تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزہ نیوز ایجنسی|
1۔ پسرِ مرجانہ کے دربار میں اسیرانِ کربلا
12 محرم 61 ہجری کو اسیرانِ کربلا کو شہدائے کربلا کے مقدس سروں کے ہمراہ کوفہ کی گلیوں اور بازاروں میں پھرایا گیا۔ اگلے روز، یعنی 13 محرم (61 ہجری) کو پسر مرجانہ عبیداللہ بن زیاد نے حکم دیا کہ اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کے مقدس قافلے کو دارالامارہ میں اس کے دربار میں پیش کیا جائے۔
اس نے یہ بھی حکم دیا کہ حضرت سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام کا سرِ مبارک ایک طشت میں اس کے سامنے رکھا جائے، تاکہ وہ اہلِ بیتِ رسولؐ کے روبرو اپنے باطل اقتدار، تکبر اور سفاکی کا مظاہرہ کر سکے۔
جب اسیرانِ کربلا، جن میں حضرت امام زین العابدین علیہ السلام، حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا اور دیگر مخدراتِ اہلِ بیت علیہم السلام شامل تھیں، پابندِ سلاسل دارالامارہ میں داخل ہوئے تو ان کی نگاہ آقا حضرت سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام کے مقدس سرِ مبارک پر پڑی، جو ایک طشت میں ابنِ زیاد کے سامنے رکھا ہوا تھا۔ یہ منظر اہلِ بیت علیہم السلام کے لئے انتہائی جانکاہ اور دل سوز تھا، مگر صبر و استقامت کا پہاڑ بنے یہ نفوسِ قدسیہ اپنے عظیم مقصد پر ثابت قدم رہے۔
ابنِ زیاد کے کارندوں نے اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کو اس ظالم اور سنگ دل حاکم کے سامنے کھڑا کر دیا۔ وہ نہ صرف حضرت امام حسین علیہ السلام کے مقدس سرِ مبارک کی بے حرمتی کر رہا تھا بلکہ خاندانِ رسالتؐ کی شان میں بھی مسلسل گستاخی اور جسارت کا ارتکاب کر رہا تھا۔
اسی موقع پر حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا نے صبر، بصیرت، شجاعت اور حکمت کا ایسا بے مثال مظاہرہ فرمایا جس نے ابنِ زیاد کے غرور، تکبر اور باطل اقتدار کی بنیادیں ہلا دیں۔ آپؑ کے پُرعزم کلمات نے ثابت کر دیا کہ حق کو ظلم و جبر سے دبایا نہیں جا سکتا، اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی عزت و عظمت قیامت تک سربلند رہے گی۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے نہایت جلال، وقار اور جرأت کے ساتھ ایسا دندان شکن جواب دیا کہ ابنِ زیاد خود رسوا ہو گیا اور اس کے ظلم و ستم کا چہرہ سب کے سامنے بے نقاب ہو گیا۔
"ما رأيتُ إلا جميلاً" — دربارِ ابنِ زیاد میں حضرت زینبؑ کا تاریخ ساز جواب
حضرت زینب سلام اللہ علیہا خواتین کے ہمراہ دربار میں داخل ہوئیں۔ جب آپؑ تشریف فرما ہوئیں تو دیگر خواتین اور بچے احترام و عقیدت کے ساتھ آپؑ کے گرد جمع ہو گئے۔
عبیداللہ بن زیاد نے اس باوقار خاتون کی بے اعتنائی دیکھی، مگر وہ انہیں پہچان نہ سکا۔ اس نے دریافت کیا: "یہ خاتون کون ہیں جو سب سے الگ بیٹھی ہیں اور دوسری عورتیں ان کے گرد جمع ہیں؟"
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اس کے سوال کا کوئی جواب نہ دیا۔ اس نے دوبارہ پوچھا تو اس کی ایک کنیز، جو حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو پہچانتی تھی، بولی: "یہ رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نواسی، امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی صاحبزادی، حضرت زینب بنتِ علیؑ ہیں۔"
ابنِ زیاد نے نہایت گستاخی سے کہا: "تمام تعریف اس خدا کے لئے ہے جس نے تمہارے خاندان کو رسوا کیا، تمہیں قتل کیا اور تمہارے دعووں کو جھوٹا ثابت کر دیا۔"
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے نہایت وقار، اعتماد اور شجاعت کے ساتھ فرمایا: "تمام حمد اس اللہ کے لئے ہے جس نے ہمیں اپنے رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ عزت بخشی، ہمیں ہر رجس و پلیدی سے پاک فرمایا۔ رسوا صرف فاسق ہوتا ہے اور جھوٹا صرف بدکار ہوتا ہے، اور وہ ہم نہیں بلکہ تم اور تمہارے پیروکار ہیں۔"
ابنِ زیاد نے کہا: "دیکھا، اللہ نے تمہارے خاندان کے ساتھ کیا کیا؟"
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے وہ جواب دیا جو رہتی دنیا تک حق و باطل کے معرکے کی ترجمانی کرتا رہے گا: "ما رأيتُ إلا جميلاً۔" (میں نے حُسن و جمال کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔)
پھر فرمایا: "یہ وہ پاکیزہ نفوس تھے جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے شہادت مقدر فرما دی تھی، لہٰذا وہ اپنے مقتل کی طرف شوق سے روانہ ہوئے۔ عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں اور انہیں ایک ہی مقام پر جمع کرے گا، جہاں وہ تمہارے خلاف بارگاہِ الٰہی میں دعویٰ کریں گے۔ اس وقت دیکھ لینا کہ کامیاب اور سرخرو کون ہے۔ اے ابنِ مرجانہ! تیری ماں تیرے سوگ میں بیٹھے۔"
اپنی ماں کی نسبت سن کر ابنِ زیاد غضب ناک ہو گیا اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو قتل کرنے کا ارادہ کیا، مگر مجلس میں موجود ایک شخص نے اسے اس اقدام سے روک دیا۔
اس کے بعد اس نے کہا: "اللہ نے میرے دل کو تمہارے ۔۔۔۔۔۔
بھائی حسینؑ، ان کے اہلِ خاندان اور ان کے ساتھیوں کو قتل کر کے ٹھنڈا کر دیا۔"
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے فرمایا: "خدا کی قسم! تو نے ہمارے بزرگ کو شہید کیا، ہماری شاخیں کاٹ دیں، ہماری جڑیں اکھاڑ دیں۔ اگر یہی تیرے دل کی شفا تھی تو یقیناً تو نے اپنی مراد پا لی۔"
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے پُروقار اور مدلل جوابات کے سامنے خود کو بے بس دیکھ کر ابنِ زیاد نے ایک اور گستاخی کرتے ہوئے کہا: "یہ بھی اپنے باپ (امیر المومنین امام) علی (علیہ السلام) کی طرح فصیح و بلیغ گفتگو کرتی ہے۔ خدا کی قسم! اس کا باپ بھی نہایت فصاحت کے ساتھ سجع آمیز گفتگو کیا کرتا تھا۔"
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے نہایت حکمت اور وقار کے ساتھ فرمایا: "غم سے نڈھال عورت کا سجع و قافیہ سے کیا تعلق؟"
اس تاریخی مکالمے نے ثابت کر دیا کہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھا ہوا ظالم اگرچہ ظاہری قوت رکھتا تھا، لیکن اخلاقی، روحانی اور فکری میدان میں شکست اسی کا مقدر تھی۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے صبر، بصیرت اور بے مثال جرأت کے ذریعہ کربلا کے پیغام کو ہمیشہ کے لئے زندہ کر دیا۔
2۔ اسیران کربلا زندان کوفہ میں
پسر مرجانہ عبید اللہ بن زیاد بن ابیہ لعنۃ اللہ علیہ کے دربار کے مذکورہ مکالمہ کے بعد اسیران کربلا کو کوفہ کے زندان میں منتقل کر دیا گیا۔
3۔ خبر شہادت حسینی کی اشاعت
پسر مرجانہ عبید اللہ بن زیاد بن ابیہ لعنۃ اللہ علیہ نے شام اور مدینہ خط بھیج کر شہادت حسینی کی خبر بھیجی۔
4۔ حضرت عبداللہ بن عفیف اَزدی رضوان اللہ تعالی علیہ کی شہادت
واقعۂ کربلا کے بعد ظلمِ اموی کے خلاف پہلی علانیہ للکار
واقعۂ کربلا کے بعد عبیداللہ بن زیاد کے ظلم و استبداد کے خلاف سب سے پہلی علانیہ، جرأت مندانہ اور حق پر مبنی آواز حضرت عبداللہ بن عفیف اَزدی رضوان اللہ تعالی علیہ نے بلند کی۔ آپ کوفہ کے ان ممتاز اور وفادار شیعوں میں شمار ہوتے تھے جو امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام سے والہانہ عقیدت رکھتے تھے۔ زہد و عبادت، تقویٰ، شجاعت اور حق گوئی آپ کی نمایاں صفات تھیں۔ ظلم کے سامنے خاموش رہنا آپ کی فطرت میں نہ تھا، اسی لئے واقعۂ کربلا کے بعد جب ہر طرف خوف و ہراس کی فضا طاری تھی، آپ نے جان کی پروا کئے بغیر حق کا علم بلند کیا۔
حضرت عبداللہ بن عفیف اَزدی رضوان اللہ تعالی علیہ قبیلۂ اَزد کی شاخ غامد سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے مخلص صحابی اور جان نثار تھے۔ جنگِ جمل میں آپ نے حضرت علی علیہ السلام کی جانب سے بھرپور حصہ لیا، جہاں آپ کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی۔ بعد ازاں جنگِ صفین میں دوسری آنکھ بھی جاتی رہی، جس کے نتیجے میں آپ مکمل طور پر نابینا ہو گئے۔ لیکن بینائی سے محروم ہونے کے باوجود آپ کی بصیرتِ ایمانی، حق شناسی اور جرأتِ اظہار میں ذرہ برابر بھی کمی نہ آئی۔
آپ کا معمول تھا کہ روزانہ مسجدِ اعظم کوفہ میں حاضر ہوتے، طویل وقت نماز، تلاوتِ قرآن، ذکرِ الٰہی اور عبادت میں گزارتے، پھر اپنے گھر واپس تشریف لے جاتے۔ اہلِ کوفہ آپ کو ایک عابد، زاہد، پارسا اور بے باک شخصیت کے طور پر جانتے تھے۔
واقعۂ عاشورا کے بعد جب امام حسین علیہ السلام، آپ کے اہلِ بیتؑ اور وفادار اصحاب کی شہادت کی خبر پورے کوفہ میں پھیل گئی، تو شہر پر خوف اور سناٹے کی کیفیت طاری تھی۔ ابنِ زیاد اپنے ظلم پر فخر کر رہا تھا اور یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ اب کوئی شخص اس کے خلاف زبان کھولنے کی جرأت نہیں کرے گا۔
اسی دوران ایک روز مسجدِ اعظم کوفہ میں نمازِ جماعت کے لئے لوگ جمع تھے۔ عبیداللہ بن زیاد منبر پر چڑھا اور اپنی تقریر میں نہایت گستاخانہ اور تکبر آمیز انداز میں کہا: "تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے حق کو غالب کیا، امیرالمؤمنین یزید اور اس کے پیروکاروں کو فتح عطا کی، اور حسین بن علیؑ اور ان کے ساتھیوں کو ہلاک کر دیا۔"
یہ الفاظ سن کر مسجد میں سناٹا چھا گیا۔ لوگ خوف کے مارے خاموش رہے، مگر حضرت عبداللہ بن عفیف اَزدی رضوان اللہ تعالی علیہ کا ضمیر یہ منظر برداشت نہ کر سکا۔ اگرچہ آپ نابینا تھے، لیکن بصیرت کی آنکھ روشن تھی۔ آپ فوراً اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے اور پورے مجمع کے سامنے ابنِ زیاد کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: "اے مرجانہ کے بیٹے! جھوٹا تو ہے، تیرا باپ بھی جھوٹا تھا، اور وہ شخص بھی جھوٹا ہے جس نے تجھے کوفہ کا حاکم بنایا، نیز اس کا باپ بھی جھوٹا تھا۔ کیا تم رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد کو قتل کرتے ہو اور پھر اہلِ صدق (سچوں) کی سی باتیں کرتے ہو؟"
یہ الفاظ بجلی بن کر ابنِ زیاد پر گرے۔ اسے ہرگز توقع نہ تھی کہ خوف و دہشت کے اس ماحول میں کوئی شخص اس کے سامنے اس بے باکی سے لب کشائی کرے گا۔ اس نے غصہ سے کانپتے ہوئے بلند آواز میں کہا: "یہ شخص کون ہے جس نے یہ بات کہی؟"
حضرت عبداللہ بن عفیف رضوان اللہ تعالی علیہ نے پوری استقامت کے ساتھ فرمایا: "میں ہوں، اے خدا کے دشمن! تو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان پاکیزہ اولاد کو قتل کرتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی آلودگی سے پاک قرار دیا ہے، اور پھر اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے؟ افسوس! مہاجرین و انصار کی اولاد کہاں ہے، جو اس ناپاک سے انتقام لے جس پر رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے، اس کے باپ سمیت، لعنت فرمائی تھی!"
یہ تاریخی احتجاج واقعۂ کربلا کے بعد ظلمِ اموی کے خلاف پہلی علانیہ للکار تھا۔ اس نے کوفہ کی خاموش فضا میں حق کی ایسی گونج پیدا کی جسے ابنِ زیاد اپنی پوری طاقت کے باوجود دبا نہ سکا۔
حضرت عبداللہ بن عفیف اَزدی رضوان اللہ تعالی علیہ کی للکار سن کر عبیداللہ بن زیاد کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا، اس کی گردن کی رگیں تن گئیں اور وہ چیخ کر بولا: "اس شخص کو فوراً میرے سامنے حاضر کرو!"
ابھی حکم صادر ہی ہوا تھا کہ سپاہی حضرت عبداللہ رضوان اللہ تعالی علیہ کی طرف لپکے۔ اس موقع پر آپؒ نے اپنے قبیلۂ اَزد کا معروف شعار "یا مبرور" بلند کیا۔ یہ آواز سنتے ہی قبیلۂ اَزد کے افراد، جو مجلس میں موجود تھے، فوراً متوجہ ہوئے۔
وہاں موجود عبدالرحمن بن مخنف نے حضرت عبداللہ رضوان اللہ تعالی علیہ سے کہا: "افسوس! تم نے اپنے ساتھ اپنی پوری قوم کو بھی مصیبت میں ڈال دیا۔"
اس زمانے میں کوفہ میں قبیلۂ اَزد کے تقریباً سات سو جنگجو آباد تھے۔ جیسے ہی انہیں معلوم ہوا کہ ابنِ زیاد حضرت عبداللہ رضوان اللہ تعالی علیہ کو گرفتار کرنا چاہتا ہے، ان کے غیرت مند نوجوان آگے بڑھے، سپاہیوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا اور حضرت عبداللہ رضوان اللہ تعالی علیہ کو بحفاظت ان کے گھر پہنچا دیا۔
یہ منظر ابنِ زیاد کے لئے انتہائی ذلت آمیز تھا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے ایک نابینا بزرگ کو اس کے اپنے سپاہیوں سے چھڑا لیا گیا، مگر وہ کچھ نہ کر سکا۔ اس نے شدید غصے میں دوبارہ حکم دیا: "جاؤ! اس نابینا اَزدی کو، جس کا دل بھی اللہ نے اس کی آنکھوں کی طرح اندھا کر دیا ہے، گرفتار کر کے میرے پاس لاؤ۔"
جب یہ خبر قبیلۂ اَزد تک پہنچی تو ان کے افراد دوبارہ جمع ہو گئے۔ ان کی حمایت میں یمنی قبائل بھی میدان میں آ گئے۔ سب نے عزم کیا کہ حضرت عبداللہ بن عفیف رضوان اللہ تعالی علیہ کو ہر قیمت پر ابنِ زیاد کے ظلم سے بچایا جائے گا۔
دوسری طرف جب ابنِ زیاد کو معلوم ہوا کہ اَزد اور دوسرے یمنی قبائل مزاحمت کے لئے تیار ہیں تو اس نے محمد بن اشعث کی قیادت میں قبیلۂ مُضَر کے جنگجوؤں کو ان کے مقابلے کے لئے بھیج دیا۔
جلد ہی دونوں گروہوں کے درمیان سخت جھڑپ شروع ہو گئی۔ تلواریں چلیں، نیزے بلند ہوئے اور کئی افراد زخمی اور ہلاک ہوئے۔ اگرچہ اَزد کے افراد نے بڑی بہادری سے مقابلہ کیا، لیکن سرکاری لشکر کی تعداد زیادہ تھی اور وہ مسلسل کمک حاصل کر رہا تھا۔
آخرکار ابنِ زیاد کے سپاہی حضرت عبداللہ بن عفیف رضوان اللہ تعالی علیہ کے گھر تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے گھر کا محاصرہ کر لیا اور دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو گئے۔
گھر کے اندر حضرت عبداللہ بن عفیف رضوان اللہ تعالی علیہ کی صاحبزادی نے جب شور و غل سنا تو گھبرا کر عرض کیا: "بابا جان! دشمن گھر میں داخل ہو چکا ہے، وہ آپ تک پہنچنے والا ہے، ہوشیار رہیے!"
حضرت عبداللہ بن عفیف رضوان اللہ تعالی علیہ نے نہایت اطمینان اور استقامت کے ساتھ فرمایا: "بیٹی! گھبراؤ نہیں، میری تلوار مجھے دے دو۔"
بیٹی نے فوراً تلوار آپؒ کے ہاتھ میں دے دی۔ ایک طرف نابینا باپ تھا اور دوسری طرف بیٹی، جو دشمن کی نقل و حرکت سے انہیں آگاہ کر رہی تھی۔ باپ اور بیٹی کا یہ ایمان افروز منظر تاریخِ اسلام میں وفا، شجاعت اور حق پر استقامت کی روشن مثال بن گیا۔
حضرت عبداللہ بن عفیف اَزدی رضوان اللہ تعالی علیہ نے تلوار ہاتھ میں لی اور دشمن کے مقابل ڈٹ گئے۔ اگرچہ آپ دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم تھے، لیکن ایمان کی روشنی، حق کی قوت اور شجاعتِ علوی سے سرشار تھے۔ آپ کی صاحبزادی دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھیں اور ہر لمحہ اپنے والد کو آگاہ کر رہی تھیں: "بابا جان! دشمن دائیں جانب سے آ رہا ہے… اب بائیں طرف سے حملہ آور ہوا ہے… اب سامنے سے بڑھ رہا ہے۔"
حضرت عبداللہ بن عفیف رضوان اللہ تعالی علیہ ہر سمت سے آنے والے حملہ آوروں کا مردانہ وار مقابلہ کرتے اور انہیں پیچھے دھکیل دیتے۔ کوئی سپاہی آسانی سے آپ کے قریب آنے کی جرأت نہ کر سکا۔
اس دوران آپؒ نے رجز پڑھتے ہوئے فرمایا:
"أنا ابنُ ذي الفضلِ عفيفٍ الطاهرِ
عفيفٌ شيخي وابنُ أمِّ عامرِ
كمْ فارسٍ من جمعِكمْ وحاسرِ
وبطلٍ صرعتُهُ مُغادرِ
(میں ایک صاحبِ فضیلت اور پاکیزہ انسان کا بیٹا ہوں۔ میرا باپ عفیف اور میری والدہ اُمِّ عامر ہیں۔ تمہارے کتنے ہی زرہ پوش اور بے زرہ بہادروں کو میں میدانِ جنگ میں پچھاڑ چکا ہوں۔)
یہ منظر دیکھ کر آپؒ کی صاحبزادی بے اختیار بول اٹھیں: "اے میرے بابا! کاش میں مرد ہوتی تو آپ کے شانہ بشانہ ان بدبختوں سے جنگ کرتی، جو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عترتِ طاہرہؑ کے قاتل ہیں۔"
دشمن مسلسل چاروں طرف سے حملے کرتا رہا، مگر حضرت عبداللہ بن عفیف رضوان اللہ تعالی علیہ ثابت قدمی سے مقابلہ کرتے رہے۔ جب بھی کوئی سپاہی قریب آتا، آپؒ اس پر ایسی ضرب لگاتے کہ وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو جاتا۔ بیٹی برابر دشمن کی سمت بتاتی رہیں اور آپؒ اسی سمت تلوار کا وار کرتے۔
آخرکار ابنِ زیاد کے سپاہیوں نے تعداد کے زور پر گھر کا مکمل محاصرہ کر لیا۔ انہوں نے ہر طرف سے یکبارگی حملہ کر دیا۔ اس موقع پر حضرت عبداللہ بن عفیف رضوان اللہ تعالی علیہ نے نہایت حسرت کے ساتھ یہ اشعار پڑھے:
"أقسمُ لو يُفسَحُ لي عن بصري
ضاقَ عليكم موردي ومصدري"
(خدا کی قسم! اگر میری بینائی سلامت ہوتی تو تمہارے لئے مجھ تک پہنچنے کا کوئی راستہ باقی نہ رہتا۔)
بعض تاریخی کتابوں، خصوصاً ناسخ التواریخ میں اس موقع پر آپؒ کے مزید اشعار بھی نقل ہوئے ہیں، جن کا مفہوم یہ ہے:
"آج میں اپنے دل کی تپش بجھا دیتا، اور اگر تم ایک ایک کر کے بھی میرے مقابل آتے تو تم سب کو ہلاک کر دیتا۔ افسوس یزید اور ابنِ زیاد پر! اس دن ان کا کیا حال ہو گا جب اللہ تعالیٰ حاکم، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدعی اور امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام ان کے خصم (مخالف فریق) ہوں گے۔"
بالآخر دشمن نے ہر طرف سے حملہ کر کے حضرت عبداللہ بن عفیف رضوان اللہ تعالی علیہ کو قابو میں کر لیا۔ آپؒ کی تلوار چھین لی گئی، ہاتھ باندھ دیے گئے اور اس مردِ مجاہد کو گرفتار کر کے عبیداللہ بن زیاد کے دربار میں لے جایا گیا۔
اس طرح حق گوئی، شجاعت اور استقامت کا ایک عظیم باب اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوا، مگر حضرت عبداللہ بن عفیف اَزدیؒ کے عزم و حوصلے میں ذرہ برابر بھی لغزش نہ آئی۔
جب حضرت عبداللہ بن عفیف اَزدی رضوان اللہ تعالی علیہ کو گرفتار کرکے عبیداللہ بن زیاد کے دربار میں پیش کیا گیا تو ابنِ زیاد نے غرور اور تمسخر کے انداز میں کہا: "الحمد للہ! اللہ کا شکر ہے جس نے تجھے ذلیل و رسوا کر دیا۔"
حضرت عبداللہ بن عفیف رضوان اللہ تعالی علیہ نے نہایت اطمینان اور استقامت کے ساتھ جواب دیا: "اے خدا کے دشمن! اللہ نے مجھے کس بات میں ذلیل کیا ہے؟ خدا کی قسم! اگر میری بینائی سلامت ہوتی تو تمہارے لئے مجھ تک پہنچنا ممکن نہ ہوتا۔"
پھر آپؒ نے اپنے پہلے کہے ہوئے اشعار دہرائے: "خدا کی قسم! اگر میری آنکھیں سلامت ہوتیں تو تمہارے لئے میرے پاس آنے کا ہر راستہ تنگ ہو جاتا۔"
ابنِ زیاد نے گفتگو کا رخ بدلتے ہوئے پوچھا: "عثمان کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟"
حضرت عبداللہ بن عفیف رضوان اللہ تعالی علیہ نے نہایت بے خوفی سے فرمایا: "اے بنیِ علاج کے غلام! اے مرجانہ کے بیٹے! تجھے عثمان سے کیا سروکار؟ انہوں نے اچھا کیا یا برا، اصلاح کی یا فساد، اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کرے گا، کیونکہ وہ اپنے بندوں کا عادل حاکم ہے۔ اگر تجھے سوال کرنا ہی ہے تو اپنے بارے میں، اپنے باپ کے بارے میں، یزید اور اس کے باپ کے بارے میں پوچھ۔"
یہ جواب سن کر ابنِ زیاد کا غصہ انتہا کو پہنچ گیا۔ اس نے کہا: "اب میں تجھ سے کوئی اور بات نہیں کروں گا، یہاں تک کہ تجھے قتل کر دوں۔"
حضرت عبداللہ بن عفیف رضوان اللہ تعالی علیہ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: "میں تیری پیدائش سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کرتا تھا کہ مجھے اس کے سب سے زیادہ ملعون اور بدبخت بندے کے ہاتھوں شہادت نصیب ہو۔ جب میری دونوں آنکھیں جاتی رہیں تو مجھے گمان ہوا کہ شاید میری یہ آرزو پوری نہ ہو سکے گی، لیکن آج میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے میری دیرینہ دعا قبول فرما لی اور مجھے میری آرزو تک پہنچا دیا۔"
اس کے بعد حضرت عبداللہ بن عفیف رضوان اللہ تعالی علیہ نے نہایت فصاحت و بلاغت کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کی مدح، اہلِ بیت علیہم السلام کی عظمت، ان کے خونِ ناحق کے انتقام کی دعوت اور بنی اُمیہ کی مذمت میں انتیس اشعار پر مشتمل ایک مؤثر قصیدہ پڑھا۔ روایت ہے کہ قصیدے کا ہر شعر ابنِ زیاد کے دل پر تیر کی مانند اثر کر رہا تھا، مگر وہ خاموشی سے سنتا رہا۔
جب قصیدہ مکمل ہوا تو ابنِ زیاد نے غضب ناک ہو کر حکم دیا: "اس کا سر قلم کر دو!"
چنانچہ اس مردِ حق، عاشقِ اہلِ بیت علیہم السلام اور جانبازِ علوی کو شہید کر دیا گیا۔ بعض تاریخی روایات کے مطابق آپؒ کا سرِ مبارک تن سے جدا کرنے کے بعد آپ کے جسدِ اطہر کو سبخہ نامی مقام پر لٹکا دیا گیا، جبکہ بعض روایات میں ہے کہ آپ کے جسدِ مبارک کو مسجدِ کوفہ میں سولی پر آویزاں کیا گیا، تاکہ لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کیا جا سکے۔
منتخبِ طریحی میں ایک عجیب واقعہ بھی نقل ہوا ہے کہ وہاں موجود ایک شخص نے بیان کیا: "حضرت عبداللہ بن عفیف رضوان اللہ تعالی علیہ کی شہادت کے فوراً بعد اچانک ابنِ زیاد کے محل سے آگ کے شعلے بلند ہوئے۔ یہ منظر دیکھ کر ابنِ زیاد سخت خوف زدہ ہو گیا، اپنے تخت سے نیچے اتر آیا اور محل کے اندر اپنے ایک محفوظ کمرے میں جا چھپا۔"
حضرت عبداللہ بن عفیف اَزدی رضوان اللہ تعالی علیہ کی شہادت واقعۂ کربلا کے بعد ظلمِ اموی کے خلاف پہلی علانیہ مزاحمت تھی۔ جب پورا کوفہ خوف کے سائے میں خاموش تھا، اس وقت ایک نابینا، مگر صاحبِ بصیرت مؤمن نے یزیدی اقتدار کے سامنے کلمۂ حق بلند کیا۔ اگرچہ بظاہر ابنِ زیاد نے انہیں شہید کر دیا، لیکن حقیقت میں وہ حق و باطل کی تاریخ میں ہمیشہ کے لئے امر ہو گئے۔
ان کی یہ عظیم قربانی بعد میں جنم لینے والی توابین اور مختار ثقفی کی تحریکوں کے لئے حوصلہ، بیداری اور مزاحمت کا سرچشمہ بنی۔ حضرت عبداللہ بن عفیف اَزدی رضوان اللہ تعالی علیہ نے اپنے خون سے یہ پیغام ثبت کر دیا کہ اہلِ بیتِ رسولؐ کی محبت اور حق کی حمایت میں بلند ہونے والی آواز کو تلوار سے خاموش تو کیا جا سکتا ہے، مگر اسے تاریخ کے صفحات سے کبھی مٹایا نہیں جا سکتا۔
سلام ہو حضرت عبداللہ بن عفیف اَزدیؒ پر، جنہوں نے حق کی گواہی دیتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا اور رہتی دنیا تک اہلِ ایمان کے لیے جرأت، استقامت اور وفاداری کی روشن مثال بن گئے۔









آپ کا تبصرہ