تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی| حضرت امام حسینؑ کی محبت ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔ کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ حق و باطل کے درمیان ابدی معرکہ ہے جس نے انسانیت کو آزادی، عزت، عدل اور ظلم کے خلاف مزاحمت کا درس دیا۔ اسی لیے چودہ صدیوں سے مسلمان بالخصوص محبانِ اہلِ بیتؑ امام حسینؑ کے غم میں اشک بہاتے، مجالسِ عزا برپا کرتے اور شہدائے کربلا کی یاد کو زندہ رکھتے آئے ہیں۔
لیکن عزاداری کے بعض طریقوں کے بارے میں یہ سوال ہمیشہ سے زیرِ بحث رہا ہے کہ آیا وہ اسلام اور سیرتِ اہلِ بیتؑ سے ثابت ہیں یا بعد کے ادوار میں وجود میں آنے والی رسوم ہیں۔ انہی میں سے ایک مسئلہ قمہ زنی یا خونی ماتم کا ہے۔
اگر قرآنِ مجید، احادیثِ نبویؐ، سیرتِ اہلِ بیتؑ اور ابتدائی اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ قمہ زنی یا خونی ماتم کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ نہ قرآنِ مجید نے اس کی تعلیم دی ہے، نہ رسولِ اکرمؐ نے اس پر عمل کیا، نہ حضرت فاطمہ زہراؑ، امیرالمؤمنینؑ، امام حسنؑ، امام حسینؑ یا دیگر ائمۂ اہلِ بیتؑ سے اس کا ثبوت ملتا ہے، اور نہ ہی پہلی چند صدیوں کی اسلامی تاریخ میں اس کا کوئی واضح ذکر موجود ہے۔
رسول اللہؐ کی زندگی مصائب سے بھری ہوئی تھی۔ آپؐ کے سامنے حضرت حمزہؑ شہید ہوئے، آپؐ کے کئی عزیز دنیا سے رخصت ہوئے، آپؐ نے شدید غم برداشت کیے، مگر کہیں یہ نہیں ملتا کہ آپؐ نے اپنے جسم کو زخمی کر کے غم کا اظہار کیا ہو۔ اسی طرح واقعۂ کربلا کے بعد حضرت زینبؑ، امام زین العابدینؑ اور دیگر اہلِ حرم نے شدید ترین مصائب کا سامنا کیا، گریہ کیا، مجالسِ عزا برپا کیں، شہادتوں کو یاد کیا، لیکن خود کو زخمی کرنے یا خون بہانے کا کوئی ثبوت تاریخ میں موجود نہیں۔
قمہ زنی کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو مورخین اور محققین کے درمیان اس کی اصل کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ یہ رسم بعض غیر اسلامی اقوام اور تہذیبوں سے متاثر ہو کر مسلم معاشروں میں داخل ہوئی۔ بعض اسے آرمینیائی عیسائیوں کی رسوم سے جوڑتے ہیں، جبکہ بعض اسے ترک اور کرد قبائل کی بعض قدیم روایات کا تسلسل قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ ان نظریات میں اختلاف موجود ہے، لیکن اس بات پر عمومی اتفاق پایا جاتا ہے کہ قمہ زنی ابتدائی اسلامی دور کی معروف دینی سنت نہیں تھی۔
تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران میں قمہ زنی کو باقاعدہ رواج صفوی دور میں ملا، جبکہ اس کی موجودہ شکل بعد کے ادوار میں مزید فروغ پاتی گئی۔ اسی طرح زنجیر زنی کی بعض موجودہ صورتیں بھی بعد کے زمانوں میں رائج ہوئیں۔ ابتدائی اسلامی تاریخ، سیرتِ رسولؐ اور ائمۂ اہلِ بیتؑ کی زندگیوں میں ان اعمال کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔
تاریخی شواہد یہ بھی بتاتے ہیں کہ ایران میں قمہ زنی کو باقاعدہ رواج صفوی دور میں ملا۔ صفوی اور بعد ازاں قاجاری ادوار میں ایران کا سفر کرنے والے یورپی سیاحوں اور مورخین نے اپنی تحریروں میں اس کا ذکر کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ شکل میں قمہ زنی کی تاریخ چند صدیوں سے زیادہ پرانی نہیں۔ اسی طرح زنجیر زنی کی موجودہ صورت، خصوصاً وہ شکل جس میں زنجیروں کے ساتھ دھاری دار پھل استعمال کیے جاتے ہیں، برصغیر ہند و پاک میں رائج ہوئی اور بعد میں دیگر علاقوں تک پہنچی۔ ابتدائی اسلامی تاریخ میں اس طرز کی عزاداری کا کوئی معتبر ثبوت دستیاب نہیں ہے۔
قرآنِ مجید انسان کو اپنی جان اور جسم کی حفاظت کا حکم دیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
“وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ”
یعنی اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔
ایک اور مقام پر فرمایا:
“وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ”
یعنی اپنے آپ کو نقصان نہ پہنچاؤ۔
اسی طرح رسول اللہؐ کا مشہور ارشاد ہے:
“لا ضرر ولا ضرار في الإسلام”
یعنی اسلام میں نہ خود نقصان اٹھانا جائز ہے اور نہ دوسروں کو نقصان پہنچانا۔
فقہ اسلامی کا مسلمہ اصول ہے کہ ہر وہ عمل جو قابلِ توجہ جسمانی نقصان کا سبب بنے، شرعاً قابلِ اعتراض ہے، جب تک اس کے جواز پر کوئی مضبوط دلیل موجود نہ ہو۔ قمہ زنی اور خونی ماتم کے بارے میں ایسی کوئی قطعی شرعی دلیل پیش نہیں کی جا سکی۔
اس مسئلے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ عزاداری کا مقصد کیا ہے؟ کیا امام حسینؑ نے اس لیے قربانی دی تھی کہ لوگ اپنے جسموں کو زخمی کریں، یا اس لیے کہ انسان ظلم کے خلاف کھڑا ہونا سیکھے؟ کیا کربلا کا پیغام خون بہانے کا نام ہے یا شعور بیدار کرنے کا؟
حقیقت یہ ہے کہ امام حسینؑ نے انسانیت کو عزتِ نفس، حریت، عدل، حق گوئی، ایثار اور قربانی کا درس دیا۔ اگر عزاداری انسان کو ظلم کے خلاف کھڑا ہونے، محروموں کی مدد کرنے، سچ بولنے اور دین پر عمل کرنے کی طرف نہ لے جائے تو پھر وہ کربلا کے اصل مقصد سے دور ہو جاتی ہے۔
اسی بنیاد پر گذشتہ اور عصرِ حاضر کے بہت سے جید مراجعِ تقلید اور علماء نے قمہ زنی اور خونی ماتم کو یا تو ناجائز قرار دیا ہے یا کم از کم اس سے سخت اجتناب کی تاکید کی ہے، خصوصاً اس صورت میں جب اس سے جسم کو نقصان پہنچے، مذہب کی بدنامی ہو یا مکتبِ اہلِ بیتؑ کے بارے میں غلط تاثر پیدا ہو۔ متعدد مراجع نے واضح کیا ہے کہ عزاداری کا اصل مقصد پیغامِ حسینؑ کو زندہ رکھنا ہے، نہ کہ جسم کو زخمی کرنا۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ آج دنیا امام حسینؑ کو ایک عظیم انسانی رہنما، مظلوموں کے حامی اور ظلم کے خلاف قیام کرنے والی شخصیت کے طور پر پہچان رہی ہے۔ ایسے میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم کربلا کے آفاقی پیغام کو دنیا تک پہنچائیں، نہ کہ ایسے اعمال کو مرکزیت دیں جن کی شرعی اور تاریخی بنیاد خود محلِ بحث ہو۔
اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ عزاداری کی مخالفت کی جائے۔ عزاداری تو اہلِ بیتؑ کی محبت کا عظیم مظہر ہے۔ گریہ، ذکرِ مصائب، مرثیہ خوانی، نوحہ خوانی، مجالسِ عزا، جلوس اور شہدائے کربلا کی یاد کو زندہ رکھنا ایک بابرکت عمل ہے۔ لیکن عزاداری کو انہی حدود میں رہنا چاہیے جو قرآن، سنت اور سیرتِ اہلِ بیتؑ سے ہم آہنگ ہوں۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ قمہ زنی اور خونی ماتم عزاداری کی ایک بعد میں وجود میں آنے والی رسم ہے جس کا تعلق ابتدائی اسلامی تعلیمات اور سیرتِ اہلِ بیتؑ سے ثابت نہیں۔ نہ قرآن میں اس کی بنیاد ملتی ہے، نہ احادیث میں، نہ ائمۂ اہلِ بیتؑ کے عمل میں، اور نہ ابتدائی اسلامی تاریخ میں۔ اس لیے امام حسینؑ کی یاد منانے کا بہترین طریقہ ان کے پیغام کو سمجھنا، ان کی سیرت پر عمل کرنا، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا، عدل و انصاف کو فروغ دینا اور انسانیت کی خدمت کرنا ہے۔
امام حسینؑ کو خون بہانے والے ہاتھوں سے زیادہ، حق کے لیے اٹھنے والے ہاتھ عزیز ہیں۔ انہیں زخمی سروں سے زیادہ بیدار ذہن مطلوب ہیں۔ انہیں بہتا ہوا خون نہیں، بلکہ زندہ ضمیر، پاکیزہ کردار اور شعورِ حسینی درکار ہے۔
واقعۂ کربلا کا پیغام یہی ہے کہ انسان اپنے اندر حسینت پیدا کرے، نہ کہ اپنے جسم پر زخم۔









آپ کا تبصرہ