ہفتہ 4 جولائی 2026 - 20:14
ماضی کا ہر قرآنی واقعہ تا قیام قیامت حال اور مستقبل کا آئینہ دار ہے: مولانا ضیغم الرضوی

حوزہ/مولانا سید ضیغم الرضوی نے مبارک پور میں مجلسِ عزاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کا ہر قرآنی واقعہ تا قیام قیامت حال اور مستقبل کا آئینہ دار ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قرآن مجید میں پروردگار عالم نے جتنے بھی ماضی کے واقعات بیان فرمائے ہیں وہ محض قصہ پارینہ نہیں، بلکہ سراسر حق اور حقیقت پر مبنی ہیں جو انسانوں کے لئے درس عبرت اور چراغ ہدایت ہیں۔قرآن مجید کے معانی و مفاہیم کسی عہدوعصر کے لئے محدود نہیں، بلکہ دورِ ماضی کا ہر قرآنی واقعہ تا قیامت حال اور مستقبل کا آئینہ دار ہے۔مثال کے طور پر قرآن مجید کے سورہ کہف میں انتہائی خطرناک،خونخوار،دہشت گرد، ظالم و جابر،غاصب و خائن،فتنہ و فساد برپا کرنے والے دو انسانی قبیلوں کا ذکر ہے اور ساتھ میں ایک انتہائی عادل، صالح ،طاقتور،منصف و مصلح باشاہ ذوالقرنین کا ذکر بھی ہے ۔تفسیر و تاریخ اور احادیث کی روشنی میں ان کے واقعات کو پڑھنے کے بعد سمجھ میں آجائے گا کہ دور حاضر کے یاجوج ماجوج باعتبار کردار بہت حد تک نیتین یاہو اور ڈونالڈ ٹرمپ کہے جا سکتے ہیں۔     

ان خیالا ت کا اظہار حجۃ الاسلام عالی جناب مولانا سید ضیغم الرضوی الہ آبادی( مقیم ایران) نے صحن امامباڑہ حسینیہ محلّہ پرانی بستی بکھری مبارکپور ضلع اعظم گڑھ میں منتظمہ کمیٹی واراکین انجمن عباسیہ رجسٹرڈ محلہ پرانی بستی بکھری مبارکپور کی جانب سے منعقد سالانہ خمسۂ مجالس کے تیرہویں دورکی دوسری مجلس کو بتاریخ ۳؍جولائی بروز جمعہ بوقت ۹؍بجے شب خطاب کے دوران کیا۔

ماضی کا ہر قرآنی واقعہ تا قیام قیامت حال اور مستقبل کا آئینہ دار ہے: مولانا ضیغم الغروی

مولانا نے مزید کہا کہ جو لوگ قرآن اور اہل بیت سے اختلاف رکھتے ہیں در اصل ان کی جہالت اور معرفت سے دوری کی وجہ ہے۔ضرورت ہے کہ حق بات کو حق کے انداز میں میں دوسروں تک پہونچایا جائے جیسا کہ واقعہ کربلا کے بعد امام زین العابدین اور حضرت زینب سلام اللہ علیہما نے حالتِ اسیری میں کوفہ و شام کے بازاروں اور درباروں میں اس انداز سے اعلائے کلمہ حق ادا کیا کہ بظاہر جو دشمن تھے وہ قرآن و اہل بیت سے وابستہ ہو گئے اور امام حسین کے عزادار اور جان نثار بن گئے۔

آخر میں مولانا نے بعدِ شہادتِ حسین کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام تک کے اہل حرم کی اسیری کے دردناک مصائب و واقعات بیان کئے جسے سن کر لوگوں کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔

پروگرام کا آغاز علی رضا و ہمنوا ساتھیوں کی سوز خوانی سے ہوا ۔اور نظامت کے فرائض مولانا حسن محمد بکھروی (مقیم لبنان) نے انجام دئے۔

اس موقع پر مولانا ابن حسن املوی واعظ، مولانا نصیر المہدی قمی، مولانا اقتدار حسین قمی،مولانا غمخوار حسین قمی، مولانا جواد حیدر، مولانا نفیس، مولانا مظاہر انور، ماسٹر شجاعت، ماسٹر مشتاق خان، ڈاکٹر سلمان اختر، عباس احمد غدیری، محمد قاسم جوادی سمیت کثیر تعداد میں مؤمنین نے شرکت کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha