جمعرات 25 جون 2026 - 18:08
عاشورا کا درخشاں استعارہ؛ استحالی اقدار سے تنبیہ

حوزہ/ سانحۂ کربلا محض تاریخ کے اوراق پر بکھرا ہوا خون آلود باب نہیں بلکہ ایک زندہ، تابندہ اور ازلی تحریک کا عنوان ہے۔

تحریر: محمد یعقوب

حوزہ نیوز ایجنسی | سانحۂ کربلا محض تاریخ کے اوراق پر بکھرا ہوا خون آلود باب نہیں بلکہ ایک زندہ، تابندہ اور ازلی تحریک کا عنوان ہے۔ اس کے دامن میں اخلاقی جرأت کے گوہر، سیاسی بصیرت کے لعل و جواہر اور سماجی بیداری کے آبشار موجزن ہیں لیکن اربابِ تحقیق و دانش کی نگاہ میں اس کا مرکزی نکتہ، اس کا حرفِ کمال، ایک قدر شناس معاشرے کے استحالیٔ ثقافتی و سیاسی سے بروقت آگاہی ہے۔

۱. استحالیٰ: مفہوم و ماہیت

استحالیٰ کے لغوی معنی ہیں: کسی شے کا اپنی اصل سرشت سے منحرف ہو کر ہیئتِ ثانیہ اختیار کر لینا۔ تمدنی تناظر میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو قوم توحید، عدل و حریت کے ستونوں پر استوار ہو، وہ باطنی آفتوں کے ہاتھوں رفتہ رفتہ اپنی ہی اقدار کی نقیض بن جائے۔ افسوس کہ تاجدارِ رسالتؐ کے وصال کو ابھی نصف صدی ہی گزری تھی کہ امتِ مرحومہ اسی استحالیٔ جانکاہ سے دوچار ہوئی۔

۲. کربلا کی ساعت سے پیشتر: استحالیٰ کے نقوشِ پا

نواسۂ رسولؐ کا قیام کوئی آنی حادثہ یا ہیجانی اقدام نہ تھا۔ یہ اس موذی سرطان کا علاج تھا جو معاشرے کی رگ و پے میں سرایت کر چکا تھا:

- سیاسی استحالیٰ: مسندِ خلافت، تختِ ملوکیت میں ڈھل گئی۔ اجماعِ امت کی جگہ استبدادِ خاندانی نے لے لی۔

- ثقافتی استحالیٰ: امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضۂ عظیم، مصلحتوں کی بھینٹ چڑھ گیا۔ ضمیر فروش تماش بین بن گئے اور ظلم، معمول بن گیا۔

- معاشی استحالیٰ: بیت المال جو کل خلقِ خدا کی امانت تھا، آج حکمرانوں کی ذاتی میراث قرار پایا۔

المختصر، وہی کوفہ جس نے عہد و پیمان کے طومار بھیجے تھے، اسی نے زر و شمشیر کے خوف سے آلِ رسولؐ پر تیغِ ستم کھینچ لی۔

۳. حسینؑ ابنِ علیؑ: تشخیص و درمان

سید الشہداءؑ نے اپنے خونیں سفر کی غایت یوں بیان فرمائی: انی لم اخرج اشراً ولا بطراً... انما خرجت لطلب الاصلاح فی امۃ جدی

یعنی میرا خروج نہ حبِّ جاہ کے لیے ہے نہ ہوسِ اقتدار کے لیے۔ میں تو فقط اپنے نانا کی امت میں اصلاح کی خاطر نکلا ہوں۔

یہ کلماتِ نور بتاتے ہیں کہ فرزندِ حیدر کرارؑ امت کے مرض کی تشخیص فرما چکے تھے۔ اور جب قوم کا اجتماعی ضمیر سکتے میں چلا جائے، تو پھر وعظ کی جگہ خونِ شہادت ہی تریاق بنتا ہے۔

۴. عصرِ حاضر میں اس درس کی باز گشت: انقلابِ ایران کا استعارہ

اسی بصیرتِ حسینی کو خمینیِ بت شکنؒ نے اپنے عہد میں زندہ کیا۔ بیسویں صدی کا ایران بھی سامراجی استحالیٰ کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ دین کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔ مگر مردِ قلندر نے ثقافتِ عاشورا کا علم بلند کر کے صدا دی: کل یوم عاشورا و کل ارض کربلا۔

انہوں نے ملت کو جھنجھوڑا کہ اگر آج یزیدِ وقت کے سامنے لب نہ کھولے تو یاد رکھو، کل تمہاری آئندہ نسلیں بھی اسی استحالیٰ کے اندھے کنویں میں گریں گی۔ پس یہی فہم و فراست تھی جس نے اسلامی انقلاب کی صورت میں ثمر بار ہو کر دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔

حرفِ آخر

عاشورا کا ابدی پیغام یہی ہے کہ اقوام، توپ و تفنگ سے نہیں، اپنی اقدار کے جنازے سے فنا ہوتی ہیں۔ جب حق و باطل کی تمیز مٹ جائے، جب غیرت، مصلحت کا لبادہ اوڑھ لے، جب ضمیر سود و زیاں کے ترازو میں تلنے لگیں، تب کہیں جا کر حسینؑ ابنِ علیؑ اٹھتا ہے۔

آج بھی ہر عہد کا اپنا یزید ہے اور ہر دل میں ایک کوفہ آباد ہے۔ سو ہر فردِ بشر پر لازم ہے کہ وہ اپنے باطن کے کوفہ کو پہچانے اور اپنے زمانے کے یزید کے روبرو "ہیہات منا الذلہ" کا فلک شگاف نعرہ بلند کرے۔

والسلام علی من اتبع الھدیٰ

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha