جمعرات 25 جون 2026 - 13:11
ایّامِ تاسوعا و عاشورا — سادگی، شعور اور غمِ حسینؑ

حوزہ/ ہم اکثر عزاداری کرتے ہیں، مجالس میں شریک ہوتے ہیں، ماتم کرتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے دلوں کو بھی کربلا سے جوڑتے ہیں؟ عزاداری صرف آنسو بہانے کا نام نہیں بلکہ امام حسینؑ کے مقصد کو سمجھنے اور اپنی زندگی میں نافذ کرنے کا نام ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی |

تحریر: سیدہ ناظمہ حسینی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام علیٰ سیدنا محمد وآلہ الطاہرین۔

تمہید

محرم الحرام کا مہینہ امتِ مسلمہ کے لیے محض ایک تاریخی مہینہ نہیں بلکہ شعور، قربانی، وفاداری اور حق کے دفاع کا زندہ پیغام ہے۔ ان دنوں میں دل خود بخود کربلا کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اور خاص طور پر ۹ اور ۱۰ محرم ایسے دن ہیں جن میں انسان کو اپنی زندگی کی رفتار بدل کر اپنے دل کو امام حسینؑ کے غم کے لیے آمادہ کرنا چاہیے۔

کربلا صرف ایک جنگ نہیں تھی، یہ حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا۔ ایک طرف ظاہری طاقت، حکومت اور دنیا تھی اور دوسری طرف سچائی، بندگی اور خدا کی رضا۔

امام حسینؑ نے اپنی جان، اپنے اہلِ خانہ اور اپنے اصحاب کو خدا کی راہ میں قربان کر کے انسانیت کو زندہ کیا۔

امام حسینؑ کی قربانی اور ہماری ذمہ داری

ہم اکثر عزاداری کرتے ہیں، مجالس میں شریک ہوتے ہیں، ماتم کرتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے دلوں کو بھی کربلا سے جوڑتے ہیں؟

عزاداری صرف آنسو بہانے کا نام نہیں بلکہ امام حسینؑ کے مقصد کو سمجھنے اور اپنی زندگی میں نافذ کرنے کا نام ہے۔

جب انسان ۹ اور ۱۰ محرم میں داخل ہو تو اسے محسوس ہونا چاہیے کہ یہ عام دن نہیں ہیں۔ یہ وہ دن ہیں جن میں:

حضرت عباسؑ نے وفا کی مثال قائم کی

حضرت علی اکبرؑ نے جوانی قربان کی

حضرت قاسمؑ نے اطاعت کا درس دیا

اصحابِ حسینؑ نے جان دے کر وفاداری لکھی

اور امام حسینؑ نے انسانیت کو عزت عطا کی

ایّامِ عزا میں سادگی کیوں؟

غم کے دنوں میں انسان اپنی توجہ ظاہری خوشیوں سے ہٹا کر باطنی کیفیت کی طرف لے جاتا ہے۔

اسی لیے ان دنوں میں کوشش کی جاتی ہے کہ:

لباس سادہ ہو

خوشبو اور غیر ضروری زینت سے اجتناب ہو

گفتگو میں سنجیدگی ہو

کھانے پینے میں اعتدال ہو

وقت مجالس، دعا اور ذکر میں گزرے

یہ چیزیں فرض یا واجب کے عنوان سے نہیں بلکہ ادبِ عزا اور اظہارِ ہمدردی کے طور پر اختیار کی جاتی ہیں۔

سبیل اور نذر کا حقیقی مقصد

محرم میں سبیل لگانا، نذر دینا اور لوگوں کی خدمت کرنا بہت عظیم عمل ہے۔ لیکن اس خدمت کی روح سادگی اور اخلاص ہے۔

ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا ہماری توجہ خدمت پر ہے یا ظاہری اہتمام پر؟

کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ قلیل وسائل بھی اگر اخلاص کے ساتھ ہوں تو خدا کے نزدیک عظیم بن جاتے ہیں۔

لہٰذا:

کھانوں میں مقابلہ نہ ہو

نمود و نمائش نہ ہو

ضرورت سے زیادہ اسراف نہ ہو

خدمت کو عبادت سمجھا جائے

دنیا سے بے خبری اور یادِ حسینؑ

یہ دو دن ایسے ہیں کہ انسان کچھ دیر کے لیے اپنی روزمرہ مشغولیات سے الگ ہو جائے۔

کم بولے۔

زیادہ سوچے۔

زیادہ روئے۔

زیادہ یاد کرے۔

اپنے آپ سے سوال کرے:

اگر میں کربلا میں ہوتا تو کس صف میں کھڑا ہوتا؟

کیا میں حق کے ساتھ ہوتا؟

کیا میں امامؑ کی نصرت کرتا؟

درسِ کربلا

کربلا ہمیں سکھاتی ہے:

جب حق تنہا ہو تب بھی اس کا ساتھ دو۔

جب قربانی دینی پڑے تو پیچھے نہ ہٹو۔

جب دنیا اور دین میں انتخاب ہو تو خدا کو مقدم رکھو۔

امام حسینؑ نے ہمیں سکھایا کہ عزت کے ساتھ جینا اور عزت کے ساتھ جانا ہی مومن کی پہچان ہے۔

آئیے ۹ اور ۱۰ محرم کو صرف رسم نہ بنائیں بلکہ شعور کا ذریعہ بنائیں۔

اپنے گھروں میں سکون، اپنی زبان میں ادب، اپنے دل میں غمِ حسینؑ اور اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کریں۔

خدا ہمیں حقیقی عزادار بنائے، ہمارے آنسو قبول فرمائے اور ہمیں امام حسینؑ کی معرفت عطا فرمائے۔

السَّلامُ عَلَى الْحُسَيْنِ

وَعَلَى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ

وَعَلَى أَوْلَادِ الْحُسَيْنِ

وَعَلَى أَصْحَابِ الْحُسَيْنِ

🖤 یا حسینؑ 🖤

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha