کلام: ڈاکٹر جواد حیدر ہاشمی
حوزہ نیوز ایجنسی|
خدا کا شکر ہے پورا نظام باقی ہے
عدو کے واسطے اب انتقام باقی ہے
یزید وقت کے حامی عیاں ہوئے سارے
حسینیوں کا فقط احترام باقی ہے
شہید ہو کے بتایا ہے خامنائی نے
شہیدِ کرب و بلاؑ کا پیام باقی ہے
شہید ہو کے بھی زندہ ہیں آج خامنہ ای
خدا کے اذن سے اب بھی یہ نام باقی ہے
علیؑ کے نقشِ قدم پر چلے ہیں خامنہ ای
یہی سبب ہے یہ عالی مقام باقی ہے
شہید ہو کے بچایا ہے پوری ملت کو
شہیدِ حق کا بڑا احتشام باقی ہے
شہیدِ حق کے لہو کا اثر ذرا دیکھیں
نبیؐ کے پیاروں میں اب انسجام باقی ہے
عدو نے سمجھا تھا مٹ جائے گا نشاں ان کا
انہیں خبر ہو ابد تک یہ نام باقی ہے
عَلم سنبھالنے میداں میں مجتبی آئے
شہید ہو گئے رہبر نظام باقی ہے
ابھی تو ہو گا ظہورِ امامؑ غیبت سے
قسم خدا کی بڑا انتقام باقی ہے
مٹے گا کیسے بھلا دین احمد مختارؐ
امام عصرؑ کا نائب مدام باقی ہے
ستمگرانِ جہاں سن لو اور عبرت لو
یزید مٹ گیا لیکن امامؑ باقی ہے
لرز رہے ہیں ستمگر تمام دنیا میں
جری جوانوں کا جذبہ تمام باقی ہے
مٹائے مٹ نہ سکے گا یہ جذبہ ایثار
رہِ وفا میں ہمارا قیام باقی ہے
شہید ہو گئے رہبر تو غم نہ کر حیدرؔ
یقین رکھ لو ظہورِ امامؑ باقی ہے
از قلم: پروفیسر ڈاکٹر جواد حیدر ہاشمی









آپ کا تبصرہ