ترتیب وترجمه: ڈاکٹر محمد لطیف مطہری
حوزه نیوز ایجنسی ا
ایران کی حکمرانی کی تاریخ میں شہید رہبر معظم سید علی خامنہای(رہ) کی بعض بے مثال اختصاصی خصوصیات ہیں جنہیں ہم ذکر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اختصاصی خصوصیات سے مراد کسی شخصیت کی وہ منفرد خصوصیات ہیں جو تاریخ میں اسے ممتاز بناتی ہیں۔اس سلسلۂ تحریر میں ہم انقلابِ اسلامی کے شہید رہبر کی انہی منفرد خصوصیات کا جائزہ لیں گے؛ یعنی وہ غیرمعمولی صفات جو اس سرزمین کی حکمرانی کی تاریخ میں اپنی مثال نہیں رکھتیں۔
چوتھی خصوصیت: شیعہ اور سنّی کے درمیان پُرامن بقائے باہمی
شیعہ اور سنّی کے درمیان وحدت کوئی نئی بات نہیں۔ مختلف ادوار میں اس لیے وحدت کی بات کی جاتی رہی کہ یہ دونوں مذاہب ایک دوسرے کے ساتھ پُرامن طریقے سے زندگی گزار سکیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اکثر یہ وحدت ایک حکمتِ عملی (تاکتیکی) نوعیت کی ہوتی تھی۔ یعنی شیعہ علما عموماً یہ سمجھتے تھے کہ دشمن کو موقع نہ دینے یا خونریز تصادم سے بچنے کے لیے، تقیہ کے طور پر اہلِ سنّت کے مقدسات کی علانیہ توہین نہیں کی جاتی۔ حتیٰ کہ آج بھی بعض شیعہ اسی سوچ کے حامل ہیں؛ ان کا نجی رویہ اور عوامی رویہ مختلف ہوتا ہے۔
مگر شہید رہبر کا فرق یہ تھا کہ وہ اس وحدت کو وقتی حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک قلبی عقیدہ سمجھتے تھے۔ روایت ہے کہ ایک نشست میں رہبر کے ایک قریبی شخص نے کہا کہ وہ عیدالزہراء کی محافل اس طرح منعقد کرتے ہیں کہ ان کی کوئی ویڈیو یا تصویر باہر نہ جائے، اور انہوں نے کہا: "آپ مطمئن رہیں، ہم اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ یہ محافل نجی رہیں اور ہم آپ کے اس فتویٰ پر عمل کرتے ہیں کہ اہلِ سنّت کے مقدسات کی توہین حرام ہے۔" نقل کے مطابق، شہید رہبر اس بات پر ناراض ہوئے اور فرمایا "میں واقعی یقین رکھتا ہوں کہ توہین نہیں ہونی چاہیے... میں نہیں جانتا آپ کیا سمجھتے ہیں، لیکن میں نے وصیت کی ہے کہ یہ فتویٰ میرے کفن پر لکھا جائے۔"
حتیٰ کہ پچھلی دو دہائیوں میں نظام کا احتیاط اس حد تک تھا کہ عام طور پر زیارتِ عاشورا بھی ٹیلی ویژن پر نشر نہیں کی جاتی تھی۔
رضا امیرخانی کی کتاب داستان سیستان میں بھی بارہا اہلِ سنّت کے ساتھ رہبر شہید کے احترام کا ذکر آیا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ایرانشہر کے اہلِ سنّت انہیں اپنا پرانا دوست سمجھتے تھے۔ اس سفر کے دوران جہاں بھی شیعہ اور سنّی کا ذکر آیا، وہ اپنی گفتگو میں سنّی کو شیعہ پر مقدم رکھتے تھے۔
ان سب سے بڑھ کر ایک اہم نشانی وہ ہے جو ان کے لاشعوری اعتقاد کو ظاہر کرتی ہے۔ لاشعور سے نکلنے والا رویہ الفاظ یا شعوری اعمال سے کہیں زیادہ اہم ہوتا ہے۔ اسی کتاب میں ایک مقام پر ذکر ہے کہ وہ ایک ٹیلے پر پہنچے جہاں پانچ گمنام شہداء کی قبریں تھیں۔ وہاں انہوں نے پوچھا: "کیا آپ نے ایسا انتظام کیا ہے کہ اہلِ سنّت بھی یہاں آسانی سے زیارت کر سکیں؟" ساتھیوں نے حیرت سے پوچھا: "کیسے؟" انہوں نے فرمایا: "یہ گمنام شہداء ہیں، آپ کو کیسے یقین ہے کہ سب شیعہ ہیں؟"
یہی ان کے لاشعوری رویے کی جھلک ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ صوبہ اور دیگر سنّی اکثریتی علاقے شدید بدامنی کا شکار ہو سکتے تھے۔
یہ کوئی خیالی داستان یا تجزیہ نہیں۔ گزشتہ چالیس برسوں میں، دشمنوں اور بعض نادان عناصر کی جانب سے مذہبی اختلافات کو بھڑکانے کی کوششوں کے باوجود، اس سرزمین میں ایک پُرامن اور ہم آہنگ بقائے باہمی قائم رہی۔ یہ بھی شہید رہبر کی ان منفرد خصوصیات میں سے ہے کہ انہوں نے ایسے اختلافات کو بے نتیجہ اور جاہلانہ تصادم میں تبدیل نہیں ہونے دیا۔ لوگوں کا گمان تھا کہ یہاں ہمیشہ یہی مسالمت آمیز بقائے باہمی قائم رہی ہے۔حالانکہ ایسا نہیں ہے سیّد علی خامنہای شہید نے اپنی تاریخی بصیرت سے یہ پر امن فضا قائم کی ہے۔









آپ کا تبصرہ