حوزہ/ اہلِ بیت فاؤنڈیشن کے نائب صدر سید تقی عباس رضوی نے رہبر انقلاب آیت اللہ خامنہ‌ای کی شہادت پر گہرے افسوس اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کی شجاعانہ اور مدبرانہ قیادت کو عالمی سطح پر انقلاب اور امت مسلمہ کے لیے روشنی کا سرچشمہ قرار دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اہلِ بیت فاؤنڈیشن کے نائب صدر مولانا تقی عباس رضوی نے رہبرِ معظمِ انقلاب کی شہادت پر ایک بیان میں تعزیت پیش کی ہے جسکا مکمل متن اس طرح ہے؛

بسم الله الرحمن الرحیم

قال الله تبارک تعالی:’’ وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُونَ‘‘

إنا لله و إنا إلیه راجعون.

سنیچر، 10 ماہ رمضان -مارچ- 2026 کی صبح امریکی اور صیہونی دہشت گردانہ و بزدلانہ حملے میں آیت اللہ خامنہ‌ای کی شہادت کے بعد، پورے عالمِ انسانیت میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ایسا کیوں نہ ہو کہ اس حملے میں نہ صرف رہبرِ اعلیٰ، بلکہ ان کی بیٹی، پوتے اور دیگر اہل خانہ بھی خالقِ حقیقی سے جا ملے ہیں۔ اس جانکاہ سانحے پر، ہم دل کی گہرائیوں سے اپنے رہبرِ فرزانہ، قائدِ حکیم و مدبر، اور عظیم مجاہد کی شہادت پر گہرے غم کا اظہار کرتے ہوئے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

حضرت آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ‌ایؒ جو چار دہائیوں سے مملکت ایران اور امتِ مسلمہ کی قیادت و رہنمائی کر رہے تھے، اپنی 37 سالوں پر محیط جراتمندانہ قیادت کی بدولت امریکہ، اسرائیل اور ان کے اسلام دشمن حواریوں کے مقابل سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے رہے۔

کیا لوگ تھے کہ راہ وفا سے گذر گئے جی چاہتا ہے نقش قدم چومتے چلیں

اس 86 سالہ عظیم عالم، مجاہد اور عالمِ تشیع کے مرجعِ عالی قدر حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ‌ای کا تعلق صرف ایران سے نہیں تھا، بلکہ وہ حریت پسندوں کے پسندیدہ رہنما تھے۔ آپ کی شہادت ایک ناقابلِ برداشت صدمہ ہے۔ اس جانکاہ اور جانگداز شہادت پر ہم تمام عالمِ انسانیت، امتِ مسلمہ، اور خاص طور پر ایران کی سرفراز، غیور، شجاع اور بہادر عوام کو تعزیت پیش کرتے ہیں۔

رہبرِ معظم انقلاب کی شہادت اُس وقت ہوئی جب وہ طویل عرصے سے خداوند عالم سے شہادت کی آرزو رکھتے تھے، اور بالآخر خدا نے انہیں ماہ مبارک رمضان میں ان سالوں کی خالص عبادت، مسلسل مجاہدہ اور حکیمانہ صبر و استقامت کے بدلے میں شہادت جیسے عظیم انعام سے سرفراز کیا۔ حضرت آیت اللہ خامنہ‌ای نے اپنی زندگی کو اسلامِ ناب محمدی ﷺ کے آرمانوں کی تکمیل اور ایران کی عظمت کے لیے وقف کیا، اور آخرکار خدا نے انہیں شہادت کی عظمت سے نوازا۔

یقیناً، رہبرِ معظم کی شہادت عالم اسلام، خصوصاً مشرق وسطیٰ میں ایک نئے انقلاب کی نوید ثابت ہو گی اور ان کا مشن ہمیشہ جاری رہے گا۔ ان کی مدبرانہ قیادت نے انقلاب کے راستے کو اتنی روشنی بخشی کہ وہ نہ صرف ایران، بلکہ پوری دنیا میں مستکبروں کے خلاف جدوجہد کا چراغ بن کر روشن ہوئے۔ ان کی تعلیمات نے امریکی اور اسرائیلی استکباری طاقتوں کی جڑوں کو کمزور کر دیا اور انہیں عالمی سطح پر ذلت و رسوائی کا سامنا کروایا۔

ہم خدا کا شکر گزار ہیں کہ ہمیں اس عظیم رہبر کی قیادت میں زندگی گزارنے اور ان سے فیضیاب ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ ہم فخر محسوس کرتے ہیں کہ ہم ان کے حکم کے تابع رہے۔ ان کی شخصیت ایسی عظمت کی حامل تھی کہ معصومین علیہم السلام کے بعد، بہت کم لوگ ان کی طرح جامع اور کامل شخصیت رکھتے تھے۔ وہ ایک فقیہہ جامع الشرائط، شجاع و مدبر سپہ سالار، بلند پایہ ادیب اور با تقویٰ عالم تھے، جن کی شخصیت نہ صرف پیروکاروں، بلکہ مخالفین تک پر اثرانداز ہوئی۔

آخر میں، آزردہ دل اور اشکبار آنکھوں کے ساتھ، خلوصِ دل سے،ہم تمام اراکین اہل بیت ؑ فاؤنڈین اپنے ولی نعمت، منجی عالم بشریت حضرت ولی عصر (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کی مقدس بارگاہ میں، ملتِ ایران، امتِ اسلامی اور دنیا کے تمام آزادی خواہوں کی خدمت میں تسلیت اور تعزیت پیش کرتے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا گو ہوں کہ وہ اس شہیدِ سعید کو بلند درجات اور اولیاء اللہ کے ساتھ ہم نشینی عطا فرمائے، اور ملتِ ایران کو صبرِ جمیل، شکیبائی اور استقامت کی توفیق دے۔

والسلام علی من اتبع الهدی

سید تقی عباس رضوی کلکتوی

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha