حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام علی رضا پناہیان نے تہران میں حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندے سے گفتگو میں یہ بیان کرتے ہوئے کہ ملک کے موجودہ اہم حالات میں اربعین کے حوالے سے سب سے اہم مسئلہ اہلِ ایمان اور انقلابی قوتوں کی ذمہ داری کا تعین ہے، کہا کہ ہمیں اربعین میں شرکت اور انقلاب کے دفاع کے لیے میدان میں موجود رہنے، دونوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے، کیونکہ یہ دونوں قابلِ جمع ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اربعین میں شرکت یا عدم شرکت کے بارے میں کوئی عمومی حکم نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ ہر شخص کی ذمہ داریاں مختلف ہوتی ہیں۔ بعض افراد، جیسے مواکب کے منتظمین، قافلوں کے ذمہ داران یا وہ لوگ جن کے عراقی عوام سے مؤثر روابط ہیں، اربعین میں خصوصی ذمہ داری رکھتے ہیں۔ جبکہ کچھ افراد اپنے شہروں اور علاقوں میں انقلابی سرگرمیوں اور میدان کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں، اور اگر وہ اپنی جگہ چھوڑ دیں تو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے ہر شخص کا فریضہ اس کے حالات کے مطابق طے ہونا چاہیے۔
حجت الاسلام پناہیان نے کہا کہ موجودہ صورتِ حال ایسی نہیں کہ یہ کہا جائے کہ اربعین میں شرکت بالکل جائز نہیں، کیونکہ الحمدللہ میدان کو سنبھالنے کے لیے کافی افراد موجود ہیں۔ ان کے مطابق، ان کے مشاہدے میں زیادہ تر علاقوں میں آدھے سے بھی کم لوگوں نے اربعین میں جانے کا حتمی فیصلہ کیا ہے، لہٰذا میدان خالی نہیں ہوں گے۔
حوزہ اور یونیورسٹی کے استاد نے کہا کہ بعض لوگ اربعین کو صرف ایک مستحب زیارت سمجھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اس کی خاطر انقلاب کا میدان نہیں چھوڑنا چاہیے، حالانکہ یہ سوچ اربعین کی حقیقت سے ناواقف ہے۔ اربعین خود انقلاب کا میدان ہے، لیکن عالمی اور علاقائی سطح پر۔ ہم نے مقاومت، ایثار اور میدان داری کے بہت سے اسباق اربعین سے سیکھے ہیں۔ اربعین تہذیب ساز، شہید پرور اور محاذِ مقاومت کو مضبوط کرنے والی عظیم تحریک ہے۔
حجت الاسلام علی رضا پناہیان نے داعش کے خلاف کامیابی میں اربعین کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسلامی انقلاب اور ایران و عراق کے شہداء کا خون نہ ہوتا تو اربعین کا راستہ ہی نہ کھلتا۔ اربعین اسلامی انقلاب کی برکتوں کا نتیجہ ہے۔ جس طرح داعش کے خلاف جنگ کے دوران لاکھوں ایرانی زائرین کی شرکت نے عراق میں جذبۂ مقاومت کو تقویت دی اور داعش کی پسپائی میں مددگار ثابت ہوئی، اسی طرح آج بھی اربعین محاذِ مقاومت کا ایک عظیم سرمایہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اربعین کو صرف ایک سادہ زیارت نہ سمجھا جائے، بلکہ یہ اہلِ ایمان اور انقلابی قوتوں کی تربیت اور ان کی تقویت کا ایک نہایت مؤثر ذریعہ ہے، جو نئے افراد کو بھی میدانِ عمل کے لیے تیار کرتا ہے۔
انہوں نے اربعین کے روحانی پہلو پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اربعین حضرت امام حسینؑ کی بارگاہ میں ایک عالمی اور اجتماعی توسل ہے۔ لاکھوں انسانوں کی مشترکہ دعا اور گریہ و زاری کا اثر انفرادی دعاؤں سے کہیں زیادہ ہوتا ہے، اور آج امتِ مسلمہ کو پہلے سے زیادہ اس عظیم توسل کی ضرورت ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت ملتِ ایران اور محاذِ مقاومت کو نصیب ہو۔
ایرانی معروف خطیب نے عراق کی عوام کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سال عراقی عوام کی ایرانی قوم اور شہید رہبر سے محبت ایک خاص انداز میں نمایاں ہوئی ہے۔ ایرانی زائرین کی عراق میں موجودگی نہ صرف اس محبت کا شکریہ ادا کرنے کا ذریعہ ہوگی، بلکہ دونوں قوموں کے درمیان اتحاد کو بھی مزید مضبوط کرے گی۔
حجت الاسلام پناہیان نے اس سال اربعین میں "یا لثارات الحسین" کے شعار کو نمایاں کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سال یہ نعرہ پہلے سے زیادہ واضح مصداق رکھتا ہے، کیونکہ آج "یا لثارات القائد الشهید"، "یا لثارات الحسین" کے تسلسل میں معنی و مفہوم اختیار کرتا ہے، جس سے اس سال کے اربعین کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اربعین کو اپنے شہروں کی سڑکوں تک بھی لانا چاہیے۔ جس طرح ہر سال مختلف شہروں میں اربعین پر نہ پہنچنے والوں کی ریلیاں نکالی جاتی ہیں، اس سال انہیں مزید وسیع اور کئی دنوں پر محیط بنایا جا سکتا ہے تاکہ داخلی میدان بھی سرگرم رہیں اور عوام کا اربعین سے تعلق بھی برقرار رہے۔
استاد پناہیان نے تجویز پیش کی کہ اگر اس سال ہر زائر اپنے ساتھ ایسے دو افراد کو بھی لے جائے جو پہلے کبھی اربعین نہ گئے ہوں، تو اس کے تربیتی، ثقافتی اور انقلابی اثرات گزشتہ برسوں سے کہیں زیادہ ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ اپنی ذمہ داریوں کی وجہ سے اربعین میں شرکت نہیں کر سکتے، اگر وہ انقلاب کے میدان میں رہ کر خدمت انجام دیں تو یقیناً انہیں بھی اربعین کے ثواب سے حصہ ملے گا، جس طرح کبھی کبھی مواکب کے خادمین کو زائرین سے بھی زیادہ اجر مل جاتا ہے۔
آخر میں حجت الاسلام پناہیان نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اربعین اور میدان ایک دوسرے کے لیے دو تکمیلی محاذ ہیں۔ اس سال ہمیں اربعین کو بھی مضبوط بنانا ہے اور میدان کو بھی۔ جو لوگ میدان میں موجود ہیں وہ نئے افراد کو اس میدان میں لائیں اور جو اربعین جا رہے ہیں وہ بھی زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنے ساتھ لے جائیں، تاکہ اربعین پہلے سے زیادہ پر شکوہ ہو اور داخلی میدان بھی پہلے سے زیادہ فعال رہیں۔









آپ کا تبصرہ