بدھ 24 جون 2026 - 22:23
عزاداری صرفاً اشک بہانا نہیں / ہماری فقہ محرم کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

حوزہ/ عزاداری حسینی محض ایک عمومی جذبہ نہیں ہے بلکہ اس کے تمام اعمال کا شرعی احکام کی روشنی میں جائزہ لیا جانا چاہیے۔ عزاداری کے دو پہلو ہیں، ایک باطنی اور ایک ظاہری؛ باطنی پہلو دل کا غم، گریہ اور عزاداری کے شعائر ہیں۔ نیز اسے کربلا کے جذبۂ عاطفی، حماسہ اور عزت کی عکاسی کرنی چاہیے اور کسی بھی غلط اور شرع کے خلاف رویے سے پاک ہونی چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ماہِ محرم الحرام کی آمد کے موقع پر حوزہ نیوز نے "زیارت عاشورا" کے عنوان سے خصوصی رپورٹ شائع کیا ہے اور حجت الاسلام و المسلمین جواد محدثی سے گفتگو میں زیارت عاشورا کی شرح پر ایک قدم اٹھایا ہے تاکہ معارفِ اہل بیت علیہم السلام کی جانب ایک نیا دریچہ کھولا جا سکے۔ یہ خصوصی رپورٹ عزادارانِ سیدالشہداء علیہ السلام کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم، السلام علی الحسین و علی بن الحسین و علی اولاد الحسین و اصحاب الحسین

میں آپ سب کو سلام اور ادب و احترام پیش کرتا ہوں اور ان سوگ و ماتم کے ایام کی مناسبت سے تعزیت پیش کرتا ہوں۔

بہر حال، ہم تمہیدی مباحث چھوڑ کر اصل بحث میں داخل ہوتے ہیں کہ عزاداری کے اصول اور ممنوعات کیا ہیں؟

عزاداری میں پیش آنے والے ہر ایک عمل کو ہمیں جانچنا اور شمار کرنا ہوگا۔ سینہ زنی، زنجیر زنی، مداحی، مصائب خوانی اور یہ بتایا جائے گا کہ کون سے اشعار پڑھے جائیں اور کون سی نہ پڑھے جائیں۔ یا جیسے کیا عزاداری میں موسیقی کے آلات استعمال کیے جا سکتے ہیں یا نہیں؟

یا شبیہ خوانی جو بہت سی جگہوں پر رائج رہی ہے اور اب بھی ایرانیوں کے اہم فنون میں شمار ہوتی ہے؛ عزاداری اور تعزیہ میں اس پر بحث ہوتی ہے۔

بہت سی مختلف چیزیں جو ان مباحث میں آ سکتی ہیں جیسے غنا، آواز خوانی، خوش الحانی، اشعار کے معیار، یہ سب زیرِ بحث آتے ہیں۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم کلی طور پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ عزاداری اچھی ہے۔

جی ہاں، عزاداری تو بہت اچھی ہے لیکن عزاداری کی جزئیات کو جانچنا ہوگا کہ وہ اچھی ہیں یا نہیں۔ جب ہم عزاداری کرنا چاہتے ہیں تو عزاداری کا ایک باطنی پہلو ہے اور ایک ظاہری پہلو۔

اس کا باطنی پہلو وہی حزن ہے، وہی غم جو محرم کے آغاز ہوتے ہی پیدا ہوتا ہے؛ امام ہشتم حضرت علی بن موسی رضا علیہ السلام نے فرمایا: «جب محرم شروع ہوتا تو کسی کو میرے والد موسیٰ جعفر علیہما السلام کے چہرے پر مسکراہٹ نظر نہیں آتی تھی یہاں تک کہ عاشورہ کا دن آ جاتا، عاشورہ کا دن وہ دن تھا جس دن میرے والد کی مصیبت کا دن تھا۔ یہ باطنی حزن ہے۔ شیعہ کو اس عظیم مصیبت پر اندر سے غمگین ہونا چاہیے۔»

لیکن اس کا ظاہری پہلو کیا ہے؟

ظاہری پہلو گریہ ہے، ظاہری پہلو جزع و فزع ہے، ظاہری پہلو سینہ زنی، زنجیر زنی، عزاداری کے جلوسوں میں شرکت ہے۔

کیا ہماری عزاداری میں حماسہ اور اسپرٹ ہونا چاہیے؟ جی ہاں، اس میں حماسہ ہونا چاہیے، ہماری عزاداری کو کربلا کے واقعے کی علامت ہونا چاہیے، کربلا کے واقعے میں عطوفت ہے، حماسہ ہے، مصیبت ہے۔

کربلا کے واقعے میں عزت ہے؛ ہماری عزاداری میں عزت ہونی چاہیے، عزت مند عزاداری کا مطلب ہے کہ اس میں ذلت نہ ہو لہٰذا ہمیں ضرورت ہے کہ عزاداری میں کیے جانے والے ہر ایک عمل کو جانچیں اور مرجع تقلید کے شرعی احکام کی طرف رجوع کریں۔ دیکھیں کہ ان تمام اعمال اور حرکات کا کیا حکم ہے۔ ان میں سے کون سا حلال ہے اور کون سا حرام؛ کون سا ناپسندیدہ ہے اور کون سا پسندیدہ ہے۔

والسلام علیکم و رحمہ اللہ و برکاتہ

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha