ہفتہ 4 جولائی 2026 - 22:28
19 محرم؛ کوفہ سے شام کی جانب روانہ ہوا قافلۂ اسیرانِ کربلا

حوزہ/ کربلا کی سرزمین ابھی شہدائے حق کے خون سے معطر تھی، اہلِ بیتؑ کے خیمے جلائے جا چکے تھے، بچے یتیم اور خواتین اسیر ہو چکی تھیں، مگر اسی حالت میں اس مقدس قافلے کو کوفہ سے شام کی طرف روانہ کر دیا گیا۔ ظاہری طور پر یہ اسیری کا سفر تھا، لیکن حقیقت میں یہی سفر پیغامِ کربلا کی عالمگیر اشاعت کا ذریعہ بنا۔

تحریر:مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی|

19 محرم الحرام 61 ہجری تاریخِ کربلا کا وہ دردناک اور فیصلہ کن مرحلہ ہے جب حضرت امام حسین علیہ السلام کے اہلِ بیتؑ اور جانثاروں کے لٹے ہوئے قافلے کو کوفہ سے شام کی جانب روانہ کیا گیا۔ یہ وہ مقدس قافلہ تھا جس نے میدانِ کربلا میں فرزندِ رسولؐ حضرت امام حسین علیہ السلام، حضرت عباس علمدار علیہ السلام، حضرت علی اکبر علیہ السلام، جوانانِ بنی ہاشم اور وفادار اصحاب کی عظیم قربانیاں اپنی آنکھوں سے دیکھی تھیں، مگر ان تمام مصائب کے باوجود نہ ان کے ایمان میں لغزش آئی اور نہ ان کے عزم و استقلال میں کوئی کمی پیدا ہوئی۔

کربلا کی سرزمین ابھی شہدائے حق کے خون سے معطر تھی، اہلِ بیتؑ کے خیمے جلائے جا چکے تھے، بچے یتیم اور خواتین اسیر ہو چکی تھیں، مگر اسی حالت میں اس مقدس قافلے کو کوفہ سے شام کی طرف روانہ کر دیا گیا۔ ظاہری طور پر یہ اسیری کا سفر تھا، لیکن حقیقت میں یہی سفر پیغامِ کربلا کی عالمگیر اشاعت کا ذریعہ بنا۔

حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا اور حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے اس سفر کے ہر مرحلے میں بے مثال صبر، استقامت، بصیرت اور شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ اگر حضرت امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں اپنے مقدس خون سے دینِ اسلام کو حیاتِ نو بخشی، تو حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور حضرت امام سجاد علیہ السلام نے کوفہ اور شام میں اپنے تاریخی خطبات کے ذریعے اس قربانی کے حقیقی مقصد کو امت کے سامنے آشکار کر دیا۔ ان کی حق گوئی نے ظلم کے ایوانوں کو لرزا دیا اور باطل کے چہرے سے نقاب ہٹا دی۔

ظالم حکمرانوں نے اہلِ بیتِ رسولؐ کو ہر ممکن اذیت پہنچانے کی کوشش کی۔ انہیں شہداء کے بے سر جنازوں کے درمیان سے گزارا گیا، بازاروں اور گلیوں میں پھرایا گیا اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرائی گئیں، لیکن آلِ محمدؐ نے ہر آزمائش کا سامنا صبر، رضا اور توکل کے ساتھ کیا۔ اسی صبر نے ظلم کو شکست دی اور اسیری کو تاریخ کی عظیم ترین فتح میں بدل دیا۔

واقعۂ کربلا ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ جب اقتدار، دنیا طلبی اور خواہشاتِ نفس انسان پر غالب آ جائیں تو وہ حق کو پہچاننے کے باوجود اس کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ تاریخ نے ثابت کر دیا کہ دنیا کی خاطر حق سے منہ موڑنے والے رسوا ہوئے، جبکہ حضرت امام حسین علیہ السلام اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کا نام عزت، عظمت اور حق پرستی کی علامت بن کر ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گیا۔

شام کے دربار میں حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا اور حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے تاریخی خطبات نے یزیدی اقتدار کی حقیقت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔ یزید کا پروپیگنڈا دم توڑ گیا اور یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ کربلا میں شہید ہونے والے باغی نہیں، بلکہ دینِ محمدیؐ کے حقیقی محافظ تھے، جبکہ ظلم و ستم کرنے والے تاریخ کے مجرم بن گئے۔

قافلۂ اسیرانِ کربلا کا سفر آج بھی انسانیت کو یہ درس دیتا ہے کہ حق کا راستہ آزمائشوں سے ضرور گزرتا ہے، لیکن اس کا انجام عزت اور کامیابی ہے۔ ظلم، جبر، قید و بند اور مصائب اہلِ حق کے عزم کو کمزور نہیں کرتے بلکہ انہیں مزید مضبوط بناتے ہیں۔ یہی پیغام حضرت امام حسین علیہ السلام، حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا اور حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے اپنے کردار، صبر اور قربانی کے ذریعے انسانیت کو عطا فرمایا۔

آج محرم الحرام کے ایام میں جب ان مصائب کو یاد کیا جاتا ہے تو اہلِ ایمان کے دل غمِ حسینؑ سے لبریز ہو جاتے ہیں۔ یہ غم مایوسی کا نہیں بلکہ ایمان، وفاداری، حق پسندی اور محبتِ اہلِ بیت علیہم السلام کی تجدید کا نام ہے۔ واقعۂ کربلا اور قافلۂ اسیرانِ اہلِ بیتؑ کا سفر ہمیں ہمیشہ یہ پیغام دیتا رہے گا کہ باطل وقتی طور پر غالب دکھائی دے سکتا ہے، مگر دائمی فتح ہمیشہ حق ہی کا مقدر ہوتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha