تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزہ نیوز ایجنسی | 10 محرم الحرام 61 ہجری اسلامی تاریخ کا وہ عظیم اور فیصلہ کن دن ہے جس نے حق و باطل کے درمیان ایک ایسی روشن حدِ فاصل قائم کر دی جو قیامت تک انسانیت کی رہنمائی کرتی رہے گی۔ سرزمینِ کربلا میں نواسۂ رسولؐ، حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپؑ کے وفادار اصحاب نے ظلم، جبر اور باطل کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کے بجائے شہادت کو گلے لگا کر عزت، حریت، استقامت اور حق پرستی کا ایسا درس دیا جو ہر دور کے آزاد انسانوں کے لئے مشعلِ راہ ہے۔
واقعۂ کربلا محض ایک جنگ یا سیاسی کشمکش کا نام نہیں، بلکہ یہ دینِ محمدیؐ کی بقا، انسانی اقدار کے تحفظ، عدل و انصاف کے قیام اور حق و صداقت کی سربلندی کے لئے دی جانے والی عظیم قربانیوں کی لازوال داستان ہے۔
شبِ عاشورا: عبادت، وفاداری اور یقین کی رات
نو محرم کی شام جب عمر بن سعد کی فوج نے حملے کی تیاریاں مکمل کر لیں تو امام حسین علیہ السلام نے ایک رات کی مہلت طلب فرمائی۔ آپؑ نے ارشاد فرمایا کہ آپؑ نماز، دعا، تلاوتِ قرآن اور مناجاتِ الٰہی کو بے حد پسند کرتے ہیں اور اس آخری شب کو اپنے رب کی عبادت میں بسر کرنا چاہتے ہیں۔
شبِ عاشورا کربلا کی تاریخ کی روحانی ترین راتوں میں شمار ہوتی ہے۔ خیمہ گاہِ حسینیؑ میں پوری رات تلاوتِ قرآن، ذکرِ خدا، استغفار، دعا اور مناجات کی صدائیں گونجتی رہیں۔ اصحابِ امامؑ نہایت اطمینان، یقین اور استقامت کے ساتھ اپنے مولا کے گرد جمع رہے اور آنے والے امتحان کا خندہ پیشانی سے استقبال کیا۔
اسی شب امام حسین علیہ السلام نے اپنے اصحاب اور اہلِ بیتؑ کو جمع کرکے فرمایا: "میں اپنے اصحاب سے بڑھ کر وفادار اور بہتر اصحاب کو نہیں جانتا اور نہ اپنے اہلِ بیتؑ سے زیادہ نیک اور صلۂ رحمی کرنے والے اہل بیت دیکھے ہیں۔"
اس کے بعد آپؑ نے سب کو اجازت دی کہ اگر کوئی جانا چاہے تو چلا جائے، کیونکہ دشمن صرف آپؑ کے خون کا طلبگار ہے۔ لیکن حضرت عباس علیہ السلام، مسلم بن عوسجہ علیہ السلام، حبیب بن مظاہر علیہ السلام، زہیر بن قین علیہ السلام، بریر بن خضیر علیہ السلام، عابس شاکری علیہ السلام اور دیگر جان نثاروں نے اعلان کیا کہ وہ آخری سانس تک امامؑ کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔
صبحِ عاشورا: دعا، توکل اور معرکۂ حق کی تیاری
عاشورا کی صبح امام حسین علیہ السلام نے نمازِ فجر ادا فرمائی اور بارگاہِ الٰہی میں دعا کرتے ہوئے عرض کیا: "اَللّٰهُمَّ اَنْتَ ثِقَتِی فِیْ كُلِّ كَرْبٍ وَرَجَائِی فِیْ كُلِّ شِدَّةٍ..."
اس کے بعد آپؑ نے اپنے مختصر لشکر کی صف بندی فرمائی۔ حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کو علمِ لشکر عطا کیا، زہیر بن قین علیہ السلام کو میمنہ اور حبیب بن مظاہر علیہ السلام کو میسرہ کا سالار مقرر فرمایا۔
دوسری طرف عمر بن سعد نے اپنے وسیع لشکر کو مختلف دستوں میں تقسیم کیا۔ یوں حق اور باطل کے درمیان تاریخ ساز معرکے کا آغاز ہوا۔
اصحابِ حسینی کی وفاداری اور عظیم قربانیاں
جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی اصحابِ امام حسین علیہ السلام یکے بعد دیگرے میدانِ کارزار میں اترنے لگے۔ ہر مجاہد امامؑ سے اجازت لیتا، رخصت ہوتا اور اپنی جان راہِ خدا میں نچھاور کر دیتا۔
بریر بن خضیر ہمدانی علیہ السلام، نافع بن ہلال جملی علیہ السلام، جون بن حوی علیہ السلام، حنظلہ بن اسعد شبامی علیہ السلام، عبدالرحمن ارحبی علیہ السلام، عمرو بن قرظہ انصاری علیہ السلام، عابس بن ابی شبیب شاکری علیہ السلام اور دیگر اصحاب نے شجاعت، وفاداری اور ایثار کی ایسی مثالیں قائم کیں جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی۔
نمازِ ظہر کے وقت سعید و زہیر علیہما السلام نے اپنے جسموں کو امام حسین علیہ السلام کے لئے ڈھال بنا دیا۔ دشمن کے تیر مسلسل ان کے جسموں پر برستے رہے مگر انہوں نے اپنے مولا تک کوئی تیر نہ پہنچنے دیا۔
حر بن یزید ریاحی علیہ السلام: توبہ سے سعادت تک
حر بن یزید ریاحی علیہ السلام واقعۂ کربلا کی ان عظیم شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے آخری لمحوں میں حق کو پہچان لیا۔ وہ ندامت اور شرمندگی کے عالم میں امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: "کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟"
امام حسین علیہ السلام نے شفقت سے فرمایا: "ہاں، اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ قبول فرمائے گا۔"
حر علیہ السلام نے مردانہ وار جنگ کی اور جامِ شہادت نوش کیا۔ امام حسین علیہ السلام ان کے سرہانے تشریف لائے اور فرمایا: "تم دنیا و آخرت میں آزاد ہو، جیسا کہ تمہاری ماں نے تمہارا نام حر رکھا تھا۔"
جوانان بنی ہاشم کی عظیم قربانیاں
جب اصحاب کی اکثریت شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہو گئی تو بنی ہاشم کے نوجوان میدان میں اترے۔ حضرت علی اکبر علیہ السلام نے اپنے خون سے وفا اور جوانمردی کی نئی تاریخ رقم کی۔
حضرت قاسم بن حسن علیہما السلام، حضرت عبداللہ بن حسن علیہما السلام، حضرت جعفر بن علی علیہما السلام، حضرت عثمان بن علی علیہما السلام اور دیگر علوی جوان یکے بعد دیگرے راہِ خدا میں قربان ہوتے گئے۔
امام حسین علیہ السلام ہر شہید کے جسدِ مبارک پر حاضر ہوتے، انہیں خیموں تک پہنچاتے اور صبر و رضا کا ایسا مظاہرہ فرماتے جس کی مثال تاریخ میں نایاب ہے۔
حضرت عباس علیہ السلام: وفا کا بلند ترین مینار
کربلا کا تذکرہ حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کے بغیر ادھورا ہے۔ جب اہلِ حرم، خصوصاً بچوں کی پیاس ناقابلِ برداشت ہو گئی تو آپؑ فرات کی جانب روانہ ہوئے۔
آپؑ پانی تک پہنچ گئے، مگر جب پانی پینے کا موقع آیا تو تشنہ لب بچوں کی یاد نے آپؑ کو اپنی پیاس بھلا دی۔ آپؑ نے پانی نہ پیا اور مشکیزہ بھر کر خیموں کی طرف روانہ ہوگئے۔
دشمن نے راستے میں حملہ کیا، آپؑ کے دونوں بازو قلم کر دیے گئے، لیکن آپؑ نے وفا کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ بالآخر آپؑ شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوگئے۔
حضرت عباس علیہ السلام کی شہادت پر امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: "الآن انکسر ظهری وقلت حیلتی" (اب میری کمر ٹوٹ گئی اور میری تدبیر ختم ہو گئی۔)
حضرت علی اصغر علیہ السلام: مظلومیت کی انتہا
جب تمام ساتھی شہید ہو چکے اور خیموں میں پیاس شدت اختیار کر چکی تھی تو امام حسین علیہ السلام اپنے شیر خوار فرزند حضرت علی اصغر علیہ السلام کو میدان میں لے آئے۔
آپؑ نے دشمن سے فرمایا کہ اگر مجھ پر رحم نہیں کرتے تو اس معصوم بچے پر رحم کرو۔
لیکن سنگ دلوں نے رحم کے بجائے تیر سے جواب دیا۔ حرملہ کے تیر نے ننھے گلے کو چھلنی کر دیا اور یوں مظلومیت کی تاریخ کا ایک دردناک باب رقم ہوگیا۔
امام حسین علیہ السلام نے اپنے فرزند کا خون ہاتھوں میں لیا اور آسمان کی طرف بلند کرتے ہوئے بارگاہِ الٰہی میں صبر و رضا کا اظہار فرمایا۔
عابس، زہیر، بریر اور نافع علیہم السلام کی بے مثال شجاعت
عابس بن ابی شبیب شاکری علیہ السلام نے ایسی بے مثال جرأت کا مظاہرہ کیا کہ دشمن ان کے مقابل آنے سے خوف کھانے لگا۔ بالآخر انہیں اجتماعی حملے کے ذریعہ شہید کیا گیا۔
زہیر بن قین علیہ السلام نے حق و صداقت کی خاطر عظیم قربانی دی، بریر بن خضیر علیہ السلام نے دشمن پر حجت تمام کی اور نافع بن ہلال علیہ السلام زخمی ہونے کے باوجود آخری سانس تک میدان میں ڈٹے رہے۔
یہ وہ عظیم شخصیات ہیں جنہوں نے وفاداری، ایثار اور شجاعت کے ایسے باب رقم کئے جو تاریخِ انسانیت کا قیمتی سرمایہ ہیں۔
عصرِ عاشورا: تنہائیِ حسینؑ
جب تمام اصحاب اور اہلِ بیتؑ شہید ہو گئے تو امام حسین علیہ السلام تنہا رہ گئے۔ آپؑ نے آخری مرتبہ دشمن کو نصیحت فرمائی، مگر ظلم و عناد نے ان کے دلوں کو سخت کر دیا تھا۔
ہر طرف سے حملے شروع ہوگئے۔ تیروں، نیزوں، تلواروں اور پتھروں کی بارش کے باوجود امام حسین علیہ السلام ثابت قدمی، صبر اور عظمت کا پیکر بنے رہے۔
بالآخر نواسۂ رسولؐ نے راہِ خدا میں اپنی جان قربان کر دی اور یوں تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی مکمل ہوئی۔
اہلِ بیت علیہم السلام کی اسارت اور پیغامِ کربلا کی بقا
شہادتِ امام حسین علیہ السلام کے بعد خیموں کو لوٹا گیا، اہلِ بیت علیہم السلام پر مظالم ڈھائے گئے اور خواتین و بچوں کو اسیر بنا لیا گیا۔
لیکن یہیں سے کربلا کا دوسرا اور اتنا ہی عظیم مرحلہ شروع ہوا۔ حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا اور امام زین العابدین علیہ السلام نے کوفہ اور شام میں ایسے تاریخی خطبات ارشاد فرمائے جنہوں نے یزیدی ظلم و استبداد کو بے نقاب کر دیا اور پیغامِ کربلا کو ہمیشہ کے لئے زندہ کر دیا۔
عاشورا کا ابدی پیغام
حق وقتی طور پر مظلوم ہو سکتا ہے، مگر مغلوب نہیں ہو سکتا، اور باطل وقتی طور پر غالب دکھائی دے سکتا ہے، مگر کامیاب نہیں ہو سکتا۔
امام حسین علیہ السلام نے اپنے خون سے یہ حقیقت ثبت کر دی کہ عزت کی موت، ذلت کی زندگی سے بہتر ہے۔
آج بھی جب ظلم، ناانصافی اور جبر کے خلاف آواز بلند ہوتی ہے تو کربلا کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چودہ صدیاں گزر جانے کے باوجود امام حسین علیہ السلام کا نام حریت، عدالت، استقامت، ایثار اور انسانی وقار کی علامت بنا ہوا ہے۔
واقعۂ کربلا انسانیت کو یہ درس دیتا ہے کہ حق کے لئے قربانی دینا ہی حقیقی کامیابی ہے، اور یہی عاشورا کا ابدی، عالمگیر اور آفاقی پیغام ہے۔









آپ کا تبصرہ