آزادی کا آغاز انسان کے اپنے نفس اور خواہشات سے نجات پانے سے ہوتا ہے

حوزه/ ڈاکٹر معصومہ حکیمیان نے واقعہ کربلا میں ام وہب کی شخصیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہیں ایک آزاد خاتون کے لیے بہترین نمونہ قرار دیا جو اپنے فرزند میں بھی ایسا ہی جذبہ پیدا کرنے میں کامیاب رہیں اور انہیں امام حسین علیہ السلام کی نصرت کے راستے پر گامزن کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، خواتین و خاندان کے شعبے میں فعال کارکن محترمہ ڈاکٹر معصومہ حکیمیان نے موجودہ دور میں آزادگی کے تصور کا ذکر کرتے ہوئے کہا: انسان جغرافیائی اور مذہبی سرحدوں سے بالاتر ہو کر زندگی کو آزادگی یا نفس کی بندگی کی بنیاد پر انتخاب کر سکتا ہے۔ یہ بندگی عصری دور میں بھی جدید شکل میں خواہشات اور نفسانیات کی پیروی کی صورت میں جاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا: آزادی کا آغاز انسان کے اپنے نفس اور خواہشات سے نجات پانے سے ہوتا ہے جبکہ بندگی کا آغاز نفس کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے ہوتا ہے اور یہ شیاطین اور ظالموں کی اطاعت تک پہنچتی ہے۔

ڈاکٹر معصومہ حکیمیان نے واقعہ کربلا میں ام وہب کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا: یہ تاریخ ساز خاتون ایک آزاد انسان کی بہترین مثال تھیں جنہوں نے نفسانی وابستگیوں سے نجات حاصل کی اور اپنے ہم خیال فرزند کی تربیت کر کے اپنے خاندان کو کربلا میں شرفِ حضور اور شہادت کے مقام تک پہنچایا۔

خواتین کے شعبے کی اس محققہ نے آزاد یا غلام انسان کی تربیت کے طریقہ کار کے بارے میں سوال اٹھاتے ہوئے کہا: اپنی نسل کی تربیت کے لیے تین بنیادی اجزاء پر توجہ دینا ضروری ہے، جو ام وہب میں بھی موجود تھے۔ پہلا جزو انسانی ہویت و شناخت اور فطری کرامت ہے۔ انسان فطرۃً الٰہی اور با عزت پیدا کیا گیا ہے اور اس فطرت کا تحفظ آزادگی کی بنیاد ہے۔

انہوں نے مزید کہا: دوسرا جزو مذہبی شناخت ہے۔ ام وہب اور ان کا خاندان ایک مسیحی معاشرے میں رہنے کے باوجود اپنے مذہب پر قائم رہے اور حق کے راستے پر چلتے ہوئے بالآخر امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ہوگئے۔ مذہبی عقیدے سے وابستگی آزاد شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ڈاکٹر معصومہ حکیمیان نے کہا: مسلمان اور آزاد خواتین پر اپنی معاشرتی ذمہ داری کے تحت آئندہ نسل کی تربیت، خاندان کے تحفظ اور معاشرے کو نقصانات سے پاک کرنے میں کردار ادا کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha