جمعرات 16 جولائی 2026 - 19:15
رہبرِ شہید کی زاہدانہ زندگی میں ان کی اہلیہ کا کردار

حوزہ/کائنات میں جب بھی کوئی مرد کامیابی کی منزلیں طے کرتا ہے اور فتوحات کے ایوانوں تک پہنچا نظر آتا ہے تو سب سے پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ یہ کیسے اس مقام تک پہنچا؟

تحریر: شازیہ بتول، جامعہ المصطفیٰ کراچی

حوزہ نیوز ایجنسی|
کائنات میں جب بھی کوئی مرد کامیابی کی منزلیں طے کرتا ہے اور فتوحات کے ایوانوں تک پہنچا نظر آتا ہے تو سب سے پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ یہ کیسے اس مقام تک پہنچا؟

کسی بھی انسان کی کامیابی کے پیچھے کچھ ایسے عوامل ہوتے ہیں جو اسے معاشرے کا کامیاب ترین فرد بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ طول تاریخ میں اگر کامیاب مردوں کو دیکھا جائے تو ان کی کامیابی کے پیچھے بھی کچھ عوامل ہیں جو ان کی کامیابی کا راز کہلائے جاتے ہیں۔ بالکل اسی طرح اگر دین اسلام کی تاریخ کے چپے چپے کو چھان مارا جائے تو اس تاریخ کے گوشے گوشے میں موجود ہر کامیاب مرد اپنی کامیابی کے پیچھے بے شمار عوامل سموئے ہوئے ہے۔ ان عوامل میں سے ایک بہت بڑا عامل خاتونِ خانہ کا کردار ہے۔ دین اسلام کی تاریخ میں اگر کوئی مرد اپنے اہداف تک پہنچ پایا ہے اور معاشرے میں ترقی کی منازل کو طے کر پایا ہے تو اِس میں اُس کی خاتونِ خانہ کا کردار نمایاں اور سر فہرست رہا ہے۔ تاریخ میں بہت سی ایسی مثالیں ہیں جس سے یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے۔ ایک خاتون خانہ اپنے شوہر کے لیے نعمت بھی بن سکتی ہے اور زحمت بھی ۔ ایک مرد کی کامیابی میں خاتون کے کردار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ خود وہ کامیاب ترین افراد اس بات کا اقرار اور اعتراف کرتے نظر آتے ہیں کہ اگر ہماری خاتون خانہ ہمارا ساتھ نہ دیتیں، اگر ہماری خاتون خانہ ہمارے ساتھ تعاون نہ کرتیں، تو ہم اس مقام تک نہ پہنچ پاتے۔
عورت کا کردار مرد کی کامیابی میں چکی کے بیچ میں موجود اس کیل کی مانند ہوتا ہے جس کے بغیر چکی حرکت ہی نہیں کر سکتی کیونکہ چکی کے بیچ میں لگی وہ 'کیلی' (مڈل پن) بظاہر نظر نہیں آتی، لیکن وہی چکی کے دونوں پاٹوں کو جوڑ کر رکھتی ہے اور اناج کو پیسنے کے قابل بناتی ہے۔

دین اسلام کی تاریخ میں ایسی بہت سی خواتین موجود ہیں جو ہر دور کی خواتین کے لیے نمونۂ عمل ہیں۔ جن میں سے ایک مشہور ترین خاتون رہبر انقلاب اسلامی ایران شہید آیت اللّٰہ العظمیٰ سید علی الحسینی خامنہ ای کی زوجۂ محترمہ ہیں کہ جن کے زہد، تقوی اور وفاداری کے گواہ خود ان کے ہمسر رہبرِ شہید ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی ایران شہید آیت اللّٰہ العظمی سید علی الحسینی خامنہ ای کی زوجہ بے انتہا زاہدہ اور با تقوی خاتون تھیں۔ جن کی وفاداری کا اعتراف کرتے ہوئے اور ان کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے خود رہبر معظم شہید آیت اللّٰہ العظمی سید علی خامنہ ای فرماتے ہیں کہ پہلی خصوصیت جو میری زوجہ میں پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ میری زوجہ اطمینان، سکون اور بلند حوصلے کی حامل ہیں، باوجود اس کے کہ ہمارا گھر کئی مرتبہ حکومتی کارندوں کے حملوں کا شکار رہا، میں ان کے سامنے متعدد مرتبہ گرفتار ہوا، آدھی رات کے وقت مجھے گرفتار کرنے کے لیے گھر پر حملہ کیا گیا اور مجھے تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا لیکن میں نے کبھی اپنی زوجہ پر خوف، کمزوری اور بیچارگی کے آثار نہیں دیکھے۔
وہ مجھ سے جیل میں بلند اور مضبوط حوصلے کے ساتھ ملاقات کرتی تھیں۔ وہ اپنی ملاقات کے دوران میرے اندر اعتماد اور اطمینان پیدا کر جاتی تھیں۔ زوجہ نے مجھے جیل میں کبھی کوئی ایسی خبر نہیں سنائی جس نے مجھے پریشان کیا ہو اور مجھے یاد نہیں کہ کبھی بچوں میں سے کسی کی بیماری کی خبر دی ہو یا والدین اور رشتہ داروں سے متعلق کوئی پریشان کن بات بتائی ہو۔
دوسری صفت انقلاب سے پہلے غربت اور تنگدستی پر صبر و تحمل کرنا اور انقلاب کے بعد سادہ زندگی پر اصرار کرنا تھی۔
رہبر شہید رح خود فرماتے ہیں کہ میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ ہمارا گھر ہمیشہ فضول خرچیوں اور تکلفات اور آرائشوں سے مکمل دور رہا ہے جو عام گھروں میں پائی جاتی ہیں۔ اس میں میری زوجہ کا بڑا کردار ہے، درست ہے کہ میں نے اپنی زندگی کا آغاز اسی طرح کیا اور زوجہ کی بھی اسی راہ کی طرف رہنمائی کی اور اس کے اندر اس روح کو بیدار کیا لیکن ایمانداری کے ساتھ کہوں گا کہ وہ اس میدان میں مجھ پر سبقت لے گئیں۔
رہبر شہید سید علی الحسینی خامنہ ای اپنی نیک اور صالح خاتون کے زہد کی مثال بیان کرتے ہوئے اپنی ایک یادداشت کا تذکرہ فرماتے ہیں، کہ انہوں نے کبھی مجھ سے اپنے لیے لباس خریدنے کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ وہ مجھے بتاتیں کہ بچوں کے لیے کپڑوں کی شدید ضرورت ہے اور خود جا کے خرید لاتیں۔ انہوں نے کبھی اپنے لیے زیور نہیں خریدا ان کے پاس اپنے والد کے گھر سے اور بعض عزیزوں کی طرف سے تحفے میں ملنے والا زیور تھا جسے انہوں نے بیچ دیا اور اس کی رقم راہ خدا میں خرچ کر دی۔ ان کے پاس اس وقت کسی قسم کا زیور یہاں تک کہ ایک معمولی انگوٹھی بھی نہیں ہے۔

رہبر انقلاب شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای اپنی زاہدانہ زندگی اور رہن سہن کے بارے میں ایک یاد داشت کا تذکرہ کرتے ہوئے ہوں بھی فرماتے ہیں، کہ ہمارے گھر میں ایک قالین بچھا ہوا تھا لیکن میں نے دیکھا کہ یہ قالین اضافی ہے تو اسے بیچ دیا اور اپنی زوجہ کے مہمانوں کے کمرے میں دو قالین باقی رہنے دئیے اور خود سے کہا "میں ان دو قالینوں کو زوجہ کے جہیز کے قالین کا بدل فرض کرتا ہوں"۔جب میں نے قالین بیچنے کا ارادہ کیا تو زوجہ کے گھر والوں کو نہیں بتایا میری زوجہ کے بھائی اور ماموں قالین کی تجارت کرتے تھے اور میں جانتا تھا کہ وہ مجھے قالین بیچنے سے روک دیں گے۔ میں نے ایک برادر حاج صفاریان کو بلایا، جو آج بھی مشہد میں رہتے ہیں اور ان سے کہا، اتنے عدد قالین لے جائیں اور بیچ دیں اور اس کے بدلے ہمارے لیے چٹائیاں خرید لیں۔ چٹائی ایران میں سستی اور چھوٹی ہوتی ہے۔ انہوں نے ان قالین کو بیچ کر چٹائیاں خریدیں۔ تین کمروں میں چٹائیاں بچھیں اور کافی ساری چٹائیاں بچ گئیں۔ شاید تین کمروں میں 9 چٹائیاں بچھیں اور 14 یا 15 چٹائیاں بچ گئیں۔ میں نے وہ چٹائیاں اپنے ایک شاگرد کو دیں اور کہا کہ یہ چٹائیاں طالب علموں میں تقسیم کر دو، ہر طالب علم کو ایک یا دو چٹائیاں اس کی ضرورت کے مطابق دے دو، اس شاگرد نے ایسا ہی کیا اور شاید ابھی تک بعض برادران کے گھروں میں وہ چٹائیاں موجود ہوں۔
جب زوجہ نے یہ سب دیکھا تو صرف یہی کہا، آپ نے یہ دو قالین میرے کمرے میں کیوں باقی رکھے؟ میں نے کہا: یہ اس قالین کے بدلے ہیں جو آپ اپنے جہیز میں لائی تھیں۔ کہنے لگیں، نہیں نہیں انہیں بھی بیچ دیں۔ میں نے اسی برادر حاجی صفاریان کو بلایا اور انہوں نے وہ قالین بھی بیچ دیا۔ پھر ہم نے زوجہ کے مہمانوں کے کمرے میں کارپٹ کے دو ٹکڑے بچھائے۔ وہ اس وقت ہماری نظروں میں چٹائیوں سے بہتر تھے پھر زوجہ نے وہ کارپٹ کے دو ٹکڑے بھی تحفے میں دے دئیے اور آج بھی ہمارے گھر میں صرف وہی 9 چٹائیاں موجود ہیں، ان کے علاوہ گھر میں کسی قسم کا قالین موجود نہیں ہے سوائے ایک قالین کے، جس کی کہانی کچھ یوں ہے کہ ہمارے قالین بیچنے کے بعد زوجہ کے بھائی اور ماموں ہمارے گھر آئے، گھر دیکھا تو حیران ہوئے اور مجھ سے گلہ کرتے ہوئے کہنے لگے، "قالین باقی رہتا ہے اور چٹائی بوسیدہ ہو جاتی ہے۔ یہ زہد نہیں بلکہ اسراف ہے" میں نے ان سے کہا پہلی بات یہ ہے کہ میرے خیال میں کفایت شعاری صرف قالین خریدنے اور چٹائی نہ خریدنے میں نہیں ہے اور پھر میں نے یہ اس لیے کیا کیونکہ لوگ مجھے اپنے لیے نمونۂ عمل سمجھتے ہیں لہذا میں چٹائی اور کارپٹ پر زندگی گزارنے کو ترجیح دیتا ہوں۔ پھر ان میں سے ایک نے کہا، چٹائی سے سستا قالین بھی موجود ہے، آپ نے وہ قالین کیوں نہیں خریدا؟ میں نے پوچھا، کیا ایسا قالین بھی ہے؟ کہنے لگے، جی ہاں ایک قالین ہے جسے قالین بیچنے والے اقرع کہتے ہیں۔ جس کے بعض اطراف سے اون اتر جاتی ہے اور دھاگے باقی رہ جاتے ہیں۔ اگر آپ قناعت کرنا چاہتے ہیں تو اس طرح کا قالین خرید لیں۔ میں گیا اور دو قالین خرید لایا جو ابھی تک موجود ہیں اور وہ استثنائی قالین ہیں جس کا میں ذکر کر رہا ہوں وہ میرے کتاب خانے میں بچھے ہوئے ہیں۔
جب میں ایران کا صدر تھا اور پارلیمنٹ کی پشت پر ایک سادے سے گھر میں رہتا تھا تو اس گھر میں بھی یہی دو قالین بچھے ہوئے تھے ایک دوست آئے اور قالین دیکھ کر میرے بچوں سے پوچھا، آپ لوگوں نے دونوں قالین الٹے کیوں بچھائے ہوئے ہیں؟ بچے ہنستے ہوئے کہنے لگے، قالین الٹے نہیں بلکہ سیدھے ہی بچھے ہوئے ہیں۔ اون اتر جانے اور صرف دھاگہ رہ جانے کی وجہ سے اس دوست نے سمجھا کہ قالین الٹے پڑے ہوئے ہیں۔

رہبر شہید کی زندگی زاہدانہ طرز پر تھی جس میں ان کی زوجہ کا کلیدی کردار تھا۔ آپ خود فرماتے ہیں کہ یہ سب اللہ تعالی کے ہم سب پر اور اس نیک زوجہ پر فضل و احسان کا نتیجہ ہے۔ دنیاوی زرق برق اور فضول خرچیوں کے حوالے سے اس خاتون کا رویہ واقعا ایک عالی مرتبہ روح کا نتیجہ ہے جو خداوند متعال نے انہیں عطا کی تھی اور ہم بھی اس احسان سے بہرہ مند تھے۔ جیل، تشدد، شہر بدری اور قاتلانہ حملوں سمیت جتنی مشکلات پیش آئیں میں نے کبھی ان کے چہرے پر کمزوری کے آثار نہیں دیکھے بلکہ میں اپنے مزاحمتی راستے کو جاری رکھنے میں ان کے عزم و ارادے سے مدد لیتا تھا، یہاں تک کہ میری مرحومہ والدہ اگرچہ صبر، بصیرت اور استقامت جیسی صفات کی حامل تھیں لیکن اس درجے کا تحمل اور استقامت نہیں رکھتی تھیں۔ میری والدہ بہادر اور جرات مند خاتون تھیں۔ آپ ہمیشہ مجھے جہاد کے راستے پر گامزن رہنے کی ترغیب دلاتیں۔ یہاں تک کہ پہلی مرتبہ جیل سے آزاد ہونے پر آپ نے کہا تھا، "اے میرے بیٹے! مجھے تم پر فخر ہے اور خدا سے دعا گو ہوں کہ وہ اس راستے میں اپنی توفیق تمہارے شامل حال رکھے" لیکن بار بار کی گرفتاریوں اور جیلوں نے انہیں تھکا دیا تھا اور ایسی باتیں کرنے لگی تھیں کہ گویا میری جوانی جیلوں میں گزر جانے پر شاکی ہیں لیکن زوجہ پر کبھی کمزوری پریشانی یا تھکاوٹ کے آثار دکھائی نہیں دئیے۔
یہی وجہ ہے کہ رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای جو آج سب کے دلوں میں عزیز ہوئے ہیں، جو آج سب کے دلوں پر حکومت کر رہے ہیں، جن کی زندگی کا ایک ایک پہلو اس دور اور پورے عالم اسلام کے ایک ایک فرد کے لیے نمونۂ عمل ہے، جو اس عہدے پر فائز تھے کہ اس سے بڑا کوئی عہدہ موجود نہ تھا، جو سپریم لیڈر کے عہدے پر فائض تھے لیکن ان کا گھر اس قدر سادہ اور نظافت سے بھرپور ہے، جو ان کی عظیم الشان اور الٰہی شخصیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جن کے گھر کا سامان انتہائی قلیل اور ضرورت کے مطابق ہے کہ ان کا گھر دیکھ کر ان کے زہد و تقوی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اُن کی اس زاہدانہ اور کامیاب زندگی کے پیچھے ان کی خاتونِ خانہ زوجۂ محترمہ کا ہاتھ تھا کہ جنہوں نے کبھی فضول خرچی نہیں کی، جنہوں نے اپنے ہمسر کا ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا، جو اپنے ہمسر کی کمزوری نہیں بلکہ ان کی طاقت تھیں، جن کے صبر و استقامت اور محکم عزائم کی وجہ سے رہبر شہید سید علی خامنہ ای پورے عالم اسلام کے لیے نمونۂ عمل قرار پائے، پورے عالم اسلام کے دلوں میں حکومت کر رہے ہیں۔
یقینا پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے ہوتی ہیں اور رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی الحسین خامنہ ای جیسے پاک و طیب و پاکیزہ، با زہد و با تقوی مرد کے لیے ان کی زوجۂ گرامی ان کے لئے خدا کا بہترین انتخاب تھیں۔
ہمارا سلام ہو ان خواتین پر جو اپنے مردوں کی کامیابی کا ذریعہ بنتی ہیں، جو اپنے مردوں کے اہداف کی تکمیل کا وسیلہ بنتی ہیں، جو اپنے مردوں کو جنت کا راستہ دکھاتی ہیں، جو اپنے مردوں کو خدا کی خوشنودی اور اس کی رضائیت تک لے جاتی ہیں۔
بے شک ایک عورت اپنے مرد کو جنت تک بھی لے جا سکتی ہے اور یہی ایک عورت اپنے مرد کو جہنم کا ایندھن بھی بنا سکتی ہے۔
پس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر مرد اپنی خاتون خانہ کی عزت کرے، اس کا احترام کرے، اس کی قدر کو پہچانے اور ہر خاتون اپنے مرد کی استطاعت کے مطابق اپنی خواہشوں کا اظہار کرے، اپنی زندگی کو ایسے گزارے کہ اس کا مرد خود اس کی وفاداری اور اس کی ایمانداری کا اعتراف کرے۔
اس میدان میں ہمارے پاس بہترین اور عینی مثال رہبر مظلوم شہید آیت اللہ العظمی سید علی الحسینی خامنہ ای اور ان کی زوجۂ محترمہ کی زاہدانہ زندگی اور اُن کی اپنے شوہر سے وفاداری ہے جو اس دور کی ایک ایک خاتون کے لیے اسوۂ کامل ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha