تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی| نوحہ خوانی اہلِ بیت علیہم السلام کی عزاداری کا ایک اہم اور مؤثر ذریعہ ہے۔ اس کا مقصد سامعین کے دلوں میں مصائبِ کربلا کی یاد تازہ کرنا، اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت کو فروغ دینا اور مظلومیتِ امام حسین علیہ السلام کا پیغام پہنچانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوحہ خوانی میں الفاظ سے زیادہ اخلاص، درد اور سوز کی اہمیت ہوتی ہے۔جب آواز دل سے نکلتی ہے تو وہ سیدھی دلوں تک پہنچتی ہے، لیکن جب اس میں تصنع، بناوٹ اور غیر فطری انداز شامل ہو جائے تو اس کی تاثیر کم ہونے لگتی ہے۔
ادب و احترام کے ساتھ عرض ہے کہ بعض نوحہ خوان حضرات جذبات کے اظہار میں اس قدر مبالغہ آرائی، مصنوعی انداز اور غیر فطری حرکات کا سہارا لیتے ہیں کہ نوحہ خوانی کا تقدس اور وقار متاثر ہونے لگتا ہے۔ چہرے کے بے جا اور حد سے بڑھے ہوئے تاثرات، منہ کو غیر معمولی انداز میں بگاڑنا، آواز میں غیر ضروری اتار چڑھاؤ پیدا کرنا اور رونے کی مصنوعی کیفیت طاری کرنے کی کوشش بعض اوقات سامعین کے دل میں تأثر پیدا کرنے کے بجائے اُلٹا ناگواری اور بے ذوقی کا احساس پیدا کر دیتی ہے۔ بعض مواقع پر یہ انداز اس قدر حد سے تجاوز کر جاتا ہے کہ سامع کا ذہن مصیبتِ کربلا سے ہٹ کر نوحہ خوان کی حرکات و سکنات پر مرکوز ہو جاتا ہے۔ یوں مقصدِ عزاداری پسِ منظر میں چلا جاتا ہے اور اندازِ پیشکش موضوعِ گفتگو بن جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا انسان اپنے والدین، اولاد یا کسی انتہائی عزیز شخصیت کے انتقال پر بھی اسی طرح چہرے کو بگاڑ بگاڑ کر، مصنوعی انداز میں حرکات کرتے ہوئے یا رونے کی کوشش کرتے ہوئے غم کا اظہار کرتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ سچا غم انسان کے دل پر اثر انداز ہوتا ہے، اس کے آنسوؤں میں جھلکتا ہے اور اس کے لہجے میں محسوس ہوتا ہے، نہ کہ چہرے کی بناوٹ اور ظاہری اداکاری میں۔ جتنا بڑا غم ہوتا ہے، اتنا ہی زیادہ انسان سنجیدہ، خاموش اور باوقار دکھائی دیتا ہے۔
غمِ امام حسین علیہ السلام کسی ڈرامے، تھیٹر یا اسٹیج پرفارمنس کا نام نہیں بلکہ ایک عظیم روحانی اور فکری وابستگی کا اظہار ہے۔ اس عظیم مصیبت کو مصنوعی حرکات، غیر فطری انداز اور جذباتی نمائش کا محتاج بنانا نہ صرف اس کی معنویت کو کم کرتا ہے بلکہ بعض اوقات عزاداری کے مخالفین کے لیے بھی اعتراض کا موقع فراہم کرتا ہے۔ نوحہ خوانی کا حسن سادگی میں ہے، اس کی طاقت صداقت میں ہے اور اس کی تاثیر خلوص میں ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ نوحہ خوان حضرات اپنی تمام تر توجہ آواز کے سوز، اشعار کے مفہوم اور مصائبِ اہلِ بیت علیہم السلام کی صحیح ترجمانی پر مرکوز کریں۔ جب دل میں درد ہوگا تو آنکھیں خود نم ہوں گی، لہجہ خود لرزے گا اور سامعین کے دل خود متاثر ہوں گے۔ لیکن اگر جذبات پیدا کرنے کے لیے مصنوعی ذرائع اختیار کیے جائیں تو بسا اوقات نتیجہ الٹا نکلتا ہے اور سامعین کے دلوں میں عقیدت کے بجائے ناگواری پیدا ہونے لگتی ہے۔
اہلِ بیت علیہم السلام کی عزاداری وقار، سنجیدگی، خلوص اور سچائی کا نام ہے۔ اس کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ اسے فطری انداز میں پیش کیا جائے، کیونکہ دل سے نکلنے والی ایک سچی آہ اور ایک بے ساختہ آنسو، ہزار مصنوعی تاثرات اور بناوٹی حرکات سے کہیں زیادہ اثر رکھتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ