حوزہ نیوز ایجنسی: واقعۂ عاشوراء تاریخ کا ایک عظیم باب ضرور ہے، لیکن عاشوراء کی حقیقت صرف اسی دن اور اسی سرزمین تک محدود نہیں رہی۔ اس المناک حماسے کے بعد انہی عظیم خواتین اور پیغام رساں ہستیوں نے اپنے صبر، استقامت، شجاعت اور حق گوئی کے ذریعے امام حسینؑ کے پیغام کو زندہ رکھا اور تحریکِ عاشوراء کو تحریف اور فراموش ہونے نہیں دیا۔
کربلا کے واقعے میں خواتین اور بچوں کی موجودگی کیوں ضروری تھی؟
اس رفاقت کی حکمت کو تاریخی، عقلی اور روایت کے نقطۂ نظر سے سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
بسم الله الرحمٰن الرحیم
واقعۂ کربلا اور عاشوراء ایک تہذیب ساز اور تاریخ کا فیصلہ کن موڑ ہے، جس کا مختلف زاویوں سے مطالعہ اور تحقیق کی جا سکتی ہے۔ اس عظیم نہضت کا ایک نہایت اہم اور عملی پہلو، مکتبِ اباعبداللہ الحسینؑ میں خواتین کی موجودگی، ان کے کردار اور ان کی جہادی ذمہ داریوں کا جائزہ ہے۔
اس ضمن میں ایک بنیادی سوال سامنے آتا ہے:
اتنے حساس اور خطرناک سفر، نیز پیشگی معلوم سخت اور پُرآشوب حالات کے باوجود، امام حسینؑ کے ہمراہ خواتین اور بچوں کی موجودگی کی کیا وجہ تھی؟
خصوصاً اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ یزید نے مدینہ کے اس وقت کے گورنر ولید بن عتبہ کے نام اپنے خط میں واضح طور پر حکم دیا تھا کہ امام حسینؑ سے ہر صورت بیعت لی جائے، اور اگر وہ انکار کریں تو ان کا سرِ مبارک روانہ کیا جائے۔ اس بنا پر یہ سفر کوئی معمول کا سفر نہیں تھا، بلکہ ایک نہایت اہم اور حکمت پر مبنی اسٹریٹجک اقدام تھا۔ لہٰذا رسولِ اکرم صلی الله علیه واله وسلم کے نواسے جیسی عظیم شخصیت کا اپنے اہلِ بیتؑ کو ساتھ لے کر نکلنا یقیناً مضبوط عقلی اور منطقی حکمتوں پر مبنی تھا، جن کا جائزہ لینا نہایت ضروری ہے۔
اہلِ بیتؑ کی حفاظت؛ اموی سازشوں کے مقابلے میں امام حسینؑ کی حکمتِ عملی
امام حسینؑ کے ہمراہ خواتین اور بچوں کی موجودگی کی ایک اہم وجہ ان خطرات کا پیشِ نظر رکھنا تھا جو مدینہ میں بھی اہلِ بیتؑ کو لاحق ہو سکتے تھے۔ اگر سید الشہداءؑ اپنی خواتین، بچوں اور اہلِ حرم کو مدینہ میں چھوڑ دیتے اور وہ دشمن کے ہاتھ لگ کر قید کر لیے جاتے، تو انہیں امام حسینؑ پر دباؤ ڈالنے کے ایک مؤثر ذریعے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا تھا۔ بنو امیہ کی ظالم حکومت اس سے پہلے بھی اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ایسے ہتھکنڈے استعمال کر چکی تھی۔
اس کی ایک مثال حضرت عمرو بن حمق خزاعیؓ کی زوجہ کا واقعہ ہے۔ جب ان کی شہادت کے بعد ان کا سرِ مبارک شام لایا گیا اور ان کی اہلیہ کے سامنے پیش کیا گیا، تو انہوں نے نہایت جرات و استقامت کے ساتھ حماسی اشعار اور رجز پڑھ کر معاویہ کو للکارا۔ اس واقعے نے اموی حکومت کے حقیقی اور سیاہ چہرے کو بے نقاب کر دیا۔
لہٰذا اگر اہلِ بیتؑ کے خاندان کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا تو نہ صرف ان مقدس ہستیوں کی عزت و حرمت متاثر ہوتی، بلکہ یہ امام حسینؑ پر دباؤ ڈالنے کا ایک ذریعہ بھی بن سکتا تھا۔
خواتین اور بچے؛ تاریخ پر حجت
اس سفر میں خواتین اور بچوں کی رفاقت کی ایک اور اہم وجہ لوگوں پر حجت تمام کرنا تھی، تاکہ کوئی یہ عذر پیش نہ کر سکے کہ ہم نے اپنی عورتوں اور بچوں کو محفوظ جگہ پر چھوڑ دیا تھا، اس لیے آپ کو بھی انہیں خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے تھا۔
امام حسینؑ نے حر بن یزید ریاحی کے لشکر سے گفتگو کے دوران متعدد مرتبہ اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا۔ آپؑ نے فرمایا کہ میری خواتین تمہاری خواتین کے ساتھ ہیں اور میرے بچے تمہارے بچوں کے ساتھ ہیں۔ اس فرمان کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ اگر تم اپنی عورتوں اور بچوں کی سلامتی کی فکر رکھتے ہو تو میں بھی اپنے اہلِ حرم اور بچوں کو اپنے ساتھ لے کر آیا ہوں۔
اسی مفہوم کی جھلک سید الشہداءؑ اور عمر بن سعد کے درمیان ہونے والی گفتگو میں بھی ملتی ہے۔ جب عمر بن سعد نے اپنے اہل و عیال کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا، تو امام حسینؑ نے واضح فرمایا کہ اہلِ کوفہ اور اموی حکومت کے حامی خود بھی ایسے ظالم نظام سے خوف زدہ ہیں، جو اپنے مخالفین پر دباؤ ڈالنے کے لیے ان کے خاندان، اہلِ حرم اور بچوں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔
اس طرح امام حسینؑ نے اپنے اس طرزِ عمل اور گفتگو کے ذریعے نہ صرف اس حقیقی خطرے کو آشکار کیا، بلکہ تمام لوگوں پر حجت بھی تمام کر دی۔

حضرت زینبؑ کا مشن؛ پیغامِ عاشورا کی حفاظت اور تاریخ تک اس کی ابلاغ
خواتین اور بچوں کی نہضتِ عاشورا میں رفاقت کی حکمت کا ایک اور اہم پہلو اس الٰہی قیام کے پیغام کی حفاظت اور اسے آئندہ نسلوں تک پہنچانے کی عظیم ذمہ داری تھا۔ بلاشبہ ان مقدس ہستیوں کی موجودگی کا ایک بنیادی مقصد یہی تھا کہ پیغامِ عاشورا کو تاریخ کے سینے میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا جائے۔
ہمارے معاشرے میں ایک معروف جملہ کہا جاتا ہے کہ "اگر زینبؑ نہ ہوتیں تو کربلا، کربلا ہی میں رہ جاتی۔" یہ بات تاریخی حقائق سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ بنو امیہ کی منصوبہ بندی یہ تھی کہ اس سانحے میں نسلِ نبوت اور سلسلۂ رسالت کا خاتمہ کر دیا جائے، تاکہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی آل میں سے کوئی باقی نہ رہے اور وہ خود کو خاندانِ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا وارث ظاہر کرکے عوام کی محبت اور اطاعت اپنے حق میں حاصل کر سکیں۔
لیکن جب کربلا کے زندہ رہ جانے والے افراد، یعنی اہلِ بیتؑ کی خواتین اور بچے، شام پہنچے تو امام سجادؑ، حضرت زینبؑ اور دیگر اہلِ بیتؑ کے پرجوش، بلیغ اور حق آشکار کرنے والے خطبات نے دشمن کے تمام منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔
حقیقت یہ ہے کہ حضرت اباعبداللہ الحسینؑ کا الٰہی قیام انہی خواتین اور بچوں کی موجودگی اور ان کی عظیم ذمہ داری کی بدولت ایک محدود سرزمین کے ایک واقعے سے نکل کر ایک عالمگیر، تاریخ ساز اور ابدی حقیقت بن گیا۔
اسی مبارک موجودگی نے نہضتِ عاشورا کو تاریخ کا ایک دائمی اور زندہ جریان بنا دیا؛ ایک ایسا انقلاب جو ان شاء اللہ قیامت تک درخشاں رہے گا، دنیا کے تمام آزاد انسانوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا رہے گا، اور ایمان، عزت، شرافت اور حق کی بقا کے لیے ہمیشہ محرک اور سرچشمۂ قوت بنا رہے گا۔









آپ کا تبصرہ