حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مولانا سید ضیاء الحسن نجفی نے جامع مسجد علی حوزہ علمیہ جامعة المنتظر لاہور میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اخلاق حسنہ کا تعلق انسان کی مادی اور معنوی زندگی دونوں پر ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے ہم پر احکام شرعیہ فرض فرما ئے تاکہ ہم صحیح معنو ں میں انسان بن سکیں، احکام شرعیہ کے تمام فوائد انسان کی طرف پلٹتے ہیں۔ احکام الٰہیہ میں سب سے اہم اخلاق ہے، اچھے اخلاق کی بنیاد اچھا عقیدہ ہے، جس قدر قیامت کا عقیدہ مضبوط ہوگا، انسان اتنا ہی برائیوں سے بچنے کی کوشش کرے گا۔
انہوں نے ولی امر المسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہوئے کہا زندگی بھر رہبر عظیم الشان نے اپنے علم ، زہد و تقویٰ سے امت کی رہنمائی فرمائی۔وہ زندہ تھے تو دشمن خوفزدہ تھا ، آج ان کی شہادت کے بعد بھی امریکہ اسرائیل اور دیگر استعماری طاقتیں ان سے خوفزدہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا حکم رب تعالیٰ کے مطابق کبھی بھی یہود و نصاریٰ کو اپنا سرپرست نہ بناو ،جو ان کو اپنا سرپرست بنائے گا، یقینا وہ ذلیل و خوار ہوگا۔
مولانا ضیاء الحسن نجفی نے کہا پاک پیغمبر کی اعلانیہ رسالت کا دورانیہ 23 سال ہے ، ان میں سے 13 سالہ مکی دور میں سید المرسلین نے عقیدے پر زور دیا ،جبکہ باقی دس سالہ مدنی دور میں احکامات الٰہیہ بیان فرمائے۔ انہوں نے کہا کہ انسان کا جس قدر عقیدہ اچھا اور قرآن کے مطابق ہوگا یعنی جس قدر زمین اچھی ہوگی ،اس کا سبزہ بھی اچھا ہی ہوگا۔ اگر زمین اچھی نہیں ہوگی، تو فصل بھی اچھی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اخلاق حسنہ کا تعلق انسان کی مادی اور معنوی زندگی دونوں پر ہوتا ہے، انسان کو دوسروں کی خطاوں سے درگزر کرنا چاہیے، اپنے ماتحت لوگوں سے مشاورت کریں اور ان کے لیے مغفرت طلب کریں۔









آپ کا تبصرہ