تحریر: مولانا گلزار جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی|
تمنا انسانی فطرت کی وہ لطیف کیفیت ہے جو دل میں جنم لیتی ہے، شعور میں پروان چڑھتی ہے اور عمل کی صورت میں اپنے آثار چھوڑ جاتی ہے۔ یہی تمنا کبھی آرزو کہلاتی ہے، کبھی خواہش، کبھی چاہت اور کبھی حسرت۔ فرق صرف درجے کا ہوتا ہے، ورنہ یہ سب ایک ہی چشمے سے پھوٹنے والی نہریں ہیں۔
دنیا تمناؤں کا ایک وسیع کارزار ہے۔ کوئی دولت کی تمنا کرتا ہے، کوئی شہرت کی؛ کوئی اقتدار کا خواب دیکھتا ہے، کوئی طاقت و قوت کا متمنی ہوتا ہے۔ کوئی حسن کا طلب گار ہے، کوئی علم کا؛ کوئی ہنر کی دولت چاہتا ہے، کوئی نسب کی عظمت۔ کسی کی نگاہ تخت پر ہے، کسی کی تاج پر؛ کسی کی آرزو محل و سرا میں ہے، کسی کی تمنا نام و نمود میں۔
پھر تمناؤں کا ایک اور جہان ہے؛ قبر کی روشنی کی تمنا، برزخ کے سکون کی تمنا، محشر کی آسانی کی تمنا، میزانِ عدل میں نجات کی تمنا، صراط پر سلامتی کی تمنا، حوضِ کوثر کی تمنا، جنت الفردوس کی تمنا، اور سب سے بڑھ کر رضائے الٰہی کی تمنا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ جب ہم تمناؤں کی اس پوری کائنات کو سمیٹ کر درِ علیؑ پر لے جائیں تو وہاں کون سی تمنا باقی رہ جاتی ہے؟
وہ علیؑ جن کے بارے میں رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
«أَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا»
میں علم کا شہر ہوں اور علیؑ اس کا دروازہ ہیں۔
وہ علیؑ جن کے حق میں ندا آئی:
«لَا فَتَىٰ إِلَّا عَلِيٌّ وَلَا سَيْفَ إِلَّا ذُو الْفِقَارِ»
وہ علیؑ جن کے ایثار پر سورۂ دہر کی آیات نازل ہوئیں:
﴿وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا﴾
وہ علیؑ جن کی طہارت پر آیۂ تطہیر گواہ ہے:
﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾
وہ علیؑ جن کی ولایت کو قرآن نے اکمالِ دین کا عنوان بنایا:
﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ﴾
آخر وہ کس چیز کی تمنا کریں؟
دولت؟ جبکہ ان کے دروازے سے فقیری بھی بادشاہی سیکھتی ہے۔
اقتدار؟ جبکہ اقتدار ان کے زہد کے سامنے سرنگوں ہے۔
شہرت؟ جبکہ ان کا نام اذانوں، خطبوں، دعاؤں اور منقبتوں میں زندہ ہے۔
شجاعت؟ جبکہ خیبر ان کی قوت کا ایک باب اور خندق ان کی ہیبت کا ایک عنوان ہے۔
علم؟ جبکہ علم خود ان کے در پر زانوئے ادب تہ کرتا ہے۔
فضیلت؟ جبکہ فضیلتیں ان کے آستانے کی کنیز ہیں۔
پھر سوال اٹھتا ہے کہ علیؑ کی آرزو کیا تھی؟
کیا انہیں بیٹے کی تمنا تھی؟
یہ سوال بھی عجیب ہے؛ کیونکہ حسنؑ و حسینؑ جیسے فرزند کسی باپ کو نصیب نہیں ہوئے۔ قرآن نے مباہلہ کے دن ان دونوں کو رسولؐ کے "ابناء" قرار دیا:
﴿فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ﴾
میدانِ مباہلہ میں جب رسولؐ حسنؑ و حسینؑ کا ہاتھ پکڑ کر نکلے تو گویا آسمان نے اعلان کر دیا کہ یہ صرف علیؑ کے بیٹے نہیں، مصطفیٰؐ کے بیٹے بھی ہیں۔
یہاں ایک لطیف نکتہ جنم لیتا ہے۔
قدرت نے حسنؑ و حسینؑ کو رسولؐ کی آغوشِ نسبت میں رکھا۔ اب گویا علیؑ کے ذمے ایک نئی ذمہ داری تھی۔ جس علیؑ نے بسترِ رسولؐ پر سو کر نبوت کی حفاظت کی، جس علیؑ نے شعبِ ابی طالب سے لے کر خیبر تک رسولؐ کا سایہ بن کر زندگی گزاری، وہ علیؑ یہ کیسے گوارا کرتے کہ رسولؐ کی اولاد مستقبل میں محافظ کے بغیر رہ جائے؟
یہاں علیؑ کی تمنا ایک نئے مفہوم میں سامنے آتی ہے۔
یہ تمنا نسب بڑھانے کی نہ تھی، مقصد بچانے کی تھی۔
یہ آرزو خاندان بڑھانے کی نہ تھی، کاروانِ حسینؑ کے لیے ایک نگہبان پیدا کرنے کی تھی۔
یہ خواہش گھر کے چراغ کی نہ تھی، خیمۂ رسالت کے پاسبان کی تھی۔
یہ چاہت ایک بیٹے کی نہ تھی، وفا کے ایسے پیکر کی تھی جو قیامت تک وفا کا معیار بن جائے۔
گویا علیؑ بارگاہِ الٰہی میں عرض کر رہے تھے:
پروردگار! حسنؑ و حسینؑ تیرے رسولؐ کے نواسے ہیں، انہیں ایک ایسا محافظ عطا فرما جو میرے بازوؤں کی طاقت، میرے دل کی جرأت، میرے ایمان کی حرارت اور میری وفاداری کا وارث ہو۔
اور پھر دعا نے قبولیت کا لباس پہنا۔
ام البنینؑ کے آغوشِ کرامت میں ایک ایسا فرزند آیا جس کی آنکھ کھلتے ہی تقدیر مسکرائی، جس کے وجود سے وفا نے جسم پایا، جس کے نام سے ایثار نے معنی حاصل کیے اور جس کی حیات نے شجاعت کو نئی تفسیر عطا کی۔
وہ عباسؑ تھے۔
عباسؑ علیؑ کی تمنا کا نام ہیں۔
عباسؑ علیؑ کی دعا کا جواب ہیں۔
عباسؑ علیؑ کی نگاہِ دور رس کا ثمر ہیں۔
عباسؑ وہ امانت ہیں جسے علیؑ نے کربلا کے لیے محفوظ رکھا تھا۔
اسی لیے تاریخ جب عباسؑ کا ذکر کرتی ہے تو صرف ایک شخص کا تذکرہ نہیں کرتی بلکہ علیؑ کے دل میں موجزن ایک عظیم مقصد کی داستان سناتی ہے۔
وہ مقصد، حفاظتِ حسینؑ۔
وہ مقصد، نصرتِ دین۔
وہ مقصد، بقاءِ شریعت۔
وہ مقصد، صیانتِ رسالت۔
چنانچہ اگر حسنؑ و حسینؑ رسولؐ کے گلشن کے دو پھول ہیں تو عباسؑ اس گلشن کے نگہبان ہیں؛ اگر حسنؑ و حسینؑ نبوت کے چراغ ہیں تو عباسؑ ان چراغوں کے گرد پروانہ بن کر جلنے والے ہیں؛ اگر حسینؑ مقصدِ کربلا ہیں تو عباسؑ اس مقصد کے امین ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ تاریخِ انسانیت میں بے شمار تمنائیں پیدا ہوئیں، بے شمار آرزوئیں دم توڑ گئیں، بے شمار خواہشیں وقت کی دھول میں کھو گئیں؛ مگر علیؑ کی ایک تمنا ایسی تھی جسے قدرت نے رد نہیں کیا، بلکہ اسے ایسا مقام عطا کیا کہ آج بھی جب وفا کا نام لیا جاتا ہے تو زبان پر عباسؑ کا نام آتا ہے، اور جب عباسؑ کا نام آتا ہے تو دل گواہی دیتا ہے کہ یہ صرف ام البنینؑ کے فرزند نہیں، یہ درحقیقت تمنائے علیؑ ہیں۔









آپ کا تبصرہ