حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جموں و کشمیر انجمنِ شرعی شیعیان کے زیرِ اہتمام چودہویں محرم الحرام کے موقع پر وادیٔ کشمیر کے مختلف علاقوں میں مجالسِ عزا، جلوس ہائے عزاء نہایت عقیدت، مذہبی احترام اور منظم انداز میں منعقد ہوئے۔
ان مجالس اور جلوسوں میں ہزاروں عزادارانِ حضرت امام حسینؑ نے شرکت کرکے شہدائے کربلا کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا اور عاشورا کے آفاقی پیغام سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔

چودہویں محرم الحرام کا سب سے بڑا جلوس ذوالجناح ضلع بڈگام کے علاقے پونچھ گنڈ بیروہ سے برآمد ہوا، جس میں دسیوں ہزار عزاداروں نے انتہائی نظم و ضبط، مذہبی جوش و جذبے اور عقیدت کے ساتھ شرکت کی۔
جلوس کی برآمدگی سے قبل امام باڑہ پونچھ گنڈ میں منعقدہ مجلسِ عزاء سے حجت الاسلام سید مجتبیٰ عباس موسوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عاشورا محض تاریخ کا ایک المناک واقعہ نہیں، بلکہ ہدایت الٰہی، حق کی سربلندی، عدل، استقامت اور نجات انسانیت کا دائمی منشور ہے۔
انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی ہر دور کے انسان کو ظلم و باطل کے مقابلے میں ثابت قدم رہنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے، جبکہ واقعۂ کربلا قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ انسانی زندگی آزمائشوں سے عبارت ہے اور انہی آزمائشوں کے ذریعے ایمان، صبر اور روحانی ظرف کا امتحان لیا جاتا ہے۔

انہوں نے قرآنی تعلیمات کی روشنی میں کہا کہ حقیقی کامیابی مشکلات میں استقامت اختیار کرنے اور اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ قیادت سے وابستہ رہنے میں مضمر ہے۔
مولانا نے حضرت نوحؑ کی کشتی اور حضرت امام حسینؑ کی تحریک کے درمیان مماثلت بیان کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح حضرت نوحؑ کی کشتی طوفان سے نجات کا ذریعہ بنی، اسی طرح سفینۂ حسینؑ رہتی دنیا تک انسانیت کو گمراہی، فتنوں اور اخلاقی انحطاط سے محفوظ رکھنے کا ابدی وسیلہ ہے۔
انہوں نے ولایت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی قرب قرآن مجید اور اہل بیت اطہارؑ سے مضبوط وابستگی کے بغیر ممکن نہیں۔
انہوں نے مؤمنین پر زور دیا کہ وہ حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے اپنے تعلق کو مزید مستحکم کریں، کیونکہ واقعۂ عاشورا کا بنیادی درس اپنے زمانے کے امام کی معرفت اور اس سے غیر متزلزل وفاداری ہے۔

انہوں نے شب عاشورا میں حضرت امام حسینؑ کے باوفا اصحاب کی بے مثال جانثاری کو ایمان، وفاداری اور اطاعت الٰہی کی اعلیٰ ترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی کردار ہر دور کے مؤمن کے لیے نمونۂ عمل ہے۔
خطاب کے اختتام پر، انہوں نے کہا کہ عزاداری امام حسینؑ کو محض ایک رسمی یا جذباتی عمل تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کا حقیقی مقصد انسان کی روحانی تربیت، اخلاقی اصلاح اور قرآنی و حسینی اقدار سے عملی وابستگی پیدا کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر عزاداری انسان کے کردار، فکر اور طرز زندگی میں مثبت تبدیلی پیدا کرے اور اسے قرآن، اہل بیتؑ اور امام عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے مزید قریب کر دے، تو یہی واقعۂ عاشورا کے آفاقی پیغام کی حقیقی ترجمانی ہوگی۔










آپ کا تبصرہ