حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کے معروف ہندو رہنما، گلوبل پیس فاؤنڈیشن (SSSGPF) کے بانی، شری سوامی سارنگ نے شہید رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہای کی شہادت پر رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہای اور اسلامی جمہوریہ کے نام الگ الگ تعزیتی خطوط ارسال کرتے ہوئے ایرانی قوم کے ساتھ گہرے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی کے نام اپنے خط میں سوامی سارنگ نے کہا کہ بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں جب الفاظ خاموش ہو جاتے ہیں اور تاریخ خود بولتی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ وہ صرف ایک جنازے میں شرکت کے لیے ایران نہیں آئے بلکہ ایک ایسی قوم کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے آئے تھے جس کے آنسو پوری انسانیت کی زبان بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق ایک عظیم رہنما کی رحلت صرف ایک شخصیت کا دنیا سے رخصت ہونا نہیں بلکہ ایک پورے عہد کا اختتام ہے۔
انہوں نے شہید رہبرِ انقلاب کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا جسدِ خاکی اگرچہ مٹی کے سپرد ہو گیا، لیکن ان کا عزم، ایمان، کردار اور نظریہ ہمیشہ زندہ رہے گا اور آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنے گا۔ انہوں نے لکھا کہ کربلا نے انسانیت کو یہ سبق دیا کہ انسان کی عظمت اس کی عمر سے نہیں بلکہ اس کی قربانی سے ناپی جاتی ہے، اور حضرت امام حسین علیہ السلام کی طرح حق کے راستے میں قربانی دینے والے کبھی فراموش نہیں ہوتے۔
سوامی سارنگ نے قرآن کریم کی اس آیت کا بھی حوالہ دیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوئے انہیں مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں" اور کہا کہ یہ حقیقت تمام تہذیبوں اور مذاہب میں مشترک ہے کہ راہِ حق میں جان دینے والے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایک قدیم سناتن تہذیب کے فرزند کی حیثیت سے ایران کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ایمان، انصاف اور انسانی وقار کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے والے افراد کی روشنی ان کی ظاہری زندگی کے بعد بھی انسانیت کی رہنمائی کرتی رہتی ہے۔ انہوں نے ایرانی قوم، رہبرِ انقلاب کے اہل خانہ اور قیادت کے لیے صبر و استقامت کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا نے ایران کو غم، وقار، ایمان اور ثابت قدمی کے ساتھ اس سانحے کا سامنا کرتے دیکھا ہے۔
آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہای کے نام اپنے خصوصی تعزیتی خط میں سوامی سارنگ نے لکھا کہ بعض اوقات تقدیر صرف ایک خاندان کو نہیں بلکہ پوری قوم کو آزمائش میں ڈال دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک عظیم والد اور رہنما کی جدائی ایسا نقصان ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا، تاہم ایک قوم اپنے قائد کی یاد، تعلیمات اور مشن کو ہمیشہ زندہ رکھتی ہے۔
انہوں نے لکھا کہ آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہای صرف ایک والد نہیں بلکہ ایمان، علم، تہذیب اور قیادت کی عظیم علامت تھے، جن کی سرپرستی نے نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پوری ایرانی قوم کو اعتماد، استحکام اور حوصلہ عطا کیا۔ ان کے بقول اب یہ تاریخی ذمہ داری آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہای کے کندھوں پر آ گئی ہے کہ وہ اس عظیم میراث کو آگے بڑھائیں۔
سوامی سارنگ نے اپنے خط میں کربلا کے پیغام کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی قربانی نے ثابت کیا کہ سچائی کی میراث کبھی ختم نہیں ہوتی بلکہ ہر دور میں نئی نسلوں تک منتقل ہوتی رہتی ہے۔ انہوں نے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہی ہستیوں نے شہادت کے پیغام کو ہمیشہ کے لیے زندہ رکھا اور قربانی کو ایک دائمی تہذیبی پیغام میں تبدیل کر دیا۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہای اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ایران کی عزت، خودمختاری، قومی وقار اور تہذیبی تشخص کو مزید مضبوط کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی قدیم تہذیب کے نمائندے کی حیثیت سے وہ ایرانی عوام کے ساتھ صرف ہمدردی ہی نہیں بلکہ تہذیبی یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں، کیونکہ دونوں تہذیبیں حق، قربانی، عدل اور اخلاقی جرات جیسی مشترکہ اقدار پر یقین رکھتی ہیں۔
خط کے اختتام پر سوامی سارنگ نے شہید رہبرِ انقلاب اسلامی کے لیے بلندیِ درجات، ایرانی عوام کے لیے صبر و استقامت، آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہای اور اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت کے لیے کامیابی جبکہ پوری دنیا کے لیے امن، انصاف اور انسانیت کے فروغ کی دعا کی۔









آپ کا تبصرہ