تحریر: سید انجم رضا
حوزہ نیوز ایجنسی| کربلا کی سرزمین پر وفا، ایثار، شجاعت اور اطاعت کے جو بے مثال کردار رقم ہوئے، ان میں حضرت عباس بن علیؑ کا مقام نہایت بلند و درخشاں ہے۔ آپؑ صرف علمبردارِ لشکرِ امام حسینؑ ہی نہیں تھے بلکہ اطاعتِ امام، وفاداری اور ولایت سے وابستگی کی وہ عظیم مثال تھے جو رہتی دنیا تک اہلِ حق کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
حضرت عباسؑ کی شخصیت میں بہادری اور عبادت، قوت اور عاجزی، شجاعت اور وفا کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ آپؑ نے اپنی تمام صلاحیتوں، اپنی جوانی، اپنی قوتِ بازو اور اپنی زندگی کو اپنے وقت کے امام حضرت امام حسینؑ کی نصرت و حمایت کے لیے وقف کر دیا۔ آپؑ کا سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ آپؑ نے امامت کے سامنے اپنی ذات، اپنی خواہش اور اپنے مقام کو ہمیشہ ثانوی سمجھا۔
امامت سے وفا کا رشتہ
حضرت عباسؑ، امیرالمومنین حضرت علیؑ کے فرزند اور امام حسینؑ کے بھائی تھے۔ آپؑ نے ایسے گھرانے میں پرورش پائی جہاں اطاعتِ خدا، رسولؐ اور اہلِ بیتؑ کی تعلیمات زندگی کا محور تھیں۔ بچپن ہی سے آپؑ نے اپنے والدِ گرامی حضرت علیؑ سے شجاعت، علم، تقویٰ اور حق کے لیے ثابت قدم رہنے کا درس حاصل کیا۔
آپؑ کا تعلق صرف نسبی طور پر امام حسینؑ سے نہیں تھا بلکہ آپؑ کی روحانی وابستگی بھی امامِ وقت کے ساتھ کامل تھی۔ آپؑ جانتے تھے کہ امام حسینؑ اللہ کی حجت اور حق کے نمائندہ ہیں، اسی لیے آپؑ کی پوری زندگی کا مقصد امام کی رضا اور ان کی نصرت بن گیا۔
علمبرداری کا حقیقی مفہوم
لشکر کا علم اٹھانا محض ایک فوجی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک عظیم روحانی منصب بھی تھا۔ علم دراصل مقصد، نظریے اور قیادت کی علامت ہوتا ہے۔ حضرت عباسؑ نے جب امام حسینؑ کا علم اٹھایا تو یہ اعلان تھا کہ وہ حق کے پرچم کو ہر حال میں بلند رکھیں گے۔
کربلا میں جب مشکلات بڑھتی گئیں، ساتھی شہید ہوتے گئے اور دشمن کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا، تب بھی حضرت عباسؑ کا حوصلہ متزلزل نہ ہوا۔ آپؑ کا وجود لشکرِ حسینی کے لیے اعتماد، امید اور وفا کی علامت تھا۔
اطاعت کی معراج
حضرت عباسؑ کی عظمت کا سب سے روشن پہلو ان کی اطاعتِ امام ہے۔ میدانِ کربلا میں آپؑ کے پاس بے مثال شجاعت، جنگی صلاحیت اور قوت موجود تھی، مگر آپؑ نے کبھی اپنی طاقت کو اپنی مرضی سے استعمال نہیں کیا بلکہ ہمیشہ امام حسینؑ کے حکم کو مقدم رکھا۔
روایات میں آتا ہے کہ حضرت عباسؑ نے اپنے بھائی اور امام کے ہر حکم کو دل و جان سے قبول کیا۔ حتیٰ کہ جب آپؑ کو اپنی ذاتی خواہشات اور جذبات کا سامنا ہوا، تب بھی امام کی رضا کو اپنی خواہش پر ترجیح دی۔ یہی اطاعت آپؑ کو وفا کے اعلیٰ ترین مقام تک لے گئی۔
کربلا میں وفا کا عظیم امتحان
عاشورا کے دن جب خیموں میں پیاس کی شدت بڑھ گئی تو حضرت عباسؑ نے بچوں اور اہلِ حرم کی پیاس بجھانے کی ذمہ داری اپنے سر لی۔ آپؑ فرات تک پہنچے، پانی حاصل کرنے کا موقع بھی ملا، مگر امام حسینؑ اور اہلِ بیتؑ کی پیاس یاد کر کے اپنے لیے پانی پینا گوارا نہ کیا۔
یہ واقعہ صرف قربانی نہیں بلکہ عشقِ ولایت اور وفاداری کی وہ مثال ہے جس میں حضرت عباسؑ نے ثابت کیا کہ حقیقی مومن کے لیے اپنی ذات سے بڑھ کر امام کا حکم اور مقصد اہم ہوتا ہے۔
وفا کا لقب: باب الحوائج
حضرت عباسؑ کو مکتبِ اہلِ بیتؑ میں وفا کے استعارے کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ آپؑ کا درِ بارگاہِ الٰہی سے توسل اور حاجتوں کے لیے وسیلہ بننا عوامی عقیدت کا ایک نمایاں پہلو ہے۔ آپؑ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں اخلاص، وفاداری اور حق کے امام کی نصرت انسان کو عظمت عطا کرتی ہے۔
آج کے دور کے لیے پیغام
حضرت عباسؑ کی سیرت ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ولایت اور امامت سے حقیقی وابستگی صرف محبت کے دعوے کا نام نہیں بلکہ کردار، وفاداری، قربانی اور ذمہ داری کا تقاضا کرتی ہے۔
ایک سچا پیروکار وہ ہے جو حق کے راستے کو پہچانے، اپنے امام کی تعلیمات پر عمل کرے، مشکلات میں ثابت قدم رہے اور اپنی صلاحیتوں کو دین و انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کرے۔
حضرت عباسؑ کا کردار ہمیں بتاتا ہے کہ عظمت صرف طاقت رکھنے میں نہیں بلکہ طاقت کو حق کے لیے قربان کرنے میں ہے۔ علمبردارِ لشکرِ حسینی حضرت عباسؑ آج بھی وفا، اطاعت اور ولایت کی روشن علامت ہیں، جن کا نام رہتی دنیا تک حق کے پرچم کے ساتھ زندہ رہے گا۔









آپ کا تبصرہ