8 محرم الحرام: پیاس کی شدت، دنیا پرستی کی شکست اور امام حسین کا اتمامِ حجت

حوزہ/8 محرم الحرام کا سورج کربلا کی سلگتی ہوئی ریت پر ایک اور الم ناک دن کا پیام لے کر طلوع ہوا۔ خیمہ گاہِ حسینیؑ میں پیاس کی شدت لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہی تھی۔ فرات کی موجیں قریب ہی رواں تھیں، مگر آلِ رسولؐ کے لئے ایک قطرۂ آب بھی ممنوع قرار دیا جا چکا تھا۔

تحریر:مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی|8 محرم الحرام کا سورج کربلا کی سلگتی ہوئی ریت پر ایک اور الم ناک دن کا پیام لے کر طلوع ہوا۔ خیمہ گاہِ حسینیؑ میں پیاس کی شدت لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہی تھی۔ فرات کی موجیں قریب ہی رواں تھیں، مگر آلِ رسولؐ کے لئے ایک قطرۂ آب بھی ممنوع قرار دیا جا چکا تھا۔ معصوم بچوں کے خشک لب، سکینہؑ کی تشنہ نگاہیں، ماؤں کی بے بسی اور وفادار اصحاب کے سینوں میں اٹھتی ہوئی آہیں، ہر منظر مظلومیتِ اہلِ بیت علیہم السلام اور ظلم کی سنگ دلی کی ایک نئی داستان رقم کر رہا تھا۔

فضا میں پیاس کی سسکیاں تھیں، خیموں میں صبر کی تصویریں تھیں، اور فرات کے کنارے انسانیت اپنی ہی بے حسی پر نوحہ کناں دکھائی دیتی تھی۔

ایسے کرب انگیز ماحول میں امام حسین علیہ السلام کے وفادار صحابی، عابد شب زندہ دار زاہد و متقی حضرت یزید بن حصین ہمدانی علیہ السلام بارگاہِ امامت میں حاضر ہوئے۔ ان کے دل میں یہ امید جاگی کہ شاید ابھی کسی دل میں انسانیت کی کوئی رمق باقی ہو، شاید عمر بن سعد کا سویا ہوا ضمیر بیدار ہو جائے، شاید فرات کا راستہ کھل جائے اور پیاس سے تڑپتے بچوں کو چند گھونٹ پانی نصیب ہو سکیں۔

امام حسین علیہ السلام نے اجازت مرحمت فرمائی۔ حضرت یزید بن حصین ہمدانی علیہ السلام عمر بن سعد ملعون کے خیمے میں پہنچے، لیکن یہ وہ لمحہ تھا جب سلامِ محبت اور سلامِ اخوت کے درمیان ظلم و ستم کی ایک بلند دیوار حائل ہو چکی تھی۔ انہوں نے سلام نہ کیا تو عمر بن سعد ملعون نے حیرت سے پوچھا: "کیا میں مسلمان نہیں ہوں؟ کیا میں اللہ اور اس کے رسولؐ کو نہیں جانتا؟"

حضرت یزید بن حصین علیہ السلام کے دل میں خیمہ گاہِ حسینیؑ کی پیاسی صدائیں گونج رہی تھیں۔ انہوں نے نہایت جرأت اور بے باکی سے جواب دیا: "اگر تم اللہ اور اس کے رسولؐ کو پہچانتے ہو تو پھر فرزندِ رسولؐ کے خلاف تلوار کیوں اٹھائے ہوئے ہو؟ فرات کا پانی جانوروں کے لئے تو مباح ہے، مگر آلِ محمدؐ کے لئے کیوں روک دیا گیا ہے؟ یہ معصوم بچے کس جرم کی سزا پا رہے ہیں؟"

یہ الفاظ تیر بن کر عمر بن سعد ملعون کے دل میں پیوست ہو گئے۔ اس نے سر جھکا لیا۔ ضمیر نے گواہی دی، حق اس کے سامنے پوری آب و تاب کے ساتھ کھڑا تھا، مگر دنیا کی زنجیریں اس کے قدموں کو جکڑے ہوئے تھیں۔ اس نے اعتراف کیا کہ امام حسین علیہ السلام حق پر ہیں، اہلِ بیت علیہم السلام کو اذیت دینا حرام ہے، اور اس راہ کا انجام جہنم کی آگ ہے؛ لیکن حکومتِ رَی کی چمک اس کی بصیرت کو ماند کر چکی تھی۔

یوں تاریخ نے ایک بار پھر یہ منظر دیکھا کہ انسان کبھی کبھی حق کو پہچان لینے کے باوجود اسے قبول نہیں کرتا، کیونکہ دنیا کی محبت اس کے دل و دماغ پر پردہ ڈال دیتی ہے۔

شب میں حق و باطل کا آخری مکالمہ

اسی روز رات کی تاریکی میں ایک ایسا منظر رقم ہوا جو تاریخِ انسانیت میں حق و باطل کے درمیان ہونے والے عظیم ترین مکالمات میں شمار ہوتا ہے۔

امام حسین علیہ السلام اور عمر بن سعد اپنے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ میدانِ کربلا کے ایک مقام پر پہنچے۔ پھر دونوں جانب کے اکثر افراد واپس چلے گئے اور چند مخصوص اشخاص کے علاوہ کوئی باقی نہ رہا۔

امام حسین علیہ السلام نے نہایت شفقت، خیرخواہی اور درد بھرے لہجے میں فرمایا: "اے سعد کے بیٹے! کیا تم مجھ سے جنگ کرنا چاہتے ہو؟ کیا تم اس خدا سے نہیں ڈرتے جس کی بارگاہ میں تمہیں حاضر ہونا ہے؟ میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی کا فرزند ہوں۔ کیا تم اس گروہ کو چھوڑ کر ہمارے ساتھ نہیں آ سکتے؟ یہ تمہارے لئے خدا کے قرب اور مغفرت کا ذریعہ بنے گا۔"

یہ دعوت محض ایک فرد کے لئے نہیں تھی، بلکہ پوری انسانیت کے لئے حق، ہدایت اور نجات کا پیغام تھی۔

مگر عمر بن سعد کے دل پر دنیا کی محبت غالب آ چکی تھی۔ کبھی اسے اپنے گھر کی فکر لاحق ہوتی، کبھی جائیداد کی، کبھی منصب و اقتدار کی، اور کبھی ابن زیاد کے انتقام کا خوف اسے جکڑ لیتا ہے۔

امام حسین علیہ السلام ہر عذر کا جواب دیتے رہے، ہر خوف کا مداوا کرتے رہے اور ہر بہانے کا دروازہ بند کرتے رہے، تاکہ قیامت تک کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ فرزندِ رسولؐ نے اپنے دشمن کو ہدایت کی دعوت نہیں دی تھی۔

لیکن جب امامؑ نے دیکھا کہ دنیا کی محبت نے اس شخص کے دل کو مردہ کر دیا ہے اور اقتدار کی خواہش نے اس کی بصیرت چھین لی ہے، تو آپؑ اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا: "تمہارا برا ہو! خدا تمہیں تمہارے بستر پر موت دے اور قیامت کے دن تمہیں معاف نہ کرے۔"

یہ الفاظ درحقیقت ایک ایسے شخص کے انجام کا اعلان تھے جس نے حق کو پہچاننے کے باوجود دنیا کی خاطر اس سے منہ موڑ لیا تھا۔

کربلا کا ابدی پیغام

8 محرم کا یہ واقعہ بتاتا ہے کہ حق و باطل کی جنگ صرف میدانِ کارزار میں نہیں لڑی جاتی، بلکہ انسان کے اپنے دل کے اندر بھی برپا ہوتی ہے۔ عمر بن سعد حق کو جانتا تھا، مگر دنیا کو چھوڑ نہ سکا؛ جبکہ امام حسین علیہ السلام نے دنیا کو ٹھکرا کر حق کو ہمیشہ کے لئے زندہ کر دیا۔

کربلا کا یہ باب انسانیت کو یہ درس دیتا ہے کہ جب حق اور مفاد آمنے سامنے آ جائیں تو اہلِ ایمان حق کا انتخاب کرتے ہیں، اور جب دنیا اور رضائے الٰہی میں مقابلہ ہو تو حسینی کردار خدا کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھتا ہے۔

آج بھی فرات کے کنارے پیاسے بچوں کی صدائیں، سکینہؑ کی تشنہ لبی، عباسؑ کی وفاداری، علی اکبرؑ کی جوانی اور حسینؑ کی دعوتِ حق اہلِ دل کو پکار رہی ہے کہ "دنیا چند روزہ ہے، اقتدار عارضی ہے، دولت فانی ہے؛ مگر حق ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ کامیاب وہی ہے جو ہر دور میں امام حسین علیہ السلام کے ساتھ کھڑا ہو، اور ناکام وہی ہے جو دنیا کی خاطر حق کا سودا کر لے۔"

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha