بدھ 24 جون 2026 - 16:47
حکومت و سیکورٹی ادارے عزاداروں کو تحفظ فراہم کریں / عزادارانِ امام حسین (ع) کو نشانہ بنانا انتہائی قابلِ مذمت اور ناقابل برداشت ہے

حوزہ / علامہ سید ساجد علی نقوی نے ضلع ہنگو میں اہل تشیع آبادیوں پر ڈرونز اور میزائل حملوں، پاراچنار روڈ کی بندش اور ضلع گھوٹکی کی تحصیل اوباڑو میں عزاداروں پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے عزاداروں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے اپنے بیان میں کہا: ہنگو میں پیش آنے والے تشدد کے واقعات حکومت اور سیکورٹی اداروں کی غفلت کا منہ بولتا ثبوت اور ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔ امن دشمن عناصر اب ڈرونز اور میزائل جیسے جدید ذرائع استعمال کر رہے ہیں جبکہ سیکورٹی ادارے بے بسی کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا: ہنگو کے علاقوں گنجانو کلے، ملک آباد اور سیدانو بانڈہ میں میزائل گرائے گئے جبکہ متعدد ڈرون حملے بھی کیے گئے، جن کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا اور عزاداریِ امام حسین علیہ السلام کو نشانہ بنانا تھا۔ ایسے بزدلانہ حملے نہ صرف انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہیں بلکہ ملک کے امن، مذہبی آزادی اور بین المسالک ہم آہنگی پر بھی حملہ ہیں۔

علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا: محرم الحرام کے مقدس ایام میں عزادارانِ امام حسین علیہ السلام کو نشانہ بنانا ایک قابل مذمت اور ناقابل برداشت عمل ہے۔ اس واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور دہشت گرد عناصر کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

انہوں نے پاراچنار روڈ کی بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ملک بھر سے بڑی تعداد میں عزادار محرم الحرام کے موقع پر اپنے آبائی علاقوں خصوصاً پاراچنار جاتے ہیں۔ ایسے موقع پر مرکزی شاہراہ کی بندش شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کو سفری سہولیات فراہم کرے اور شاہراہوں کو محفوظ بنائے، لہٰذا پاراچنار کی مرکزی شاہراہ کو فوری طور پر کھولا جائے۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے ضلع گھوٹکی کی تحصیل اوباڑو میں عزاداروں پر حملوں کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا: حملہ آور عناصر کو فوری طور پر گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha