منگل 24 مارچ 2026 - 18:10
کوفہ میں سفیرِ حسینی حضرت مسلم علیہ السلام کی آمد

حوزہ/ 5 شوال سن 60 ہجری کو سفیرِ حسینی، نقیبِ وفا، علمدارِ بصیرت حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام کوفہ میں داخل ہوئے، تاکہ اپنے آقا امام حسین علیہ السلام کے قیام کے لئے زمینی حقائق کا جائزہ لیں اور اہلِ کوفہ کی بیعت کو عملی صورت دیں۔ یہی آمد آگے چل کر واقعہ کربلا کا تمہیدی باب بنی۔

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی I 5 شوال سن 60 ہجری کو سفیرِ حسینی، نقیبِ وفا، علمدارِ بصیرت حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام کوفہ میں داخل ہوئے، تاکہ اپنے آقا امام حسین علیہ السلام کے قیام کے لئے زمینی حقائق کا جائزہ لیں اور اہلِ کوفہ کی بیعت کو عملی صورت دیں۔ یہی آمد آگے چل کر واقعہ کربلا کا تمہیدی باب بنی۔

جب سن 60 ہجری میں اقتدار کی باگ ڈور یزید بن معاویہ کے ہاتھ آئی تو اس نے اپنی بیعت کو لازم قرار دیا اور سیاسی فضا میں جبر کی آمیزش نمایاں ہو گئی۔ مدینہ میں جب امام حسین علیہ السلام سے بیعت کا مطالبہ کیا گیا تو آپ نے اسے اصولی بنیادوں پر مسترد فرمایا۔ اس انکار نے ایک اخلاقی و دینی مزاحمت کی بنیاد رکھی۔

کوفہ، جو پہلے بھی امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے دورِ خلافت میں دارالحکومت رہ چکا تھا، اہلِ بیت علیہم السلام کی محبت کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ وہاں سے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں خطوط مکہ معظمہ پہنچے، جن میں امام حسین علیہ السلام کو دعوت دی گئی کہ آپ تشریف لائیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں، ہمارے پاس نہ امام ہے نہ عادل حاکم۔

امام حسین علیہ السلام نے فوری روانگی کے بجائے حکیمانہ اقدام کیا۔ پہلے تحقیق، پھر فیصلہ۔ اسی لئے آپ نے اپنے معتمد اور باوفا چچا زاد بھائی، حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام کو سفیر بنا کر کوفہ بھیجا۔

حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام محض ایک نمائندہ نہ تھے؛ وہ بنی ہاشم کے جلیل القدر فرد، زہد و شجاعت کے پیکر اور سیاسی بصیرت کے حامل تھے۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے خط میں اہلِ کوفہ کو لکھا کہ میں اپنے بھائی، چچا زاد اور اہلِ بیت کے معتمد شخص کو تمہاری طرف بھیج رہا ہوں؛ اگر وہ مجھے لکھیں کہ تمہاری رائے ایک ہے اور تمہارے اکابر تمہارے خطوط کے مطابق ہیں، تو میں جلد تمہاری طرف آؤں گا۔

یہ جملہ خود اس سفارت کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ گویا مسلم بن عقیل علیہ السلام، امام کے ارادے اور کوفہ کے عہد کے درمیان ایک پل تھے۔

پانچ شوال کو جب حضرت مسلم علیہ السلام کوفہ پہنچے تو ابتدائی طور پر جناب مختار بن ابی عبیدہ کے گھر قیام کیا، بعد ازاں جناب ہانی بن عروہ کے مکان کو مرکز بنایا۔ کوفہ کی فضا میں ایک امید کی لہر دوڑ گئی۔ لوگ جوق در جوق آتے، امام حسین علیہ السلام کی بیعت کرتے اور مسلم بن عقیل علیہ السلام کے ہاتھ پر عہدِ وفا باندھتے۔

روایات کے مطابق بارہ ہزار سے اٹھارہ ہزار تک افراد نے بیعت کی۔ شہر میں ایک نئی روح پیدا ہوئی۔ ایسا محسوس ہونے لگا کہ حق کا سورج طلوع ہونے والا ہے اور ظلم کی رات اختتام کو ہے۔

یہاں ایک اہم تاریخی نکتہ یہ ہے کہ کوفہ کے معاشرے میں قبائلی نظام غالب تھا۔ افراد کا سیاسی رویہ ان کے سرداروں سے وابستہ تھا۔ جب تک سرداروں کا رخ حق کی طرف تھا، عوام بھی اسی سمت رہے۔

لیکن جب منافقین نے منافقت کی تو یزیدی حکومت نے صورتِ حال کی نزاکت کو بھانپ لیا۔ بصرہ کے گورنر عبید اللہ بن زیاد کو کوفہ بھیجا گیا۔ وہ سخت گیری، دھوکے اور سیاسی چالوں میں ماہر تھا۔ اس نے کوفہ میں داخل ہوتے ہی خوف کی فضا قائم کی۔ قبائلی سرداروں کو درہم و دینار کا لالچ دیا، عوام کو فوجی طاقت سے ڈرایا، جاسوسی کا نظام مضبوط کیا اور حضرت مسلم علیہ السلام کے حامیوں کو گرفتار اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ نتیجتا چند دنوں میں فضا بدل گئی۔ جو ہاتھ کل تک بیعت کے لئے اٹھ رہے تھے، وہی ہاتھ خوف سے کانپنے لگے۔ یعنی محبت کا دعویٰ آسان ہے، مگر جان و مال کی قربانی مشکل ہے۔ جب روسائے قبائل ہی بک جائیں تو عوام کا کوئی اعتبار نہیں رہ جاتا اور خوف کی فضا قائم ہو جاتی ہے۔ نتیجہ میں 18 ہزار بیعتوں کے باوجود حضرت مسلم ابن عقیل علیہ السلام تنہا ہو گئے۔

آخر ایک دن ایسا آیا کہ ہزاروں کی بیعت سمٹ کر چند افراد تک رہ گئی۔ شام ہوتے ہوتے مسجدِ کوفہ میں مسلم تنہا رہ گئے۔ تاریخ کا یہ منظر دل دہلا دینے والا ہے کہ سفیرِ امام، شہرِ دعوت میں بے یار و مددگار ہو گیا۔‌ مگر یہی لمحہ ان کی عظمت کا نقطۂ عروج ہے۔ انہوں نے حق سے دستبردار ہونا قبول نہ کیا۔ انہوں نے جبر کے سامنے سر نہ جھکایا۔ جناب ہانی بن عروہ کی شہادت کے بعد بھی ان کا عزم متزلزل نہ ہوا۔

بالآخر وہ گرفتار کئے گئے اور دارالامارہ کی چھت پر لے جا کر شہید کر دیے گئے۔ ان کا جسم مطہر کوفہ کی گلیوں میں گھسیٹا گیا، مگر ان کی روح تاریخ کے آسمان پر سورج بن کر چمک اٹھی۔

پانچ شوال کا دن صرف ایک تاریخی تاریخ نہیں؛ یہ ایک استعارہ ہے۔‌یہ یاد دلاتا ہے کہ سفیر ہونا محض پیغام پہنچانا نہیں، بلکہ پیغام پر مر مٹنا ہے۔

کوفہ کی گلیوں میں جب مسلم علیہ السلام کے قدم پڑے تو مٹی نے ان سے پوچھا ہوگا: “کیا تم جانتے ہو کہ یہ شہر وعدوں کا امین نہیں؟” اور مسلم نے شاید خاموشی سے جواب دیا ہوگا: “میں وعدوں کی سچائی جانچنے آیا ہوں، اپنی جان بچانے نہیں۔”

ان کا لہو آنے والے محرم کی تمہید بنا۔ ان کی تنہائی نے کربلا کے ہجوم کو معنویت دی۔ ان کی شہادت نے یہ اعلان کیا کہ حق کے سفیر شکست نہیں کھاتے، وہ تاریخ کو بیدار کر جاتے ہیں، حق کا ساتھ دینے کے لئے جذبات نہیں، استقامت درکار ہے۔ قیادت کی صداقت کو عوامی شعور سے جوڑنا ضروری ہے۔ ظلم کے نظام کے سامنے خاموشی بھی ایک جرم ہے۔

پانچ شوال 60 ہجری کا عالمی پیغام اور دعوت ہے کہ ہم اپنے عہد میں سفیر حسینی کی تاسی کریں، سچ کے سفیر، وفا کے امین، اور حق کے گواہ بنیں۔

سلام ہو حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام پر، جنہوں نے کوفہ کی تنہائی میں وفا کی ایسی مثال قائم کی کہ تاریخ آج بھی ان کے نام سے سرخرو ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha