حوزہ/ ممبئی میں رہبر انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ‌ای کی شہادت کے بعد مسجد ایرانیان سے امامیہ مسجد تک نکالی گئی تاریخی احتجاجی ریلی میں ہزاروں مومنین نے شرکت کی، جہاں علماء، دانشور اور مختلف مسالک کے نمائندوں نے تعزیتی جلسے اور خطاب کے ذریعے رہبر کی شجاعت، بصیرت اور اتحادِ امت پر زور دیتے ہوئے ظلم اور استکبار کے خلاف اپنا عزم ظاہر کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مومنین ممبئی نے مسجد ایرانیان سے امامیہ مسجد تک تاریخی ریلی نکال کر ایک تاریخ رقم کر دی۔

قابل ذکر ہے کہ احتجاجی ریلی سے قبل مسجد ایرانیان میں ایک پروقار احتجاجی و تعزیتی جلسہ ہوا جس میں ممبئی و اطراف ممبئی کے علماء و دانشور حضرات شریک رہے

اس تعزیتی جلسے میں حجہ الاسلام والمسلمین جناب حسن رضا بنارسی سے اپنے پر جوش اشعار سے سماں باندھ دیا جبکہ مقررین میں حجہ الاسلام والمسلمین جناب عزیز حیدر صاحب، و حجہ الاسلام والمسلمین جناب روح ظفر صاحب امام جمعہ و جماعت ممبئی خوجہ مسجد اور جناب حجہ الاسلام والمسلمین استاد حسینی مہدی حسینی صاحب نے اپنی تقاریر میں رہبر کی شجاعت و بصیرت پر روشنی ڈالتے ہوئے حالیہ ایران پر تھوپی گئی جنگ کی مذمت کی کثیر تعداد میں مومنین کے درمیان ایران کے کلچر ڈائرکٹر جناب رضا فاضل نے اپنی مختصر تقریر میں رہبر کی شہادت کے مختلف زاویوں کو بیان کیا اور برادران اہلسنت سے جناب سعید خان صاحب نے خراج عقیدت پیش کیا۔

یوں تو ممبئی کی فضا اُس وقت سوگوار اور پرجوش ہو گئی جب رہبرِ انقلابِ اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر منظر عام پر آئی۔یہی وجہ ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں سے مومنین کی بڑی تعداد مسجد ایرانیان کے احاطے میں جمع ہوئی، جہاں پہلے تعزیتی جلسہ ہوا پھر ایک ایک منظم اور پُرجوش احتجاجی جلوس امامیہ مسجد کی جانب روانہ ہوا۔

جلوس میں شریک افراد کے چہروں پر غم کے آثار نمایاں تھے، لیکن اس غم کے ساتھ ساتھ شدید غصہ اور اضطراب بھی جھلک رہا تھا۔ شرکاء نے سیاہ پرچم اٹھا رکھے تھے، بینرز اور پلے کارڈز پر استقامت، مزاحمت اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کے نعرے درج تھے۔ فضا تکبیر، لبیک یا خامنہ ای اور استکبار مردہ باد کے نعروں سے گونج رہی تھی۔

اس طرح مومنین نے سڑکوں پر نکل کر اپنے جذبات کا بھرپور اظہار کیا۔ جلوس مکمل طور پر منظم تھا، رضاکاروں کی ٹیمیں نظم و ضبط برقرار رکھے ہوئے تھیں، جبکہ مقامی انتظامیہ بھی حالات پر نظر رکھے ہوئے تھی۔ شرکاء نے اس سانحے کو صرف ایک شخصیت کی شہادت نہیں بلکہ ایک نظریے اور مزاحمتی فکر پر حملہ قرار دیا۔

مقررین نے خطاب کرتے ہوئے رہبرِ انقلاب کی قرآنی فکر، استقامت، اور عالمی استکبار کے مقابل ان کی بے باکی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ شہادت کسی تحریک کا خاتمہ نہیں بلکہ اس کی تجدید ہوتی ہے، اور یہ خون ملتِ اسلامیہ کے عزم کو مزید مستحکم کرے گا۔

ممبئی میں رہبر انقلاب آیت اللہ خامنہ‌ای کی شہادت پر احتجاجی ریلی اور تعزیتی جلسے میں ہزاروں مومنین نے اتحاد و استقامت کا مظاہرہ کیا

برادرانِ اہلسنت کی نمایاں شرکت

جلوس کی سب سے نمایاں اور دل کو چھو لینے والی خصوصیت رہی ، سماجی کارکنان اور نوجوان بڑی تعداد میں اس احتجاج میں شامل ہوئے خاص طور پر علاقے کے ایم ایل اے جناب امین پٹیل صاحب اس احتجاج میں شامل رہے اور سبھی ا نے یکجہتی کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا مسلکی نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کا مشترکہ فریضہ ہے۔

شیعہ سنی اتحاد کے یہ مناظر ممبئی کی گنگا جمنی تہذیب کا خوبصورت عکس تھے۔ کئی مقامات پر دونوں مسالک کے علما نے ایک ساتھ کھڑے ہو کر دعا کی اور اتحادِ امت کا پیغام دیا۔ مقررین نے اس اتحاد کو دشمنانِ اسلام کے لیے واضح پیغام قرار دیا کہ داخلی تفرقہ ان کے عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔

جلوس امامیہ مسجد پہنچ کر مجلس عزا پر اختتام پذیر ہوا، جسے مسجد ایرانیان کے امام جماعت حجہ الاسلام والمسلمین جناب زید نجیب الحسن زیدی صاحب نے پر جوش انداز میں خطاب کیا اور شرکاء نے عہد کیا کہ وہ رہبرِ انقلاب کے نظریات—استقامت، خودمختاری، اور وحدت کو زندہ رکھیں گے۔

ممبئی کا یہ احتجاجی جلوس نہ صرف غم و غصے کا اظہار تھا بلکہ ایک نظریاتی وابستگی، اتحادِ امت اور ظلم کے خلاف اجتماعی شعور کا مظہر بھی تھا۔ یہ ریلی اس امر کی علامت بن گئی کہ رہبر کی شہادت نے دلوں میں جو آگ روشن کی ہے، وہ اتحاد، بیداری اور استقامت کی صورت میں اپنا اثر دکھاتی رہے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha