشوراء کے بعد دشمن کا خیال تھا کہ حسینؑ کو شہید کر کے حق کی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش کر دی گئی ہے، لیکن وہ یہ نہ جان سکے کہ حسینؑ کی بہن زندہ ہے۔ وہ بہن جس کے دل میں علیؑ کی شجاعت، فاطمہؑ کی عصمت اور رسولِ خداؐ کی حکمت جمع تھی۔

جب اسیرانِ اہلِ بیتؑ کو کوفہ میں داخل کیا گیا تو لوگ تماشائی بن کر جمع ہوگئے۔ بہت سے لوگ حقیقت سے ناواقف تھے۔ ایسے میں حضرت زینبؑ نے وہ تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا جس نے کوفہ کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا۔ آپؑ نے فرمایا کہ "اے اہلِ کوفہ! کیا تم روتے ہو؟ تمہارے آنسو کبھی خشک نہ ہوں، کیونکہ تم ہی نے حسینؑ کو بلایا اور پھر تنہا چھوڑ دیا۔" ان کلمات نے لوگوں کے دلوں میں ندامت کی آگ بھڑکا دی۔

پھر جب قافلۂ اسیران کو شام میں یزید کے دربار میں پیش کیا گیا تو یزید اپنی ظاہری فتح پر خوش تھا۔ اس نے سمجھا کہ آج آلِ محمدؐ کو ذلیل کر دیا گیا ہے، مگر حضرت زینبؑ نے دربارِ یزید کو عدالتِ الٰہی بنا دیا۔ آپؑ نے بے خوف ہو کر فرمایا:"فَكِدْ كَيْدَكَ، وَاسْعَ سَعْيَكَ، وَنَاصِبْ جُهْدَكَ، فَوَاللّٰهِ لَا تَمْحُو ذِكْرَنَا، وَلَا تُمِيتُ وَحْيَنَا..."

یعنی: "اے یزید! جو تدبیریں کر سکتا ہے کر لے، اپنی پوری طاقت لگا لے، خدا کی قسم! نہ تو ہماری یاد کو مٹا سکے گا اور نہ ہی وحی کے نور کو بجھا سکے گا۔"

یہ صرف ایک خطبہ نہیں تھا، بلکہ ظلم کے تخت کے سامنے حق کا اعلان تھا۔ یزید کے دربار میں ایک بے سروسامان خاتون نے ایسی للکار بلند کی کہ فاتح شکست خوردہ بن گیا اور قیدی تاریخ کے فاتح قرار پائے۔

حضرت زینبؑ نے ثابت کیا کہ میڈیا اور تبلیغ کسی بھی تحریک کی روح ہوتے ہیں۔ اگر کربلا کا پیغام لوگوں تک نہ پہنچتا تو شاید یزید کی حکومت اپنے ظلم کو کامیابی کا نام دے دیتی، لیکن حضرت زینبؑ اور امام سجادؑ نے اپنے خطبات کے ذریعے دنیا کو بتا دیا کہ قاتل کون تھا اور مقتول کون، ظالم کون تھا اور مظلوم کون۔ اسی تبلیغ نے یزید کی جھوٹی کامیابی کو شکست میں بدل دیا۔

آج کے دور میں بھی حضرت زینبؑ کا کردار ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ حق کی حمایت صرف میدانِ جنگ میں نہیں ہوتی، بلکہ قلم، زبان، میڈیا، منبر، تعلیم اور شعور کے ذریعے بھی ہوتی ہے۔ اگر باطل اپنے پروپیگنڈے سے لوگوں کو گمراہ کرتا ہے تو اہلِ حق پر لازم ہے کہ وہ زینبی انداز میں سچ کو دنیا تک پہنچائیں۔

نتیجہ

کربلا ہمیں قربانی سکھاتی ہے، اور حضرت زینبؑ ہمیں اس قربانی کا پیغام پہنچانا سکھاتی ہیں۔ حسینؑ نے خون دیا تاکہ اسلام زندہ رہے، اور زینبؑ نے زبان دی تاکہ اسلام پہچانا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی دنیا کہتی ہے: "کربلا میں حسینؑ نے خون سے اسلام بچایا، اور شام میں زینبؑ نے اپنے خطبوں سے اسلام کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔"

السلام علیکِ یا زینب الکبریٰ، یا شریکۃ الحسین، یا بطلۃ کربلا

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha