جمعرات 25 جون 2026 - 18:06
میدانِ کربلا میں اطمینان و خوف کی متضاد کیفیات

حوزہ/اطمینان اور خوف دو متضاد قلبی کیفیات ہیں۔ اطمینان یقین، ایمان اور اعتماد سے پیدا ہونے والا سکونِ قلب ہے، اطمینانِ قلب ایمان کی ایک اہم علامت ہے جب بندہ اللہ رب العزت پر ایمان کامل، توکل اور اعتماد رکھتا ہے تو اس کے دل میں سکون و اطمینان پیدا ہوتا ہے اور وہ مشکلات و مصائب میں بھی ثابت قدم رہتا ہے؛ جبکہ خوف کسی نقصان یا خطرے کے اندیشے سے پیدا ہونے والی اضطرابی کیفیت کا نام ہے۔

تحریر: مولانا سید امیر حسنین زیدی

حوزہ نیوز ایجنسی| اطمینان اور خوف دو متضاد قلبی کیفیات ہیں۔ اطمینان یقین، ایمان اور اعتماد سے پیدا ہونے والا سکونِ قلب ہے، اطمینانِ قلب ایمان کی ایک اہم علامت ہے جب بندہ اللہ رب العزت پر ایمان کامل، توکل اور اعتماد رکھتا ہے تو اس کے دل میں سکون و اطمینان پیدا ہوتا ہے اور وہ مشکلات و مصائب میں بھی ثابت قدم رہتا ہے۔ جبکہ خوف کسی نقصان یا خطرے کے اندیشے سے پیدا ہونے والی اضطرابی کیفیت کا نام ہے۔ واقعۂ کربلا میں یہ دونوں کیفیات ہمیں اپنے عروج پر نظر آتی ہیں جہاں جہاں خدا پر ایمان ،ایقان اور توکل تھا وہاں اطمینان ہی اطمینان دیکھنے کو ملا اور جہاں ایمان کی کمی اور باطل کا احساس تھا وہاں خوف و اضطراب نظر آیا۔

امام حسین ؑ اور ان کے ساتھیوں کا اطمینان

امام حسینؑ اور ان کے اصحاب قلیل تعدداد اور شدید مصائب کے باوجود اطمینانِ قلب کے حامل تھے امام حسینؑ کا یزید کی بیعت سے انکار محض ایک سیاسی فیصلہ نہیں تھا بلکہ حق و باطل کے درمیان ایک واضح موقف تھا۔ آپ جانتے تھے کہ یزید کی بیعت سے انکار کے نتیجے میں جان، مال اور خاندان کو شدید خطرات لاحق ہو ں گے ، لیکن اس کے باوجود آپ نے کسی خوف، مصلحت یا دباؤ کو قبول نہیں کیا جس وقت آٓپ نے انکار بیعت کیا تھا اولاد، بھای اور انصار ساتھ تھے لیکن یہ انکار آخر تک رہا یہاں تک کہ یزیدی اقتدار نے ظلم کی انتہا کر دی، تلوار، پیاس، محاصرہ اور شہادت کے تمام حربے آزمائے گئے، لیکن امام حسینؑ کا انکارِ بیعت آخر دم تک انکار ہی رہا اور باطل اسے اقرار میں بدلنے میں ناکام رہا۔

یہ اقدام آپؑ کی غیر معمولی جرأت، بے خوفی اور خدا پر کامل اعتماد کا آئینہ دار تھا۔جنگ کے عالم میں مد مقابل یہ کوشش کرتا ہے کہ اس کا لشکر زیادہ سے زیادہ ہو جائے لیکن اس کے برعکس شب عاشور امام حسین اپنے ساتھیوں کو جانے کی اجازت دے رہے ہیں یہ خود آپ کے کمال اطمینان کی طرف اشارہ ہے اور جان نصار ساتھیوں کا اطمینان دیکھئے دیکھئے کہ ایک طرف تو فرزند رسول ان کو جانے کو کہہ رہے ہیں تو دوسری طرف یہ حق کے پیکر اپنی زندگیاں مولا کے قدموں پر نثار کرنے کے لئے بے چین ہے ایک طرف حسین زندگی بانٹ رہے ہیں تو دوسری طرف جاں نثار اس زندگی کو مولا پر قربان کر دینا چاہتے ہیں مسلم بن عوسجہؑ نے شب عاشور امام سے یہی تو کہا تھا :خدا کی قسم! اگر مجھے معلوم ہو کہ میں قتل کیا جاؤں گا، پھر زندہ کیا جاؤں گا، پھر جلایا جاؤں گا، پھر میری راکھ ہوا میں بکھیر دی جائے گی اور یہ عمل ستر مرتبہ دہرایا جائے گا، تب بھی میں آپ کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔اسی طرح سعید ابن عبد اللہ اور زہیرابن قین نے اپنی وفاداری اور جان نثاری کا اعلان کیا اور اس طرح اصحاب امام حسین ؑنے شب عاشور جہاں ہر طرف موت کے سائے منڈلا رہے تھے، بھوک اور پیاس کی شدت جسم و جاں کو جھلسا رہی تھی، شہادت کے بعد اہلِ بیتؑ کی بے کسی، خواتین و بچوں کی اسیری کا تصور دلوں کو مضطرب کرنے کے لیے کافی تھا اور معصوم بچوں کی ’’العطش العطش‘‘کی جگر سوز صدائیں دلوں کو برما رہی تھیں، یہ تمام عوامل ایسے تھے جن میں سے کسی ایک کا وجود بھی کسی بھی انسان کے عزم و ہمت کو متزلزل کرنے اور اسے راہ حق سےہٹانے کے لئے کافی ہو سکتا تھا لیکن سلام ہو امام حسینؑ کے ان جاں نثار ساتھیوں پر کہ تمام مصائب و آلام مل کر بھی ان کے پائے استقامت میں لغزش پیدا نہ کر سکے ، ان کے عزم و یقین کو کمزور نہ بنا سکے اور ان کے ولولۂ ایمان میں ذرہ برابر بھی کمی نہ لا سکے ،شب عاشور ان کے اطمینان قلب کا یہ عالم تھا کہ ایک دوسرے سے مذاق کر رہے تھے چہروں پر خوشیوں کے آثار نمایاں تھے گویا کل ان کو کوئی بڑی خوشی ملنے والی ہے ، اور جب عاشور کا دن آیا تو ہر ایک مجاہد دوسرے پر سبقت لے جا کر راہِ حق میں جان قربان کرنے کی آرزو رکھتا تھا۔ موت ان کے لیے خوف کا سبب نہیں بلکہ لقاءِ الٰہی کا ذریعہ بن چکی تھی، اور اس طرح اصحاب امام حسینؑ نے میدانِ کربلا میں صبر و سکون، رضا و تسلیم اور بے خوفی و استقامت کی ایسی درخشاں تاریخ رقم کی جو رہتی دنیا تک اہلِ ایمان کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔

یہ تو اصحاب کا عالم تھا ،کربلا میں ہمیں کوئی بی بی ایسی دیکھنے کو نہ ملی جس نے مصائب و آلام کو دیکھ کر امام حسین سے آکر یہ کہا ہو کہ صلح کر لیجیئے اب مصائب برداشت نہیں ہوتے جبکہ فطرت نسواں یہ ہے کہ مصائب و آلام کو دیکھ کر بہت جلدی گھبرا جاتی ہے اور خوف و ہراس میں مبتلا ہو جاتی ہے بلکہ اس کے برعکس ہمیں یہ دیکھنے کو ملا کہ کربلا کی بیبیاں اپنے جگر کے پاروں کو لڑنے کے لئے خود سجا کر بھیج رہی ہیں بی بی تو بی کوئی بچہ تک ایسا نہ ملا جس نے شدت پیاس سے گھبراکر امام حسینؑ یا اپنے سرپرست سے یہ کہا ہو کہ اب بیعت کر لیجیئے۔

حقیقت میں کربلا والے اس آیت کے حقیقی مصداق تھے : إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر وہ ثابت قدم رہے تو نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

لشکر یزید کا خوف و ہراس

دوسری طرف صف دشمن میں خوف و ہراس کا یہ عالم تھا کہ ۷۲ یا ۱۰۰ افراد( جن میں بچے اور بوڑھے بھی شامل تھے) کا مقابلہ کرنے کے لئے کم سے کم تیس ہزار( ۳۰۰۰۰) کا لشکر بلایا گیا یہ اتنی کثیر تعداد میں لشکر کا جمع کرنا بتا رہا ہے کہ دشمنوں کو معلوم تھا کہ ہم باطل پر ہیں اور یہ خوف لاحق تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لشکر کے افراد حق کی طرف کوچ کر جائیں لہٰذا حق کی طرف جانے والوں کو ڈرانے کے لئے یہ اتنی کثرت کے ساتھ لشکر جمع کیا گیا تھا تاکہ اگر کوئی جانے کا ارادہ بھی کرے تو کثرت لشکر کو دیکھ کر خوف سے اپنا اردہ بدل دے اور اگر احیاناً لشکر کا ایک حصہ چلا بھی جائے توکوئی فرق نہ پڑے اور یہ بھی تاریخ میں ملتا ہے کہ حملہ کی تاب نہ لاکر کتنی بار لشکر میدان چھوڑ کر بھاگا ہے نیز ایک ایک جاں باز کے مقابلے میں باطل فوج کا مل کرحملہ کرنا ان کے خوف و ہراس کو نمایاں کرنے کے لئے کافی ہے، شمر بار بار لشکر کو جنگ پر ابھارتا اور سختی کا حکم دیتا تھا اس کی یہ شدت دراصل اس خوف کی وجہ سے تھی کہ کہیں سپاہیوں کے دل امام حسینؑ کی طرف مائل نہ ہوجائیں، عمر بن سعد جانتا تھا کہ وہ رسول خدا (ص)کے نواسے کے مقابلے میں کھڑا ہے، جب اسے حکومتِ ری کے لالچ اور امام حسینؑ کے خلاف جنگ کے درمیان انتخاب کرنا پڑا تو وہ شدید تردد کا شکار ہوگیا۔ اس نے ایک رات اسی کشمکش میں گزاری اور آخرکار دنیاوی مفاد کو ترجیح دی یہ اس کے باطنی خوف و اضطراب کی واضح علامت تھی۔شب عاشور امام حسینؑ کے خیموں سے رات بھر تلاوتِ قرآن، دعا اور عبادت کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں جبکہ دشمن کے لشکر میں خوف اور بے سکونی کی کیفیت پائی جاتی تھی۔ ایک طرف حق پر ہونے کا اطمینان تھا تو دوسری طرف باطل پر ہونے کا خوف و اضطراب ،عصر عاشور جب امام حسین اپنے شیر خوار فرزند علی اصغرؑ کو میدان میں لائےاور پانی کی درخواست کی تو یہ منظر اس قدر دردناک اور مؤثر تھا کہ دشمن لشکر کے بہت سے افراد کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔ لشکر میں ہمدردی اور تردد کی کیفیت پیدا ہونے لگی اور حقانیتِ امام حسینؑ کے آثار نمایاں ہونے لگے یہ دیکھ کر عمر بن سعد کو اس بات کا خوف ہوا کہ کہیں سپاہیوں کے دل امام حسینؑ کی طرف مائل نہ ہو جائیں اور لشکرِ یزیدی میں انتشار پیدا نہ ہو جائے، لہٰذا اس نے حرملہ کو حکم دیا کہ فوراً تیر چلا کر بچے کو شہید کر دے تاکہ لشکر کے متزلزل ہوتے ہوئے حوصلوں کو سنبھالا جا سکے ،حر جب تک یزیدی لشکر سے وابستہ رہا خوف و اضطراب کے عالم میں رہا لیکن جب لشکر حسینی سے جا ملا تو سکون و اطمینان کا پیکر بن گیا،یہ تمام تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ کربلا کا معرکہ صرف تلواروں کا معرکہ نہیں تھا بلکہ حق و باطل، اطمینان و اضطراب، اور یقین و تزلزل کے درمیان ایک فیصلہ کن جنگ تھی جس میں جیت حق و اطمینان کی ہوئی اور ہار خوف و ہراس کی اور یزید اس جنگ میں اتنا خوف زدہ ہو گیا تھا کہ امام حسینؑ کے بعد وارثان امام حسینؑ سے کبھی بیعت کا مطالبہ ہی نہیں کیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha