یادداشت: مولانا محمد لطیف مطہری
حوزہ نیوز ایجنسی|
بسم ربّ الشہداء والصدیقین
حال ما در هجر رہبر کمتر از یعقوب نیست
او پسر گم کرده بود و ما پدر گم کردهایم
رہبر کی جدائی میں ہمارا حال حضرت یعقوبؑ سے کم نہیں؛ انہوں نے اپنے بیٹے کا فراق سہا تھا اور ہم اپنے روحانی باپ کی جدائی کا غم اٹھا رہے ہیں۔
اے میرے محبوب رہبر!
آخر کہاں سے آغاز کروں؟ اس آہ سے جو برسوں سے سینے میں قید ہے، یا ان آنسوؤں سے جو آج بھی آپ کی جدائی کی خبر کو جھٹلا دینا چاہتے ہیں؟
میں بارہا اپنے دل کو سمجھاتا ہوں کہ آپ ظاہری طور پر ہم سے رخصت ہو چکے ہیں، مگر دل ہر مرتبہ یہی صدا دیتا ہے کہ "شہید مرتے نہیں، وہ صرف نگاہوں سے اوجھل ہوتے ہیں؛ ان کی حیات دلوں، افکار اور تاریخ میں ہمیشہ جاری رہتی ہے۔"
آج بھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آپ کی آواز ہمارے کانوں میں گونج رہی ہے، آپ کی پُرشفقت نگاہ ہمارے دلوں کو حوصلہ دے رہی ہے، اور آپ کے حکیمانہ کلمات ہمارے لیے چراغِ راہ بنے ہوئے ہیں۔ بعض شخصیتیں جسمانی طور پر رخصت ہو جاتی ہیں، مگر ان کی موجودگی وقت گزرنے کے ساتھ اور بھی زیادہ محسوس ہونے لگتی ہے۔ آپ بھی انہی عظیم ہستیوں میں سے ہیں۔
اے ایمان، بصیرت اور استقامت کے پیکر!
جب میں نے شعور کی آنکھ کھولی تو آپ کا نام میرے لیے اخلاص، عزت، تقویٰ، حکمت اور خدا پر کامل توکل کی علامت تھا۔ آپ کو دیکھ کر یقین ہوتا تھا کہ اس دنیا میں ابھی بھی ایسے مردانِ خدا موجود ہیں جو اپنے لیے نہیں، بلکہ خدا کے دین، امت کی عزت اور مظلوم انسانیت کی سربلندی کے لیے جیتے ہیں۔
یہ کیسا عجیب منظر تھا کہ دنیا اقتدار کے پیچھے دوڑتی رہی، مگر اقتدار آپ کے پیچھے چلتا رہا۔
لوگ منصب کے لیے جھکتے رہے، مگر منصب آپ کے سامنے جھکا۔
لوگ شہرت کے لیے بے قرار رہے، مگر آپ شہرت سے بے نیاز رہے۔
آپ نے ثابت کر دیا کہ جو خدا کا ہو جاتا ہے، خدا پوری دنیا کے دل اس کے لیے مسخر کر دیتا ہے۔
اے میرے رہبر!
آپ کی شہادت صرف ایک شخصیت کی جدائی نہیں، بلکہ ایک عہد کے اختتام کا احساس تھی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے آسمان نے اپنا ایک روشن ستارہ زمین سے واپس بلا لیا ہو۔
اس دن صرف ایک جنازہ نہیں اٹھا تھا؛ ایک امت اپنے دل کا سہارا رخصت کر رہی تھی، لاکھوں آنکھیں اشک بار تھیں، ہزاروں دعائیں فضا میں بلند تھیں، اور کروڑوں دل خاموشی سے اپنے محبوب قائد کو الوداع کہہ رہے تھے۔
دنیا نے شاید ایک جنازہ دیکھا، مگر اہلِ دل نے ایک تاریخ کو رخصت ہوتے دیکھا۔
آپ کے جنازے میں شریک محبت کا سمندر اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ دلوں پر حکومت طاقت سے نہیں، کردار سے کی جاتی ہے؛ محبت نعروں سے نہیں، اخلاص سے حاصل ہوتی ہے۔
اے عزیز رہبر!
ہر بار جب آپ کے بارے میں ماضی کے صیغے میں کچھ لکھنا چاہتا ہوں تو قلم رک جاتا ہے، کیونکہ شہید کو ماضی میں نہیں لکھا جا سکتا۔
آپ آج بھی مظلوموں کی امید میں زندہ ہیں۔
مجاہدوں کی ہمت میں زندہ ہیں۔
ماؤں کی دعاؤں میں زندہ ہیں۔
یتیموں کی آہوں میں زندہ ہیں۔
اور ہر اس دل میں زندہ ہیں جو حق، عزت اور خدا کی رضا کے لیے دھڑکتا ہے۔
کاش یہ سعادت ہماری ہوتی اور آپ ہمارے درمیان رہتے؛ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کے لیے وہی فیصلہ فرماتا ہے جو اس کی حکمت کے مطابق سب سے بہتر ہو۔
شہادت، مردانِ خدا کی آرزو بھی ہوتی ہے اور ان کا حسنِ انجام بھی۔
اے میرے محبوب رہبر!
ہم آپ کی شفقت سے محروم ہو گئے ہیں، مگر آپ کے راستے سے کبھی محروم نہیں ہوں گے۔
ہم آنسو بہائیں گے، مگر یہ آنسو ہماری ہمت کو کمزور نہیں کریں گے۔
ہم آپ کی جدائی پر گریہ کریں گے، مگر یہی گریہ ہمیں حق پر ثابت قدم رہنے کا عزم بھی عطا کرے گا۔
ہم آپ کی یاد کو صرف الفاظ میں نہیں، بلکہ اپنے کردار، اپنی خدمت، اپنے اخلاص اور اپنی ذمہ داری میں زندہ رکھیں گے۔
بارِ الٰہا!
تمام شہداء کے پاک خون، خصوصاً اس عظیم مرد میدان، علمدار مقاومت، بندۂ مؤمن کے خون کے صدقے، ہمارے دلوں کو ایمان، اخلاص، صبر، تقویٰ اور استقامت سے بھر دے۔
ہمیں ایسا کردار عطا فرما کہ ہم نیک بندوں کے سچے وارث بن سکیں، اور ہماری زندگیاں انسانیت، عدل، خدمت اور خیر کا نمونہ بن جائیں۔
اے میرے عزیز رہبر!
آپ آج ہماری نگاہوں سے اوجھل ہیں، مگر ہماری دعاؤں، ہمارے دلوں، ہماری یادوں اور ہمارے عزم میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
سلام ہو آپ پر، جس دن آپ نے خدا کے لیے زندگی گزاری؛ سلام ہو آپ پر، جس دن آپ نے جامِ شہادت نوش کیا؛ اور سلام ہو آپ پر، جس دن آپ اپنے پروردگار کے حضور عزت و کرامت کے ساتھ حاضر ہوئے۔
یادی از ما بنما ای شده آسوده ز غم
ببریدی ز همه خلق و به حق یار شدی
ہمیں بھی اپنی دعا میں یاد رکھیے، اے وہ مسافر جو دنیا کی تمام تھکنیں اتار کر اپنے حقیقی محبوب کے حضور جا پہنچا۔
آخر میں ہم ایک بار پھر منجیِ عالمِ بشریت، یوسفِ زہرا، حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی بارگاہِ اقدس میں اس عظیم سانحے پر تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں، اور دعا کرتے ہیں:
اَللّٰهُمَّ عَجِّلْ لِوَلِيِّكَ الْفَرَجَ وَالْعَافِيَةَ وَالنَّصْرَ، وَاجْعَلْنَا مِنْ خَيْرِ أَنْصَارِهِ وَأَعْوَانِهِ وَالْمُسْتَشْهَدِينَ بَيْنَ يَدَيْهِ۔









آپ کا تبصرہ