اتوار 12 جولائی 2026 - 22:03
رہبرِ انقلاب شہید سید علی خامنہ ای کی منفرد خصوصیات (قسط3)

حوزہ/ایران کی حکمرانی کی تاریخ میں شہید رہبر معظم سید علی خامنہ‌ای (رہ) کی بعض بے مثال اختصاصی خصوصیات ہیں جنہیں ہم ذکر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اختصاصی خصوصیات سے مراد کسی شخصیت کی وہ منفرد خصوصیات ہیں جو تاریخ میں اسے ممتاز بناتی ہیں۔

ترتیب وترجمہ: ڈاکٹر محمد لطیف مطہری

حوزہ نیوز ایجنسی|

ایران کی حکمرانی کی تاریخ میں شہید رہبر معظم سید علی خامنہ‌ای (رہ) کی بعض بے مثال اختصاصی خصوصیات ہیں جنہیں ہم ذکر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اختصاصی خصوصیات سے مراد کسی شخصیت کی وہ منفرد خصوصیات ہیں جو تاریخ میں اسے ممتاز بناتی ہیں۔اس سلسلۂ تحریر میں ہم انقلابِ اسلامی کے شہید رہبر کی انہی منفرد خصوصیات کا جائزہ لیں گے؛ یعنی وہ غیرمعمولی صفات جو اس سرزمین کی حکمرانی کی تاریخ میں اپنی مثال نہیں رکھتیں۔

تیسری خصوصیت

اقتدار کے لیے لابنگ نہ کرنا

یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اس سرزمین کے تقریباً تمام حکمران اقتدار تک پہنچنے کے لیے کوئی نہ کوئی منصوبہ رکھتے تھے۔ یہ منصوبے چاہے مثبت ہوں یا منفی ، افراد کی تیاری (کادرسازی)سیاسی تیاری اوربعض اوقات چالاکیوں و سازشوں کے ساتھ ہوتے تھے۔ حتیٰ کہ امام خمینی رہ نے بھی مثبت معنی میں نجف اشرف میں "ولایتِ فقیہ" کے دروس و کتاب تحریر کرنے کے بعد کا رسالہ لکھنے کے بعد اسلامی جمہوریہ کے قیام کا واضح ہدف اپنے پیش نظر رکھا تھا ۔ لیکن شہید رہبر اس اعتبار سے تمام حکمرانوں سے منفرد نظر آتے ہیں ۔ سب پر واضح ہے کہ انہوں نے اقتدار حاصل کرنے کے لیے کوئی منصوبہ نہیں بنایا، بلکہ دوست اور مخالف دونوں کی بیان کردہ یاد داشتیں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ انہوں نے نہ صرف قیادت کے حصول کے لیے کوشش نہیں کی بلکہ ہمیشہ اس کے برعکس رویہ اختیار کیا۔

آقای موسوی خوئینی‌ نقل کرتے ہیں کہ رہبر کے انتخاب سے پہلے ایک اہم اجلاس میں ان کا نام بطور امیداور بار بار لیا جا رہا تھا، لیکن وہ خود ہی اس بات کی اجازت نہیں دیتے تھے کہ ان کا نام پیش کیا جائے؛ خصوصاً اس لیے کہ سید علی خامنہ‌ای فطری شرافت کے مالک تھے اور جب تک ان کے استاد اور مرشد زندہ تھے، وہ ہرگز یہ پسند نہیں کرتے تھے کہ ان کا نام قیادت کے امیدوار کے طور پر لیا جائے یا اس کا احتمال بھی ظاہر کیا جائے۔ (افسوس ان لوگوں پر جو رہبر شہید کی زندگی میں ہی آئندہ قیادت کے لیے خود کو پیش کرنے میں مصروف تھے!)

یہ حقیقت ہے کہ ان کے استاد امام خمینی رہ مختلف مواقع پر ان کا نام پیش کرتے تھے اور بے تکلف انداز میں انہیں خورشید "سورج" سے تعبیر کہتے تھے، لیکن شہید رہبر ہی اس بات کی اجازت نہیں دیتے تھے کہ یہ اقوال عام ہوں یا تحریری و مستند شکل اختیار کریں۔

ان باتوں کے ثبوت کے لیے یہ دیکھنا کافی ہے کہ انقلاب کا یہ "آفتاب " کس طرح قیادت تک پہنچا۔ مجلس خبرگان کی تاریخ کے اہم ترین اجلاس میں طویل بحث کے بعد قیادت کے شورائی یا انفرادی ہونے پر ووٹنگ ہوئی، اور انفرادی قیادت کو منتخب کیا گیا۔ جیسے ہی طے ہوا کہ ایک فرد کا انتخاب ہوگا، ایک نمائندے نے فوراً کہا: اب مزید بحث کی ضرورت نہیں، آقای خامنہ‌ای، آقای خامنہ‌ای!

اس کے باوجود اسی اجلاس میں شہید رہبر نے آقای ہاشمی رفسنجانی کو امام خمینی رہ سے متعلق وہ معروف واقعہ بیان کرنے کی اجازت نہیں دی جس میں امام نے صراحتاً شہید رہبر کا نام لیا تھا۔ تاہم نمائندوں کے اصرار پر جب وہ واقعہ بیان کی گئی تو انہوں نے فرمایا: "اس اسلامی معاشرے پر خون کے آنسو رونے چاہئیں کہ مجھ جیسے شخص کا نام قیادت کے لئے پیش کیا جائے ۔" لیکن ان کی اس واضح انکار کے باوجود، مجلس خبرگان کے اراکین اپنے فیصلے پر اور زیادہ مضبوط ہو گئے؛ کیونکہ ان کے نزدیک یہ بات اس بات کی دلیل تھی کہ ان کا منتخب شخص خدا ترسی، انکساری اور احساس ذمہ داری کی بنا پر ایسا کہہ رہا ہے، خصوصاً اس لیے کہ وہ رہبر شہید کو ایک خطیب،ادیب،عالم اور مدبر سیاست دان کی حیثیت سے انقلاب اسلامی کے پہلے عشرے کے سخت ترین امتحانات میں آزماچکے تھے۔ ان کی یہی عاجزی اراکین کے اطمینان کا باعث بنی کہ قیادت کے لئے موزوں ترین شخصیت وہی ہے جو جاہ و منصب کی خواہش مند نہ ہو۔

حکمرانی میں ان کی پرہیزگاری اور تقوی کی ایک مثال یہ ہے کہ جن لوگوں نے مجلسِ خبرگان میں ان کی قیادت کے خلاف ووٹ دیا، بعد میں انہوں نے انہی افراد کو اہم اور حساس ذمہ داریوں پر فائز کیا۔ یعنی اس تاریخی اجلاس میں اختلاف رائے ہر گز اس بات کا سبب نہیں بنا کہ انہیں نظر انداز کیا جائے یا ان کی صلاحیتوں سے فائدہ نہ اٹھا یا جائے۔

مثال کے طور پر ۴ جون ۱۹۸۹ کے اجلاس میں حجت‌الاسلام سید کاظم نورمفیدی، جنہوں نے اس اجلاس میں ان کے خلاف ووٹ دیا تھا، لیکن اس کے باوجود آج تک گرگان کے امام جمعہ اور صوبہ گلستان میں نمائندۂ ولی فقیہ رہے۔ اسی طرح مرحوم آیت‌الله مؤمن قمی، جو ان کے مخالف ووٹ دینے والوں میں تھے، بعد میں کئی ادوار تک شورای نگهبان کے فقیہ رکن مقرر کیے گئے اور ہمیشہ رہبر شہید کی محبت و توجہ کا مرکز رہے۔ یہ صرف چند نمونے ہیں جو حکمرانی کے میدان میں ان کی غیر معمولی رواداری اور وسعتِ ظرفی اور انصاف کو نمایاں کرتی ہیں ۔ انہوں نے کبھی ذاتی یا غیر اصولی اختلافات کو قومی اور اجتماعی فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونے دیا۔

فقاہت اور عدالت، قیادت،زعامت اور مرجعیت امت کے دو بنیادی اصول ہیں، اور شہید رہبر نے اپنے منفرد سیاسی کردار اور طرز حکمرانی کے ذریعے ان اصولوں کو عملی صورت عطا کی اور ایسا حکمرانی کا نمونہ پیش کیا جس کا موازنہ اس سرزمین کے بہترین حکمرانوں سے بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha