تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی | یکم محرم 61 ہجری کا سورج طلوع ہوا تو شاید زمینِ کربلا کو بھی معلوم نہ تھا کہ چند ہی دنوں میں وہ تاریخِ انسانیت کا سب سے روشن باب اپنے دامن میں سمیٹنے والی ہے۔ فرات کے کنارے پھیلا ہوا ایک خاموش میدان، چند کھجوروں کے درخت، تپتی ہوئی ریت اور ایک مختصر سا قافلہ۔ بظاہر یہ ایک مسافر قافلہ تھا، لیکن حقیقت میں یہ انسانیت کے مستقبل کا قافلہ تھا۔ یہ وہ قافلہ تھا جو آنے والی نسلوں کو یہ سکھانے آیا تھا کہ حق کی حفاظت کے لیے کبھی کبھی تلوار سے زیادہ خون کی ضرورت پڑتی ہے۔
امام حسین علیہ السلام جب اس سرزمین پر پہنچے تو دریافت فرمایا:
“اس مقام کا نام کیا ہے؟”
کسی نے کہا: نینوا۔
کسی نے کہا: غاضریہ۔
پھر عرض کیا گیا: “اس کا ایک نام کربلا بھی ہے۔”
کربلا کا نام سنتے ہی امام حسینؑ کی نگاہیں آسمان کی طرف بلند ہوئیں اور آپؑ نے فرمایا:
«اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَرْبِ وَالْبَلَاءِ»
“اے اللہ! میں تجھ سے کرب اور بلا سے پناہ مانگتا ہوں۔”
پھر آپؑ نے فرمایا:
«هٰهُنَا مَحَطُّ رِحَالِنَا وَمُهْرَاقُ دِمَائِنَا وَمَدْفَنُ رِجَالِنَا»
“یہی ہماری قیام گاہ ہے، یہی ہمارے خون بہنے کی جگہ ہے اور یہی ہمارے مردوں کی قبروں کا مقام ہے۔”
(الملہوف، سید ابن طاؤس)
یہ کوئی عام جملہ نہیں تھا۔ یہ ایک ایسے امام کا اعلان تھا جو اپنی منزل، اپنے انجام اور اپنے مقصد سے پوری طرح آگاہ تھا۔ وہ جانتے تھے کہ چند دن بعد اسی سرزمین پر حق و باطل کا ایسا معرکہ برپا ہوگا جس کی گونج قیامت تک سنائی دے گی۔
یہ وہی حسینؑ تھے جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
«حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ، أَحَبَّ اللّٰهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا»
“حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے۔”
(جامع ترمذی، حدیث 3775؛ سنن ابن ماجہ، حدیث 144)
علمائے اسلام نے لکھا ہے کہ “میں حسین سے ہوں” کا مطلب یہ ہے کہ دینِ محمدیؐ کی بقا اور پیغامِ نبویؐ کی حفاظت حسینؑ کی قربانی سے وابستہ ہے۔ کربلا درحقیقت اسلام کی بقا کا نام ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اور موقع پر فرمایا:
«إِنَّ الْحُسَيْنَ مِصْبَاحُ الْهُدَى وَسَفِينَةُ النَّجَاةِ»
“بے شک حسین ہدایت کا چراغ اور نجات کی کشتی ہیں۔”
(شیخ صدوق، الأمالی)
کربلا میں یہی چراغ جلنے والا تھا۔ دشمن سمجھ رہا تھا کہ وہ ایک خاندان کو محاصرے میں لے رہا ہے، لیکن حقیقت میں وہ ہدایت کے سورج سے ٹکرانے جا رہا تھا۔
قرآن مجید فرماتا ہے:
﴿وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾
(آل عمران: 139)
“کمزور نہ پڑو، غم نہ کرو، اگر تم مؤمن ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔”
کربلا اسی آیت کی عملی تفسیر تھی۔ تعداد کم تھی، وسائل محدود تھے، پیاس سامنے تھی، موت قریب تھی، مگر ایمان اپنی پوری عظمت کے ساتھ موجود تھا۔
برسوں پہلے امیر المؤمنین علی علیہ السلام جب صفین کے سفر کے دوران اس سرزمین سے گزرے تو آپؑ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور فرمایا:
«هٰهُنَا مَنَاخُ رِكَابِهِمْ، وَهٰهُنَا مُهْرَاقُ دِمَائِهِمْ»
“یہیں ان کے قافلے اتریں گے اور یہیں ان کا خون بہایا جائے گا۔”
(مقتل الحسین للخوارزمی، ج1)
گویا علیؑ نے برسوں پہلے کربلا کے آنے والے المیے کو دیکھ لیا تھا۔
امام حسینؑ کربلا میں کسی حکومت کے حصول کے لیے نہیں آئے تھے۔ آپؑ خود اپنا مقصد بیان کرتے ہیں:
«إِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشِرًا وَلَا بَطِرًا وَلَا مُفْسِدًا وَلَا ظَالِمًا، وَإِنَّمَا خَرَجْتُ لِطَلَبِ الْإِصْلَاحِ فِي أُمَّةِ جَدِّي»
“میں نہ سرکشی کے لیے نکلا ہوں، نہ تکبر کے لیے، نہ فساد کے لیے اور نہ ظلم کے لیے، بلکہ میں اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں۔”
(بحار الأنوار، ج44)
یہی وجہ ہے کہ کربلا ایک جنگ کا نام نہیں بلکہ ایک فکر، ایک پیغام اور ایک تحریک کا نام ہے۔
قرآن مجید فرماتا ہے:
﴿مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ﴾
(الاحزاب: 23)
“مؤمنوں میں ایسے مرد موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا عہد سچ کر دکھایا۔”
کربلا میں یہ آیت قدم قدم پر زندہ نظر آتی ہے۔ حبیب بن مظاہرؑ، مسلم بن عوسجہؑ، زہیر بن قینؑ، حضرت عباسؑ، علی اکبرؑ اور قاسمؑ سب اس عہد کو نبھا رہے تھے جسے انہوں نے خدا کے ساتھ باندھا تھا۔
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
«إِنَّ لِقَتْلِ الْحُسَيْنِ حَرَارَةً فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ لَا تَبْرُدُ أَبَدًا»
“بے شک حسینؑ کی شہادت کی ایک حرارت مؤمنوں کے دلوں میں ہے جو کبھی سرد نہیں ہوگی۔”
(مستدرک الوسائل، ج10)
اسی حرارت کا آغاز یکم محرم سے ہوتا ہے۔ چاند نظر آتے ہی دلوں میں غمِ حسینؑ جاگ اٹھتا ہے، آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور کربلا کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔
یکم محرم ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ تاریخ ہمیشہ طاقتوروں کو یاد نہیں رکھتی، بلکہ حق پر قائم رہنے والوں کو یاد رکھتی ہے۔ یزید کے پاس تخت تھا، تاج تھا، لشکر تھا، خزانے تھے؛ لیکن آج وہ ظلم کی علامت ہے۔ حسینؑ کے پاس چند جانثار تھے، مگر آج پوری دنیا ان کے نام پر سر جھکاتی ہے۔
امام علی علیہ السلام نے فرمایا:
«لَا تَسْتَوْحِشُوا فِي طَرِيقِ الْهُدَى لِقِلَّةِ أَهْلِهِ»
“راہِ ہدایت میں چلتے ہوئے اہلِ حق کی کمی سے خوف زدہ نہ ہونا۔”
(نہج البلاغہ، حکمت 201)
کربلا اسی فرمان کی زندہ تصویر ہے۔ حق کے قافلے والے کم تھے مگر سچائی ان کے ساتھ تھی، جبکہ باطل کے لشکر بہت تھے مگر ان کے پاس کردار نہیں تھا۔
آج بھی انسان دو راستوں کے درمیان کھڑا ہے۔ ایک راستہ مفاد، مصلحت اور خاموشی کا ہے، جبکہ دوسرا راستہ اصول، سچائی اور قربانی کا۔ کربلا ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم حسینؑ کے راستے کا انتخاب کریں، چاہے اس میں مشکلات ہی کیوں نہ ہوں۔
یہی کربلا کا پہلا سبق ہے:
منزل کتنی ہی دشوار کیوں نہ ہو، اگر مقصد حق ہو تو قدم رکنے نہیں چاہئیں۔
آج کا پیغام
کربلا کا سفر ہمیں سکھاتا ہے کہ حق کی راہ میں تنہائی کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہے۔ اگر مقصد خدا کی رضا ہو تو تھوڑے لوگ بھی پوری تاریخ کا رخ بدل سکتے ہیں۔
پروردگار!
ہمیں امام حسینؑ کی معرفت عطا فرما، ان کے مقصد کو سمجھنے کی توفیق عطا فرما، اور ہمیں ہر دور کے یزید کے مقابلے میں حق کا ساتھ دینے والا بنا۔
ہمیں حضرت عباسؑ جیسی وفا، حضرت زینبؑ جیسا صبر، علی اکبرؑ جیسی اطاعت اور امام حسینؑ جیسی استقامت عطا فرما۔
ہمارے دلوں کو محبتِ اہلِ بیتؑ سے آباد رکھ، ہمارے اعمال کو صداقت و اخلاص سے مزین فرما، اور ہمیں دنیا و آخرت میں محمدؐ و آلِ محمدؑ کی شفاعت نصیب فرما۔
آمین یا رب العالمین۔









آپ کا تبصرہ