بدھ 24 جون 2026 - 19:02
شہادت حضرت عباس علیہ السلام کی خوبصورت اور منفرد روایت

حوزہ/ یہ مضمون حضرت آیت اللہ خامنہ ای (رہ) کے تہران کی نماز جمعہ 1379 ہجری شمسی (2000ء) کے خطبے کا ایک اقتباس ہے۔ جس میں حضرت اباالفضل العباس علیہ السلام کے فرات کے پانی تک پہنچنے کے طریقہ کار پر ایک نیا زاویہ پیش کیا گیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تاسوعائے حسینی اور حضرت ابا عبد اللہ الحسین علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے ایامِ عزاداری کی مناسبت سے حضرت اباالفضل العباس علیہ السلام کی شہادت کے واقعے کی ایک روایت حضرت آیت اللہ خامنہ ای کے تہران کی جمعہ کی نماز 26 فروردین 1379 شمسی ہجری (14 اپریل 2000ء) کے خطبے سے نقل کی گئی ہے جو درج ذیل ہے:

حضرت اباالفضل العباس علیہ السلام کی وفاداری سب سے زیادہ اسی واقعے میں ظاہر ہوتی ہے کہ وہ شریعۂ فرات یعنی فرات کے کنارے پہنچے اور پانی نہیں پیا۔ البتہ ایک مشہور روایت زبان زد عام ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے حضرت اباالفضل علیہ السلام کو پانی لانے کے لیے بھیجا لیکن میں نے معتبر کتابوں — جیسے ارشادِ مفید اور لہوفِ ابن طاؤس — میں جو دیکھا، وہ اس روایت سے قدرے مختلف ہے جو شاید واقعے کی اہمیت کو مزید بڑھا دیتی ہے۔

ان معتبر کتابوں میں اس طرح نقل ہوا ہے کہ آخری گھڑیوں میں بچوں، چھوٹی بچیوں اور اہلِ حرم پر پیاس نے اس قدر شدت اختیار کی کہ خود امام حسین علیہ السلام اور اباالفضل علیہ السلام اکٹھے پانی کی طلب میں نکلے۔ حضرت اباالفضل علیہ السلام اکیلے نہیں گئے بلکہ خود امام حسین علیہ السلام بھی ان کے ساتھ روانہ ہوئے اور اسی شریعۂ فرات کی طرف بڑھے تاکہ شاید پانی لا سکیں۔

یہ دو بہادر اور مضبوط بازوؤں والے بھائی، ایک دوسرے کی پشت پناہی کرتے ہوئے میدانِ جنگ میں لڑے۔ ایک امام حسین علیہ السلام ہیں جن کی عمر تقریباً ساٹھ سال ہے لیکن طاقت اور بہادری میں وہ بے مثال ہیں۔ دوسرے ان کے کم سن بھائی، تیس سے تیس چار سالہ حضرت اباالفضل العباس علیہ السلام ہیں، جن کی خصوصیات سب کو معلوم ہیں۔ یہ دونوں بھائی، شانہ بہ شانہ، کبھی ایک دوسرے کی پشت پر، دشمنوں کے سمندر کے بیچ سے لشکر کی صفوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے، تاکہ فرات کے پانی تک پہنچ سکیں اور پانی لا سکیں۔ اسی سخت جنگ کے دوران اچانک امام حسین علیہ السلام کو محسوس ہوتا ہے کہ دشمن نے ان کے اور ان کے بھائی عباس علیہ السلام کے درمیان فاصلہ ڈال دیا ہے۔

اسی کشمکش میں حضرت اباالفضل علیہ السلام پانی کے قریب پہنچ گئے اور خود کو پانی کے کنارے تک پہنچا دیا۔ جیسا کہ نقل ہے، انہوں نے پانی کا مشکیزہ بھرا تاکہ خیموں تک لے جائیں۔ یہاں ہر انسان کو خود کو حق ہوتا ہے کہ ایک مٹھی پانی اپنے پیاسے ہونٹوں تک پہنچا لے لیکن انہوں نے یہاں اپنی وفاداری کا مظاہرہ کیا۔

حضرت اباالفضل العباس علیہ السلام نے جب پانی اٹھایا تو جیسے ہی ان کی نظر پانی پر پڑی، فذکر عطش الحسین — انہیں امام حسین علیہ السلام کے پیاسے ہونٹ یاد آئے، شاید بچوں اور بچیوں کی العطش کی پکار یاد آئی، شاید علی اصغر علیہ السلام کی پیاس کی چیخ یاد آئی اور ان کا دل نہ چاہا کہ پانی پیئیں۔

انہوں نے پانی کو زمین پر بہا دیا اور باہر نکل آئے۔ اسی باہر آتے وقت وہ حوادث پیش آئے اور امام حسین علیہ السلام نے اچانک اپنے بھائی کی آواز سنی جو لشکر کے بیچ سے چلائے: "یا اخا ادرک اخاک" یعنی اے بھائی! اپنے بھائی (کی مدد) کو پہنچیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha