پیر 20 جولائی 2026 - 22:31
شہیدہ بشریٰ خامنہ‌ای کون تھیں؟ ان کی دوست کی زبانی سنیں

حوزہ/شہیدہ بشریٰ خامنہ ای کی ایک قریبی دوست نے کہا کہ عاجزی اور عوام سے گہرا تعلق اس عظیم شہیدہ کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ عوام کے درمیان رہتی تھیں اور خود کو لوگوں سے الگ نہیں سمجھتی تھیں۔ مزید یہ کہ وہ نہ صرف رہبرِ شہیدِ انقلاب کی بہترین بیٹی تھیں، بلکہ ان کے مکتب کی ایک بہترین شاگرد بھی تھیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا کی شہادت کی مناسبت سے رہبرِ شہیدِ انقلاب اور ان کے شہید خاندان کی یاد میں خواتین کے لیے ایک مجلسِ تعزیت قم میں رہبرِ شہید کے گھر میں منعقد ہوئی۔

خواتین، حضرت زینبؑ کے مشن کی وارث

تقریب کے پہلے حصے میں محترمہ فخر روحانی نے خواتین کے مقام و منزلت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ واقعۂ کربلا میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے صرف اسیری ہی برداشت نہیں کی، بلکہ ایک عظیم الٰہی ذمہ داری بھی نبھائی، اور آج اسی ذمہ داری کو آگے بڑھانا ہماری بھی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حضرت زینبؑ کی رسالت حقائق کی تبیین تھی، اور تبیین ایک معجزہ صفت عمل ہے۔ جس طرح حضرت زینبؑ نے کوفہ میں اپنے خطبے کے ذریعے لوگوں کی سوچ بدل دی، اسی طرح آج ہمیں بھی حقائق کو واضح کرنے کی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے بزرگوں کی شہادت کے بعد ہمیں یہ تصور نہیں کرنا چاہیے کہ ہم نے کچھ کھو دیا ہے، بلکہ حقیقت میں ہم نے ایک عظیم سرمایہ حاصل کیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ اس کی راہ میں شہید ہوتے ہیں وہ زندہ ہیں۔

استادِ جامعۃ الزہراؑ محترمہ فخر روحانی نے مزید کہا کہ حق اور باطل کی کشمکش قیامت تک جاری رہے گی، اور خوش قسمتی سے ہم تاریخ کے درست محاذ پر کھڑے ہیں۔

انہوں نے انقلاب کے راستے میں ثابت قدم رہنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سفر میں بہت سے لوگ مختلف مراحل پر راستے سے الگ ہوتے گئے، اس لیے ہمیں ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے استقامت کی دعا مانگنی چاہیے تاکہ ہم انقلاب کے راستے سے جدا نہ ہوں۔

فخر روحانی نے کہا کہ انقلابِ اسلامی کے آغاز سے آج تک خواتین نے اس انقلاب کا بہت بڑا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھایا ہے۔ خواتین نیک اولاد کی تربیت، ازدواجی زندگی کی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور حقائق کی تبیین کے ذریعے بھی جہاد انجام دے سکتی ہیں، اور تاریخ میں شاید ہی کبھی خواتین کو اتنے وسیع مواقع میسر آئے ہوں۔

بعد ازاں شہیدہ بشریٰ خامنہ ای کے شوہر کے خاندان سے تعلق رکھنے والی محترمہ موسوی نے ان کی اخلاقی اور شخصی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہا کہ انسان کی تخلیق کا مقصد اللہ تعالیٰ کی صفات، جیسے رحمت، مغفرت اور دیگر صفاتِ الٰہی کو اپنے اندر پیدا کرنا ہے۔ انسان جتنا ان صفات کو اپنے وجود میں سمیٹنے میں کامیاب ہوتا ہے، اتنا ہی اہل بیتؑ سے مشابہ ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک مومن انسان کی تین نمایاں خصوصیات دوسروں سے محبت، خوش اخلاقی اور قلبی سکون ہیں۔ جب یہ صفات کسی شخصیت میں جمع ہو جائیں تو اس کی جدائی کا غم یقیناً زیادہ گہرا ہوتا ہے، لیکن اس غم کی کیفیت عام غم سے مختلف ہوتی ہے۔

محترمہ موسوی نے مزید کہا کہ شہیدہ بشریٰ خامنہ ای نے پوری زندگی اس انداز سے گزاری کہ اللہ تعالیٰ، اہل بیتؑ اور عوام سب ان سے راضی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ وہ اپنے والد کی خدمت میں رہیں، لیکن حقیقت میں یہ صرف والد کی خدمت نہیں بلکہ ولایت کی خدمت تھی، اور یہی وصف انہیں حضرت فاطمہ زہراؑ کی سیرت سے قریب کرتا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ عاجزی، عوام سے گہرا تعلق، ذکرِ الٰہی اور دعا کی پابندی بھی شہیدہ بشریٰ خامنہ ای کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ وہ خود کو عوام سے جدا نہیں سمجھتی تھیں۔ وہ نہ صرف رہبرِ شہیدِ انقلاب کی بہترین بیٹی تھیں بلکہ ان کے مکتب کی ایک بہترین شاگردہ بھی تھیں۔

محترمہ موسوی نے کہا کہ شہیدہ بشریٰ خامنہ ای کو اپنی اولاد سے بے حد محبت تھی۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ جب میرے بچے میرے پاس ہوتے ہیں تو مجھے حقیقی خوشی اور نشاط محسوس ہوتی ہے۔ وہ اولاد کی نعمت اور بچوں کی تربیت کی اہمیت پر بھی زور دیتی تھیں، جبکہ ان کی خوش اخلاقی اور مسکراہٹ بھرے انداز نے ہمیشہ دوسروں پر گہرا اثر چھوڑا۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہیدہ بشریٰ خامنہ ای صلہ رحمی اور رشتہ داروں سے ملاقات کی بہت تاکید کرتی تھیں، اپنے شوہر کے خاندان کے ساتھ بھی نہایت محبت اور احترام سے پیش آتی تھیں۔ انہیں مطالعے اور شاعری سے خصوصی شغف تھا، اور ادب سے گہری دلچسپی کی بنا پر انہوں نے قم یونیورسٹی سے فارسی ادب میں تعلیم حاصل کی۔

سادہ زندگی، شہید مصباح المہدی باقری کی نمایاں خصوصیت

اس کے بعد شہید مصباح المہدی باقری کے قریبی رشتہ داروں میں سے محترمہ باقری نے ان کی شخصیت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہید مصباح المہدی باقری نہایت منکسر المزاج، عاجز اور سادہ زندگی گزارنے والے انسان تھے۔ وہ بچوں سے لے کر بزرگوں تک ہر شخص کا احترام کرتے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ کبھی خود کو کامل نہیں سمجھتے تھے، بلکہ ہمیشہ اپنے آپ کو علماء سے علم حاصل کرنے کا محتاج سمجھتے تھے۔ انہیں ہمیشہ دوسروں کی فکر رہتی تھی اور وہ لوگوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اسی طرح وہ واجبات کی پابندی اور محرمات سے اجتناب پر خاص زور دیتے تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ شہید مصباح المہدی باقری اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت پر بہت زیادہ توجہ دیتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ بچے فطرتِ سلیم پر پیدا ہوتے ہیں، لیکن برائیاں ہم بڑوں سے سیکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر والدین کی معمولی غفلت بھی بچوں کی صحیح تربیت میں رکاوٹ بن جائے تو اس کے منفی اثرات ان کی شخصیت پر مرتب ہوتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha