تحریر: سید انجم رضا
حوزہ نیوز ایجنسی| ہر سال ماہِ محرم الحرام کی آمد پر مختلف دینی و سماجی حلقوں میں "استقبالِ محرم" اور "آغازِ محرم" کی اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان دونوں میں سے کون سی تعبیر زیادہ مناسب، بامعنی اور حسینی ثقافت کے قریب ہے؟
محرم: ایک مہینے کا نام، ایک تحریک کا عنوان
محرم صرف اسلامی سال کا پہلا مہینہ نہیں بلکہ تاریخِ اسلام کے ایک عظیم ترین انقلاب، یعنی واقعۂ کربلا کی یاد کا مہینہ بھی ہے۔ اس مہینے کے ساتھ غمِ حسینؑ، احیائے دین، ظلم کے خلاف مزاحمت اور حق کی نصرت جیسے عظیم تصورات وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب محرم کا چاند نظر آتا ہے تو اہلِ بیتؑ کے ماننے والوں کی زندگی میں ایک نئے روحانی اور فکری سفر کا آغاز ہوتا ہے۔
"استقبالِ محرم" کی تعبیر
لغوی اعتبار سے "استقبال" کا معنی ہے کسی آنے والی چیز کا خیر مقدم کرنا یا اس کے استقبال کے لیے تیار ہونا۔ اس اعتبار سے محرم کے چاند سے پہلے یا محرم کی آمد کے موقع پر "استقبالِ محرم" کی اصطلاح درست ہے، کیونکہ لوگ اس مقدس مہینے کی تیاری کرتے ہیں، مجالس کا انتظام کرتے ہیں اور اپنے دل و دماغ کو عزاداری کے لیے آمادہ کرتے ہیں۔ لیکن "استقبال" کی تعبیر زیادہ تر آمد سے پہلے کی کیفیت کو بیان کرتی ہے، یعنی تیاری اور انتظار۔
"آغازِ محرم" کی تعبیر
جب محرم کا چاند طلوع ہو جائے اور مہینہ شروع ہو جائے تو "آغازِ محرم" کی اصطلاح زیادہ دقیق اور حقیقی معنی رکھتی ہے۔ اس وقت محرم کا استقبال نہیں کیا جا رہا ہوتا بلکہ محرم کا آغاز ہو چکا ہوتا ہے اور عزاداری، شعائرِ حسینی اور پیغامِ کربلا کی عملی زندگی شروع ہو جاتی ہے۔ اسی لیے یکم محرم کے بعد ہونے والے پروگراموں، پیغامات اور تحریروں میں "آغازِ محرم" کہنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔
حسینی ثقافت کے تناظر میں
حسینی مکتب صرف ایک مہینے کے آنے کی خوشی یا استقبال کا نام نہیں بلکہ ایک ذمہ داری، ایک عہد اور ایک تحریک کا آغاز ہے۔ محرم کا چاند گویا یہ اعلان کرتا ہے کہ اب:
• امام حسینؑ کے پیغام کو زندہ کرنا ہے۔
• ظلم و باطل کے خلاف شعور پیدا کرنا ہے۔
• اپنے معاشرے میں عدل، تقویٰ اور حق پسندی کو فروغ دینا ہے۔
• ظہورِ امام مہدیؑ کے لیے ایک باکردار اور حسینی معاشرے کی تشکیل کی کوشش کرنی ہے۔
ان مقاصد کے پیشِ نظر "آغازِ محرم" کی اصطلاح زیادہ فعال، مقصدی اور عملی مفہوم رکھتی ہے۔
میرے خیال میں۔۔۔۔۔۔۔
دونوں اصطلاحات اپنی جگہ درست ہیں، لیکن استعمال کے موقع کے لحاظ سے فرق ہے:
" استقبالِ محرم" زیادہ مناسب ہے۔ محرم شروع ہونے سے پہلے
چاند نظر آنے اور مہینہ شروع ہونے کے بعد " آغازِ محرم" زیادہ درست اور بامعنی تعبیر ہے لہٰذا اگر یکم محرم یا اس کے بعد کوئی پیغام، مضمون یا مہم جاری کی جا رہی ہو تو استعمال کرنا زیادہ موزوں ہے، کیونکہ یہ صرف ایک مہینے کے شروع ہونے کا اعلان نہیں بلکہ ایک حسینی سفر، ایک فکری بیداری اور ایک عملی تحریک کے آغاز کا اظہار بھی ہے۔
حسینؑ ہمارا راستہ ہیں؛ اور آغازِ محرم درحقیقت اسی راستے پر نئے عزم کے ساتھ چلنے کا نام ہے۔









آپ کا تبصرہ