تحریر: مولانا سید امیر حسنین زیدی
حوزہ نیوز ایجنسی| تاریخِ انسانیت میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو زمان و مکان کی حدود سے بلند ہو کر ہمیشہ کے لیے انسانوں کی رہنمائی کا سرچشمہ بن جاتے ہیں۔ واقعۂ کربلا بھی انہی عظیم اور ابدی واقعات میں سے ایک ہے بلکہ بے نظیر ہے۔ کربلا صرف ایک جنگ یا تاریخی سانحہ نہیں، بلکہ اپنے دامن میں عالم انسانیت کے لئے تربیتی پیغامات کی ایک دنیا رکھتی ہے۔ ضرورت ہے کہ زیادہ سے زیادہ واقعۂ کربلا پر غور کیا جائے جتنا غور کیا جائے گا اتنے پیغامات سامنے آتے چلے جائیں گے اگرچہ یہ پیغامات اور تعلیمات بہت زیادہ ہیں، لیکن ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔
خدا پر ایمان اور توکل کی تعلیم
سب سے پہلے امام حسینؑ ہمیں توحید و ایمان اور توکل کی تعلیم دیتے ہوئے نظر آتے ہیں جو آپ کے خطوط، دعاوں اور خطبات میں آسانی سے دیکھے جا سکتے ہیں دعائے عرفہ میں آپ نے فرمایا : مَاذَا وَجَدَ مَنْ فَقَدَكَ وَمَا الَّذِي فَقَدَ مَنْ وَجَدَكَ جس نے تجھے کھو دیا، اس نے کیا پایا اور جس نے تجھے پا لیا، اس نے کیا کھویا ا س کے علاوہ قدم قدم پر ذکر خدا ،میدان جنگ میں اقامۂ نماز وقت آخر سجدہ خالق میں سر رکھنا یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ یہ تمام قربانی توحید کی راہ میں دی جا رہی ہیں امام حسینؑ گویا کربلا سے آواز دے رہے ہیں آو! اس خدا کو پہچانوں اس کی معرفت حاصل کرو جس کے لئے حسینؑ اپنی اور اپنے ساتھیوں کی قربانیاں پیش کر رہا ہے آپ نے مدینہ سے جب سفر کاآغاز کیا تو خدا پر ہی توکل کر تے ہوئے جیسا کہ امامؑ نے مکہ سے نکلتے ہوئے ارشادفرمایا تھا :فمن کان باذلاً فینا مھجتہ موطناً علی لقاء اللّٰہ نفسہ فلیرحل معنا فانی راحل مصبحاً ان شاء اللّٰہ۔جو بھی اپنے خون کو ہماری راہ میں بہانا چاہتا ہے اور خدا سے ملاقات کا مشتاق ہے وہ میرے ساتھ چلے،میں کل صبح سفر پر نکل رہا ہوں۔
آپ نے کبھی بھی اپنے اصحاب پر توکل نہیں کیا اور شب عاشور چراغ بجھا کر فرمایا کہ’جو جانا چاہتا ہے وہ چلا جائے ‘مدینہ سے نکلتے ہوئے جس نے بھی آپ کو کوئی رائے پیش کی کہ آپ کوفہ کی طرف تشریف نہ لے جا ئیں بلکہ حجاز یا کسی اورمقام کی طرف ہجرت کریں تو آپ نے خدا پر توکل کرتے ہوئے کوفہ کا سفر اختیار کیا ۔ مدینہ سے نکلتے ہوئے اپنے بھائی محمد حنفیہ سےقرآن کی آیت تلاوت کرتے ہوئے فرمایا : وَمَا تَوْفِيقِي اِلَّا بِاللّٰهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ ۔ میری توفیق خدا سے ہے اور میں اسی پر توکل کرتا ہوں اور وہی میری پناہ گاہ ہے۔
وہ تمام خطبات جو روز عاشور آپ نے دیئے ان میں یہ جملہ نمایاں طور پر نظر آتا ہے کہ: إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُمْ ۔ میں خدا پر توکل کرتا ہوں جو میرا اور تمہارا پروردگار ہے۔
شبِ عاشور امام حسینؑ اور آپؑ کے اصحاب کے ایمان، توکل اور خدا پر کامل اعتماد کا عظیم ترین مظہر تھی۔ دشمن کی کثیر فوج نے چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا اور اگلے دن یقینی شہادت سامنے تھی، لیکن اس کے باوجود امام حسینؑ اور آپؑ کے جانثار ساتھی کسی طرح کے خوف، اضطراب یا مایوسی کا شکار نہ ہوئے، اس رات خیموں سے تلاوتِ قرآن، ذکرِ الٰہی، دعا اور مناجات کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔ کوئی رکوع و سجود میں مشغول تھا تو کوئی استغفار اور حمدِ خدا میں محو تھا یہ منظر اس حقیقت کا آئینہ دار تھا کہ امام حسینؑ اور آپ کے اصحاب کا اعتماد اور یقین صرف اللہ تعالیٰ پر تھا، شبِ عاشور کا یہ ایمان افروز واقعہ دنیا کے سارے مسلمانوں کو یہ درس دے رہا ہے کہ سچا مؤمن وہی ہوتا ہے جو سخت ترین حالات میں بھی اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے اور حق و صداقت کے راستے سے پیچھے نہیں ہٹتا۔
صبر و استقامت کی تعلیم
واقعۂ کربلا انسانی تاریخ کا ایک ایسا عظیم باب ہے جو ہر دور کے انسان کو صبر، استقامت، ایثار اور قربانی کا درس دیتا ہے۔ امام حسینؑ نے شدید ترین مصائب و آلام کے باوجود جس صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا وہ رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
کربلا میں جب ظلم و جبر کی تمام قوتیں ایک طرف تھیں اور حق کے علمبردار دوسری طرف تب امام حسینؑ نے ہر آزمائش کا ثابت قدمی سے سامنا کیا۔اور صرف آپ نے ہی نہیں بلکہ تمام جوانان بنی ہاشم خصوصاً آپ کی آغوش کے پروردہ حضرت علی اکبرؑ جنہوں نے اپنی جوانی، طاقت اور روشن مستقبل کی تمام امیدوں کو اللہ کی رضا پر قربان کر کے صبر و استقامت کی اعلیٰ مثال قائم کی۔حضرت قاسمؑ ابن حسن نے کربلا میں صبر و استقامت کی ایک درخشاں مثال قائم کی۔ کم عمری کے باوجود آپؑ نے ایسے حوصلے، عزم اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا جو بڑے بڑوں کے لیے باعثِ حیرت ہے۔ جب امام حسینؑ نے آپؑ سے دریافت فرمایا: بیٹے! تمہارے نزدیک موت کیسی ہے؟ تو حضرت قاسمؑ نے جواب دیا: عمو! موت میرے نزدیک شہد سے زیادہ میٹھی ہے۔ یہ جواب اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آپؑ حق کی راہ میں ہر قربانی کے لیے آمادہ تھے اور شہادت کو سعادتِ عظمیٰ سمجھتے تھے۔ حضرت قاسمؑ کا یہ کردار نو جوانوں کو سکھاتا ہے کہ حق و صداقت کی راہ میں عمر کی کمی یا دنیاوی مشکلات رکاوٹ نہیں بنتیں۔ مضبوط ایمان، صبر اور استقامت انسان کو ہر آزمائش میں کامیاب بنا دیتے ہیں۔
اور آپ(امام حسین ؑ) کے بھائی حضرت عباسؑ سب کے سب ایک پہاڑ کی طرح اپنے ارادوں پر ڈٹے رہیں حضرت عباس ؑ نے بھوک اور پیاس کے عالم میں اپنے شانے قلم کراکے جان کا نذانہ راہ حق میں دینا گوارا کیا لیکن باطل قوتوں کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا جبکہ شمر ملعو ن کی طرف سے آپ کو امان دی جا رہی تھی چونکہ شمر کا تعلق قبیلۂ بنی کلاب سے تھا اور حضرت عباسؑ کی والدہ حضرت ام البنینؑ بھی اسی قبیلے سے تعلق رکھتی تھیں اسی رشتہ داری کو بنیاد بنا کر شمرملعون نے کربلا کے میدان میں حضرت عباس اور ان کے تین بھائیوں کو مخاطب کرکے کہا : عباس اور ان کے بھائی کہاں ہیں ؟ تم لوگوں کے لیے امان ہے۔ تم حسینؑ کا ساتھ چھوڑ دو ہم تمہیں قتل نہیں کریں گے۔لیکن حضرت عباسؑ نے اس امان کو سختی سے مسترد کر دیا اور فرمایا:اللہ تجھ پر اور تیری امان پر لعنت کرے! تو ہمیں امان دیتا ہے جبکہ رسولِ خدا ؐکے فرزند کے لیے کوئی امان نہیں؟حضرت عباسؑ کا یہ جواب وفاداری، غیرت، حق شناسی اور صبر و استقامت کی عظیم مثال ہے اور دنیا کے لئے پیغام ہے کہ معرکۂ حق و باطل میں رشتہ داریاں اور آسائشیں نہیں دیکھی جاتی بلکہ حق کو پہچان کر اس کا ساتھ دیا جاتا ہے چاہے اس راہ میں کتنی ہی دشواریاں اور مصائب کیوں نہ برداشت کرنا پڑیں یہاں تک کہ جان ہی کیوں نہ دینی پڑجائے ۔
خاندان عصمت و طہارت کے جوانوں کے علاوہ انصاران حسین نے کربلا میں صبر و استقامت کی ایسی بے سابقہ مثالیں پیش کیں جو رہتی دنیا تک حق کے متلاشیوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ میدانِ کربلا میں جب دشمن کی کثیر فوج نے پانی بند کر دیابھوک و پیاس کا عالم تھا موت کے خطرات ہر طرف سے گھیرے ہوئے تھےاور اپنی شہادت کے بعد اہل و عیال کے بے آسرا رہ جانے کا خوف بھی تھا لیکن یہ تمام چیزیں اصحابِ امام حسینؑ کے عزم و استقامت کو متزلزل نہ کر سکیں ۔ انہوں نے ہر قسم کے ذاتی اور خاندانی مفادات سے بالاتر ہو کر حق و صداقت کا ساتھ دیا اور راہِ خدا میں جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔ جبکہ شبِ عاشور امام حسینؑ نے اصحاب کو اجازت بھی دے دی تھی کہ وہ اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر چلے جائیں، لیکن سب نے یک زبان ہو کر اپنی وفاداری کا اعلان کیا حضرت مسلم بن عوسجہؑ نے عرض کیا کہ اگر مجھے ستر مرتبہ قتل کرکے زندہ کیا جائے تب بھی آپؑ کا ساتھ نہ چھوڑوں گا۔ اسی طرح حضرت زہیر بن قینؑ اور دیگر اصحاب نے بھی جان کی قربانی کو سعادت سمجھا۔اور آخری سانس تک سارے اصحاب حق کی حمایت کرتے ہیں اور آخر میں جان کو راہ حق میں قربان کر دیتے ہیں اور اس طرح کربلا کے جانبازوں نے حق پرستوں کو یہ عظیم پیغام دیا کہ حق کی راہ میں انسان کو ہر آزمائش میں صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے ثابت قدم رہنا چاہیئے اور حق کی خاطر ہر قربانی دینے کے لئے آمادہ رہنا چاہیئے ۔
شبِ عاشور امام حسینؑ نے اپنے اصحاب کو اجازت دی کہ وہ اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر چلے جائیں، لیکن سب نے یک زبان ہو کر اپنی وفاداری کا اعلان کیا۔ حضرت مسلم بن عوسجہؑ نے عرض کیا کہ اگر مجھے ستر مرتبہ قتل کرکے زندہ کیا جائے تب بھی آپؑ کا ساتھ نہ چھوڑوں گا۔ اسی طرح حضرت زہیر بن قینؑ اور دیگر اصحاب نے بھی جان کی قربانی کو سعادت سمجھا،روزِ عاشور جب یہی اصحاب ایک ایک کر کے میدان میں جانے لگیں تو انتہائی صبر، حوصلے اور ثابت قدمی کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا اور راہِ حق میں اپنی جان قربان کر دی۔ ان عظیم ہستیوں نے ثابت کر دیا کہ سچا ایمان انسان کو ہر آزمائش میں ثابت قدم رکھتا ہے اور حق کی خاطر ہر قربانی دینے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔
بس یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ کربلا ایمان و توکل صبر و استقامت، عزم و ہمت اور رضاے الٰہی کی ایک ایسی عظیم درسگاہ ہے جس کی تعلیمات ہر زمانے کے انسان کے لیے سرچشمۂ ہدایت ہیں۔









آپ کا تبصرہ