ہفتہ 18 جولائی 2026 - 15:12
آیت اللہ العظمیٰ سبحانی کی جانب سے رہبر شہید کی یاد میں مجلس عزاء، رہبرِ انقلاب کی مکمل حمایت کا اعلان

حوزہ/ قم میں آیت اللہ العظمیٰ سبحانی کی جانب سے قائدِ شہید امت حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ‌ایؒ کی یاد میں منعقدہ مجلسِ عزا سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ سید احمد حسینی خراسانی نے کہا کہ ولایتِ فقیہ اسلامی نظام کی مشروعیت اور قومی اتحاد کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی یاد میں منعقد ہونے والی یہ مجالس رہبرِ انقلاب حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ‌ای کی بھرپور حمایت اور انقلاب اسلامی کے اصولوں سے تجدیدِ عہد کا اظہار ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حرم حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا میں آیت اللہ العظمیٰ سبحانی کی جانب سے رہبر شہید امت حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ‌ایؒ کی یاد میں ایک عظیم الشان تعزیتی تقریب منعقد ہوئی، جس میں علماء، مراجع، حوزہ و یونیورسٹی کے اساتذہ، سرکاری شخصیات، طلبہ اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مجلس خبرگانِ رہبری اور شورای نگہبان کے رکن آیت اللہ سید احمد حسینی خراسانی نے کہا کہ آج پورا ملک شہداء کے غم میں ڈوبا ہوا ہے، جبکہ غزہ اور دیگر علاقوں میں معصوم بچوں، خواتین اور شہریوں پر ہونے والے حملے انسانیت کے خلاف کھلی جارحیت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رہبر شہید صرف ایک عظیم رہنما ہی نہیں بلکہ ایک مجاہد، مرجعِ تقلید اور بلند پایہ فقیہ تھے، جن کی شخصیت کی اصل عظمت فقاہت تھی۔ ان کے بقول اسلامی نظام کی بنیاد فقہ اور ولایتِ فقیہ پر قائم ہے اور یہی نظام کی مشروعیت کا سرچشمہ ہے۔

آیت اللہ حسینی خراسانی نے کہا کہ رہبر شہید کی یاد میں منعقد ہونے والی مجالس صرف تعزیتی اجتماعات نہیں بلکہ شہداء کے خون سے وفاداری، انقلاب اسلامی کے اہداف سے وابستگی، دشمنوں سے نفرت اور نئے رہبرِ انقلاب حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ‌ای کی مکمل حمایت کا عملی اعلان ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عصرِ غیبت میں معاشرے کا نظم و نسق، دفاع، جنگ، امن اور ریاستی امور ولیِ فقیہ کی رہنمائی میں انجام پاتے ہیں۔ آئینِ اسلامی جمہوریہ ایران بھی اعلانِ جنگ، صلح اور مسلح افواج کی بسیج کا اختیار ولیِ فقیہ کو دیتا ہے، اس لیے تمام قومی فیصلے فقہ اور ولایتِ فقیہ کے دائرے میں ہونے چاہییں۔

انہوں نے رہبر شہید کی انقلابی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ انقلاب سے پہلے قید و جلاوطنی کی سختیاں برداشت کرتے رہے اور انقلاب کے بعد بھی تقریباً چالیس برس تک مسلسل اسلامی نظام کی قیادت کرتے ہوئے شجاعت، تدبر، حکمت اور عوامی خدمت کی مثال قائم کی، یہاں تک کہ انہیں شہادت کا عظیم مرتبہ نصیب ہوا۔

اپنے خطاب کے اختتام پر آیت اللہ حسینی خراسانی نے زور دیا کہ ایران کی طاقت، کامیابیوں اور دشمنوں کے مقابلے میں استقامت کا راز قومی اتحاد ہے، تاہم یہ اتحاد صرف ولایتِ فقیہ کے محور پر ہی برقرار رہ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملتِ ایران انقلاب اسلامی کے اصولوں اور اپنے رہبر کے ساتھ ثابت قدم رہے گی اور شہداء کے مشن کو آگے بڑھاتی رہے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha