تحریر:مولانا تقی عباس رضوی
حوزہ نیوز ایجنسی|
چودہ سو برس سے امتِ مسلمہ امام حسینؑ کا غم منا رہی ہے۔ مجالس برپا ہوتی ہیں، جلوس نکلتے ہیں، مرثیے پڑھے جاتے ہیں اور آنکھیں اشکبار ہوتی ہیں۔
لیکن ایک سوال آج بھی اپنی پوری شدت کے ساتھ ہمارے سامنے کھڑا ہے:
کیا کربلا صرف یاد کرنے کا نام ہے یا سمجھنے کا بھی؟
کیا عزاداری صرف عقیدت کا اظہار ہے یا ایک عظیم فکری، اخلاقی اور تمدنی ذمہ داری بھی؟
اگر کربلا محض ایک تاریخی سانحہ ہوتی تو شاید چودہ صدیوں بعد بھی زندہ نہ ہوتی، لیکن یہ ایک زندہ مکتب، ایک مسلسل تحریک اور ایک ابدی درسگاہ ہے۔ کربلا ہمیں صرف رونا نہیں سکھاتی، بلکہ سوچنا، سمجھنا، بدلنا اور بدل دینا بھی سکھاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام حسینؑ کی قربانی کا اصل پیغام آنسوؤں سے آگے بڑھ کر شعور، کردار، خدمت، قیادت اور تعمیرِ امت تک پہنچتا ہے۔
آج المیہ یہ نہیں کہ عزاداری کم ہو رہی ہے، بلکہ المیہ یہ ہے کہ عزاداری کے مقاصد پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ ہم نے وسیلے کو ہدف بنا لیا اور ہدف کو فراموش کر دیا۔ نتیجتاً محرم آتا ہے، گزر جاتا ہے، لیکن ہماری اجتماعی زندگی میں وہ انقلاب برپا نہیں ہوتا جس کی بنیاد کربلا نے رکھی تھی۔
1۔ عزاداری مقصد نہیں، وسیلہ ہے
عزاداری بذاتِ خود ایک عظیم عبادت اور شعائرِ الٰہی میں سے ہے، لیکن اس کا مقصد صرف گریہ و ماتم نہیں بلکہ ایک حسینی انسان اور حسینی معاشرے کی تشکیل ہے۔ امام حسینؑ نے اپنی قربانی اس لیے نہیں دی کہ لوگ صرف ان کے مصائب سنیں، بلکہ اس لیے دی کہ حق زندہ رہے، باطل بے نقاب ہو اور انسان اپنے مقامِ بندگی کو پہچانے۔
جب وسیلہ ہدف بن جاتا ہے تو حرکت رک جاتی ہے۔ شاید ہماری بہت سی کمزوریوں کی جڑ یہی ہے کہ ہم نے عزاداری کو تبدیلی کا ذریعہ بنانے کے بجائے خود تبدیلی کا متبادل سمجھ لیا ہے۔
2۔ کربلا ایک مسلسل سماجی، فکری اور سیاسی تحریک ہے
کربلا صرف 61 ہجری کا ایک واقعہ نہیں بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے ایک زندہ پیغام ہے۔ امام حسینؑ کا قیام ظلم، استبداد، فکری انحراف اور اخلاقی زوال کے خلاف ایک ہمہ گیر تحریک تھا۔
اسی حقیقت کو سمجھتے ہوئے بعض اقوام نے عاشورا کو اپنی اجتماعی بیداری، سیاسی شعور اور مزاحمتی فکر کا سرچشمہ بنایا۔ ان کے نزدیک عزاداری محض یادِ مصیبت نہیں بلکہ بیداریِ امت کا ذریعہ ہے۔
3۔ عزاداری کا معیار آنسو نہیں، تبدیلی ہے
ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ ہر سال محرم کے بعد ہماری زندگی میں کیا بدلا؟
کیا جھوٹ کم ہوا؟
کیا دیانت داری بڑھی؟
کیا نوجوانوں میں علم و تحقیق کا شوق پیدا ہوا؟
کیا معاشرتی ناانصافیاں کم ہوئیں؟
کیا خدمتِ خلق کے میدان میں پیش رفت ہوئی؟
اگر جواب نفی میں ہے تو ہمیں عزاداری کے مقاصد پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ کامیاب عزاداری وہ ہے جو انسان کو بدل دے۔
4۔ پریکٹیکل عزاداری کیا ہے؟
پریکٹیکل عزاداری کا مطلب اپنے روزمرہ کے معمولات، اخلاقیات اور معاملات میں سیرتِ حسینؑ کو نافذ کرنا ہے۔
سچائی، دیانت داری، امانت، عدل، وفائے عہد، حقوق العباد، وقت کی پابندی، خدمتِ خلق اور ظلم کے خلاف جدوجہد کرنی—یہ سب پریکٹیکل عزاداری کے مظاہر ہیں۔
امام حسینؑ کو صرف یاد کرنا کافی نہیں، امام حسینؑ کو اپنی زندگی میں اتارنا ضروری ہے۔
5۔ کربلا صرف عقیدت نہیں، تدبر اور عبرت کا مکتب ہے
امام حسینؑ نے خود کو صرف ایک شخصیت کے طور پر نہیں بلکہ ایک "اسوہ" کے طور پر پیش کیا۔ درحقیقت پورا حسینی کارواں ہمارے لیے نمونۂ عمل ہے۔ اصحابِ حسینؑ، اہلِ بیتؑ، حضرت زینبؑ کی استقامت، امام سجادؑ کی حکمت اور بعد کے تمام حق پرست کردار اس عظیم مکتب کے اجزا ہیں۔
عبرت کا مطلب صرف آنسو بہانا نہیں بلکہ کسی واقعے کی گہرائی تک پہنچنا ہے۔
قرآن بھی یہی درس دیتا ہے:
"أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ"
کیا وہ غور و فکر نہیں کرتے؟
تدبر کا مطلب یہ ہے کہ انسان الفاظ اور ظواہر سے آگے بڑھ کر حقائق اور معانی کی گہرائی تک پہنچے۔ یہی اصول کربلا پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر ہم صرف مصائبِ کربلا سن کر واپس آ جائیں تو ہم نے کربلا کا ظاہری رخ دیکھا، لیکن اگر ہم یہ جاننے کی کوشش کریں کہ امام حسینؑ نے قیام کیوں کیا؟ ان کے اصحاب نے جانیں کیوں قربان کیں؟ حضرت زینبؑ نے اس پیغام کو کیسے زندہ رکھا؟ اور آج ہماری زندگی میں اس کا کیا تقاضا ہے؟ تب ہم کربلا کی گہرائیوں میں اترنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔
کربلا صرف گریہ کا نہیں، تدبر کا بھی نام ہے۔
کربلا صرف محبت کا نہیں، معرفت کا بھی نام ہے۔
کربلا صرف ماتم کا نہیں، پیغام کا بھی نام ہے۔
اور کربلا صرف تاریخ کا نہیں، مستقبل کی تعمیر کا بھی نام ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ ہر سال محرم ہمیں صرف رونے کے لیے نہیں بلکہ سوچنے، سمجھنے، سیکھنے اور بدلنے کے لیے آتا ہے۔
6۔ مساجد، امام بارگاہیں اور انجمنیں مراکزِ تمدن بنیں
اسلامی تاریخ میں مسجد عبادت گاہ کے ساتھ ساتھ تعلیم، تربیت، قضاوت، خدمت اور قیادت کا مرکز بھی تھی۔
آج ہماری مساجد اور امام بارگاہوں میں لائبریریاں ہونی چاہئیں، تعلیمی سرگرمیاں ہونی چاہئیں، نوجوانوں کی رہنمائی کا نظام ہونا چاہیے، مستحقین کی امداد کا انتظام ہونا چاہیے اور ذہنی و خاندانی مسائل کے حل کے لیے مشاورتی مراکز قائم ہونے چاہئیں۔
7۔ عزاداری کو قومی تعمیر کے منصوبے سے جوڑنا ہوگا
ہر محرم کے بعد قوم کے سامنے کوئی نیا تعلیمی، سماجی یا فلاحی منصوبہ آنا چاہیے۔
ایک نئی لائبریری،ایک نئی اسکالرشپ،ایک نیا تعلیمی ادارہ،ایک نیا اسپتال،ایک نئی رفاہی تحریک۔
جب عزاداری سے ادارے جنم لیں گے تو قومیں بھی اٹھ کھڑی ہوں گی۔
8۔ رسمی مذہب سے تعمیری مذہب کی طرف
عزاداریِ حسینؑ کا مقصد صرف رسماً امام حسینؑ کو یاد کرنا نہیں، بلکہ حسینؑ کے مشن کو معاشرے میں زندہ کرنا ہے؛ اور جب تک عزاداری سے انسان، ادارے، فکر، علم، خدمت اور تمدن پیدا نہ ہوں، تب تک کربلا کا پیغام اپنی مکمل تاثیر کے ساتھ ظاہر نہیں ہو سکتا۔
آج ہماری سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ مذہب ہو یا مذہبی شعائر عزاداری ہو یا اس کے شعائر کو صرف رسم و روایت کی حد تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے تعمیرِ انسان اور تعمیرِ معاشرہ کی قوت بنایا جائے تاکہ ان مجالس کے برکات سے جج، وکیل ،ڈاکٹر،اسکالر، علماء ، بھی پیدا ہوں، محقق بھی، مفکر بھی، مصلح بھی، خدمت گزار بھی اور ایسے نوجوان بھی جو اپنے کردار، علم اور عمل سے حسینؑ کے پیغام کو زندہ رکھ سکیں۔
اختتامیہ
امام حسینؑ نے ہمیں صرف رونے کے لیے نہیں بلکہ بیدار ہونے کے لیے تیار کیا تھا۔ کربلا صرف ماتم کا نام نہیں، ذمہ داری کا نام ہے۔ صرف محبت کا نام نہیں، معرفت کا نام ہے۔ صرف عقیدت کا نام نہیں، عمل کا نام ہے۔
جس دن ہماری عزاداری سے انسان سازی، کردار سازی، ادارہ سازی اور تمدن سازی کا عمل شروع ہو جائے گا، اس دن ہم کہہ سکیں گے کہ ہم نے کربلا کو صرف یاد نہیں کیا بلکہ سمجھا بھی ہے۔
کیونکہ عزاداریِ حسینؑ کا مقصد صرف حسینؑ پر گریہ کرنا نہیں، بلکہ حسینؑ کے مشن کو زندہ رکھنا ہے اور حسینؑ کا مشن ایک بہتر انسان، ایک بہتر معاشرہ اور ایک بہتر دنیا کی تعمیر ہے۔
کربلا کو صرف روئیے نہیں، سمجھئے بھی؛ صرف سمجھئے نہیں، اپنائیے بھی









آپ کا تبصرہ