تحریر: مولانا سید امیر حسنین زیدی
حوزہ نیوز ایجنسی| واقعۂ عاشوراء اسلامی تاریخ کا ایک ایسا عظیم اور فیصلہ کن واقعہ ہے جس نے حق و باطل کے درمیان واضح خطِ امتیاز کھینچ دیا؛ یہ محض ایک جنگ یا تاریخی سانحہ نہیں، بلکہ ایک ایسا مکتبِ فکر ہے جو ہر دور کے انسان کو آزادی، عزت، عدل، حق گوئی اور انسانی اقدار کے تحفظ کا درس دیتا ہے۔
اسی لیے عاشورہ کو انسانیت کے لیے ایک دائمی مشعلِ راہ قرار دیا جاتا ہے۔ امام حسینؑ نے اپنے قیام کے دوران مختلف مقامات پر جو خطبات ارشاد فرمائے ہیں ان میں عاشورہ کے حقیقی مقاصد اور انسانیت کے لیے ابدی پیغامات نمایاں طور پر جلوہ گر ہوتے ہیں۔
امام حسینؑ نے مدینہ سے روانگی کے وقت اپنے قیام کا مقصد واضح کرتے ہوئے فرمایا:إِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشِرًا وَلَا بَطِرًا وَلَا ظَالِمًا وَلَا مُفْسِدًا، وَإِنَّمَا خَرَجْتُ لِطَلَبِ الْإِصْلَاحِ فِي أُمَّةِ جَدِّي؛ میں نہ سرکشی، غرور اور عیش پرستی کے لیے نکلا ہوں نہ ظلم کرنے کے لیے اور نہ فساد پھیلانے کے لیےبلکہ میں تو صرف اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں۔
امام حسینؑ کا یہ فرمان درحقیقت اصلاحِ معاشرہ کا ایک جامع منشور ہے۔ اگر خطبے کے اس حصہ کو فردی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کر دیا جائے تو دنیا کی بہت سی برائیاں ختم ہو سکتی ہیں۔سب سے پہلے یہ خطبہ ہمیں اخلاصِ نیت کا درس دیتا ہے کہ کسی بھی تحریک یا جدوجہد کی کامیابی کا راز اس کی نیت کے خلوص میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ جو تحریک ذاتی مفادات کے لیے اٹھتی ہے وہ وقتی فائدہ تو حاصل کر سکتی ہے، لیکن دیرپا اثرات نہیں چھوڑ سکتی۔ اس کے برعکس جو تحریک خدا کی رضا، حق کے قیام اور انسانیت کی خدمت کے لیے ہو، وہ صدیوں بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ واقعۂ کربلا آج بھی انسانیت کے لیے ہدایت اور بیداری کا سرچشمہ ہے،اور قیامت تک انسانی نسل کی ہدایت کرتا رہے گا اور شاید اسی حقیقت کو پیش نظر رکھ کر رسول نے بھی ارشاد فرمایا تھا : إِنَّ الْحُسَيْنَ مِصْبَاحُ الْهُدَى وَسَفِينَةُ النَّجَاةِ بے شک حسینؑ ہدایت کا چراغ اور نجات کی کشتی ہیں ۔ دنیا کے اکثر فتنے، جنگیں اور ظلم اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اقتدار، دولت اور ذاتی مفادات کو مقصدِ حیات بنا لیا جائے۔ امام حسینؑ نے واضح فرمایا کہ ان کا قیام ذاتی منفعت یا اقتدار کے حصول کے لیے نہیں تھا بلکہ اصلاحِ امت کے لیے تھا۔ یہ پیغام آج بھی دنیا كے تمام حكمرانوں كو آواز دے رہا ہے ۔ اگر تم اقتدار کو امانت سمجھو گے تو عوام کے حقوق غصب کرنے کے بجائے ان کی خدمت کروگے ۔ تمام علما ءدین كو متوجہ كر رہا ہے كہ اپنی شہرت اور ذاتی مفادات کے بجائے دین کی صحیح تعلیمات کو عام کرنے کو اپنا ہدف بناو نتیجہ میں معاشرہ فکری گمراہی سے محفوظ رہے گا۔ تمام تاجروں کو پیغام دے رہا ہے کہ اپنے تجاری معاملات میں دیانت داری کا پاس و خیال رکھو اگر تم ایسا کروگے تو معاشی استحصال کم ہو جائے گا۔ اسی طرح اگر ہر فرد اپنی ذمہ داریوں کو اخلاص کے ساتھ انجام دے تو معاشرے میں اعتماد، محبت اور عدل کا ماحول پیدا ہو جائے گا کرپشن، استحصال اور ناانصافی کا خاتمہ ہو جائے گا۔
اس کے علاوہ امام کا یہ فقرہ عالم انسانیت کو ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی دعوت دیتا ہے۔ آج دنیا میں ظلم، انسانی حقوق کی پامالی، معاشی استحصال اور سماجی ناانصافیاں اسی وقت ختم ہو سکتی ہیں جب افرادِ معاشرہ خاموش تماشائی بننے کے بجائے حق کا ساتھ دیں اور مظلوموں کی حمایت کریں۔ امام حسینؑ نے صرف معاشرے کی خرابیوں کی نشاندہی نہیں کی بلکہ ان کی اصلاح کی کوشش بھی کی۔اور دنیا والوں کو یہ پیغام دیا کہ کسی بھی دور میں جھوٹ، بدعنوانی، بے حیائی، نفرت اور فرقہ واریت جیسی برائیوں کے خاتمے کے لیے محض تنقید کافی نہیں بلکہ اصلاحی اقدامات، تعلیم، تربیت اور کردار سازی ضروری ہے۔
اس حق اور اصلاح کے راستے میں ممکن ہے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے آپ کے دیے گئے خطبات میں بھی بارہا اس امر پر زور دیا گیا کہ ہر حال میں حق پر قائم رہنا ہے اور ظلم کے سامنے سر نہیں جھکانا ہے خواہ جان ہی کیوں نہ دینی پڑ جائے لیکن یاد رکھو! یہ موت اس زندگی سے بہتر ہے جو سر جھکانے کے بعد ظالم کی طرف سے بھیک میں ملی ہو ۔ آپؑ نے فرمایا: اَلْمَوْتُ أَوْلَى مِنْ رُكُوبِ الْعَارِ وَالْعَارُ أَوْلَى مِنْ دُخُولِ النَّارِ؛ ذلت و رسوائی کو قبول کرنے سے موت بہتر ہے، اور جہنم میں داخل ہونے سے دنیا کی عارضی رسوائی بہتر ہے۔
امام حسینؑ کے یہ الفاظ صرف چند جملے نہیں بلکہ ظلم و جبر کے ایوانوں کو لرزا دینے والا ایک انقلابی اعلان ہے۔ یہ وہ صدا ہے جو کربلا کے ریگزار سے بلند ہوئی اور رہتی دنیا تک انسانیت کو عزت، حریت اور حق پرستی کا درس دیتی رہے گی۔ امام حسینؑ نے اپنے خون سے یہ حقیقت رقم کر دی کہ ایک باایمان انسان تلواروں کے سائے میں تو زندہ رہ سکتا ہے، مگر ذلت اور غلامی کے سائے میں نہیں۔ انسان کی عظمت اس کے تخت و تاج، مال و دولت اور ظاہری طاقت میں نہیں بلکہ اس کے کردار، غیرت، خودداری اور اصولوں پر ثابت قدم رہنے میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا میں سر کٹ گئے مگر جھکے نہیں، خیمے جل گئے مگر ضمیر فروخت نہ ہوئے، اور جسم خاک پر گر گئے مگر عزت و شرف کا پرچم سربلند رہا۔
یہ کلمات ضمیر انسانی کو جھنجھوڑتے ہیں کہ حق و باطل کی کشمکش میں خاموش تماشائی نہ بنو جب حق اور باطل آمنے سامنے کھڑے ہوں تو غیر جانبداری بھی ایک جرم بن جاتی ہے۔ حق کی راہ میں مشکلات آئیں، مصیبتیں آئیں، جان و مال کا نقصان ہو، تب بھی حق کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ کیونکہ وقتی فائدے اور دنیاوی مصلحتیں ختم ہو جاتی ہیں، مگر حق پر استقامت انسان کو تاریخ میں جاوداں بنا دیتا ہے۔
امام حسین ہر آزاد انسان کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ظالم کے سامنے خاموش رہنا درحقیقت ظلم کی مدد کرنا ہے۔ جب معاشرے میں ظلم کو برداشت کیا جانے لگےجب حق کی آوازوں کو دبایا جانے لگے تو ظلم کے خلاف کھڑے ہو جاؤکیونکہ خاموشی ظالم کو مزید طاقتور بنا دیتی ہے۔ امام حسینؑ نے ثابت کیا کہ حقیقی آزادی صرف زنجیروں سے آزاد ہونے کا نام نہیں ہے بلکہ خوف، لالچ اور خواہشات کی غلامی سے نجات پانے کا نام ہے۔ جو انسان اپنے ضمیر، ایمان اور اصولوں کو بچا لیتا ہے، وہی حقیقی معنوں میں آزاد ہے۔امام نے عالم انسانیت کو متوجہ کیا کہ اگر انسان کے سامنے دو راستے ہوں ایک ایسا راستہ جو دولت و اقتدار دے مگر اللہ کی نارضایتی اور جہنم تک پہنچا دے اور دوسرا ایسا راستہ جس میں دنیا میں مشکلات ہو اور ظاہری رسوائی ہو مگر اللہ کی رضا شامل حال ہو تو ایک سچے مومن کو چاہیئے کہ دوسرا راستہ اختیار کرے کیونکہ دنیا کی چند روزہ تکلیف اور رسوائی تو برداشت کی جا سکتی ہے، مگر جہنم کا دائمی عذاب ہرگز نہیں۔









آپ کا تبصرہ