حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں بلدیاتی حکام کی جانب سے رہائشی اور تجارتی عمارتوں کے لیے لازمی قرار دیے گئے "سرٹیفکیٹ آف کمپلائنس" پروگرام اور جائیدادوں سے متعلق نئی انتظامی کارروائیوں نے مقامی آبادی، خصوصاً شیعہ اکثریتی علاقوں قطیف اور اس کے نواح میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات صرف شہری ترقی تک محدود نہیں بلکہ ان کے ذریعے علاقے کی مذہبی و سماجی ساخت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مشرقی صوبے کی بلدیہ نے اب تک 4563 سے زائد معائنے کیے ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ ہدف بنائے گئے تقریباً 80 فیصد مقامات کا جائزہ مکمل ہو چکا ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ مقررہ مدت تک ضوابط پورے نہ کرنے والے مالکان کے خلاف نوٹس، جرمانے اور دیگر قانونی کارروائیاں کی جائیں گی۔
یہ فیصلے مشرقی صوبے کے میئر فہد الجبیر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیے گئے، جہاں شہری منظرنامے کی بہتری کے نام پر تعمیراتی ضوابط پر سختی اور غیر مطابقت رکھنے والی عمارتوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا گیا۔
مقامی شہریوں اور انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ نئے ضوابط سے چھوٹے کاروباری افراد اور محدود مالی وسائل رکھنے والے جائیداد مالکان پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا، جبکہ بڑھتی مہنگائی کے باعث ان شرائط پر عمل کرنا بہت سے لوگوں کے لیے ممکن نہیں۔
اسی دوران اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ قطیف اور دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں انہدام اور اراضی ہموار کرنے کی نئی مہمات کی تیاری کی جا رہی ہے۔ قطیف بلدیہ نے زرعی اراضی کے مالکان کو ملکیتی دستاویزات فوری طور پر جمع کرانے کی ہدایت بھی جاری کی ہے، جس پر مقامی آبادی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ اقدام مستقبل میں اراضی اور مذہبی اوقاف کی سرکاری تحویل کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
رپورٹ میں عوامیہ، صفوی اور اوجام جیسے علاقوں میں ماضی کی انہدامی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ متعدد رہائشی محلوں کو تیل، شہری ترقی یا سڑکوں کی توسیع کے نام پر خالی کرایا گیا، تاہم مقامی باشندے ان سرکاری وجوہات کو حقیقی حقائق کا عکاس نہیں سمجھتے۔
رپورٹ کے مطابق مقامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد شیعہ آبادی کو منتشر کرنا، قطیف کے سماجی و ثقافتی تشخص کو کمزور کرنا اور آبادی کو مختلف سنی اکثریتی شہروں میں منتقل ہونے پر مجبور کرنا ہے۔ ناقدین نے اس پالیسی کو مشرقی صوبے کے تاریخی اور مذہبی تشخص کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ شہری ترقی کے منصوبوں میں مقامی آبادی کے حقوق، جائیدادوں کے تحفظ اور سماجی استحکام کو بھی یقینی بنایا جائے۔









آپ کا تبصرہ