ہفتہ 14 فروری 2026 - 02:25
“اے خمینی! تیری تسبیح کے دانوں کی قسم—کفر کو آج تک ایران سے ڈر لگتا ہے”

حوزہ/ اسلامی انقلابِ ایران: روحانیت، خودمختاری اور استعمار کے مقابل عزائم کی ایک چٹان کا بیانیہ

تحریر: مولانا علی عباس حمیدی

حوزہ نیوز ایجنسی | انقلابات محض سیاسی تبدیلی نہیں ہوتے بلکہ وہ قوموں کی فکری سمت، تہذیبی خودی اور اجتماعی شعور کو نئی معنویت عطا کرتے ہیں۔ برصغیر کے شعری و فکری مزاج میں جب یہ مصرعہ گونجتا ہے—“اے خمینی! تیری تسبیح کے دانوں کی قسم، کفر کو آج تک ایران سے ڈر لگتا ہے”—تو یہ محض جذباتی نعرہ نہیں رہتا بلکہ ایک پورے تاریخی تجربے کی علامت بن جاتا ہے۔ اس مصرعے میں روحانیت (تسبیح)، قیادت (خمینی) اور استعمار مخالف مزاحمت (کفر سے مراد استکباری طاقتیں) کا بیانیہ سمویا ہوا ہے۔ یہ مقالہ اسی علامتی مفہوم کو تاریخی، فکری اور سیاسی تناظر میں پرکھنے کی کوشش ہے۔

انقلابِ ایران: ایک تاریخی پس منظر

1979ء کا اسلامی انقلاب ایک ایسے وقت میں برپا ہوا جب عالمی سیاست سرد جنگ کے دائرے میں قید تھی اور مشرقِ وسطیٰ میں مغربی طاقتوں کی بالادستی مستحکم سمجھی جاتی تھی۔ ایران میں شاہی نظام کی سرپرستی بیرونی طاقتیں کر رہی تھیں، جبکہ اندرونِ ملک سماجی نابرابری، سیاسی جبر اور ثقافتی مغربیت کے خلاف عوامی بے چینی بڑھ رہی تھی۔ اس پس منظر میں دینی قیادت کے تحت ابھرنے والی عوامی تحریک نے نہ صرف شاہی نظام کو ختم کیا بلکہ ایک خودمختار، نظریاتی ریاست کی بنیاد رکھی۔ یہ عمل استعمار کے اس مفروضے کے لیے چیلنج بن گیا کہ خطے کی سیاست صرف طاقت کے توازن اور مفاداتی اتحادوں سے چلائی جا سکتی ہے۔

روحانیت بمقابلہ مادّیت: “تسبیح کے دانے” کی علامت

مصرعے میں “تسبیح کے دانے” روحانیت، عبادت اور اخلاقی استقامت کی علامت ہیں۔ جدید سیاسیات میں طاقت کو عموماً عسکری، معاشی یا تکنیکی برتری سے ناپا جاتا ہے، مگر انقلابِ ایران نے یہ تصور پیش کیا کہ اخلاقی اتھارٹی اور روحانی وابستگی بھی سیاسی قوت میں ڈھل سکتی ہے۔ تسبیح کے دانے گویا یہ پیغام دیتے ہیں کہ جب سیاست عبادت، قربانی اور اخلاقی ذمہ داری سے جڑ جائے تو وہ محض اقتدار کی کشمکش نہیں رہتی بلکہ ایک اخلاقی تحریک بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انقلاب نے عوامی شرکت، خودداری اور مزاحمت کو دینی معنی عطا کیے۔

“کفر کو ڈر”: استکبار کے مقابل خودمختاری کا بیانیہ

اس شعر میں “کفر” کو بطور اصطلاح مغربی استعمار یا استکباری نظام کے معنوی فریم میں سمجھا جاتا ہے۔ یہاں مراد کسی مذہبی گروہ کی تکفیر نہیں بلکہ وہ عالمی نظام ہے جو سیاسی، معاشی اور ثقافتی بالادستی کے ذریعے کمزور قوموں کو زیرِ اثر رکھتا ہے۔ ایران کی خودمختار خارجہ پالیسی، فلسطین کے مسئلے پر واضح موقف، اور خطے میں خودداری کے ساتھ موجودگی نے عالمی طاقتوں کے لیے ایک نیا متغیر پیدا کیا۔ اسی تناظر میں یہ کہا جاتا ہے کہ “کفر کو آج تک ایران سے ڈر لگتا ہے”—یعنی استکباری قوتیں ایک ایسے ماڈل سے خائف ہیں جو ان کے تسلطی ڈھانچے کو اخلاقی چیلنج دیتا ہے۔

فکری خودمختاری اور تہذیبی مزاحمت

انقلابِ ایران کا ایک نمایاں پہلو فکری خودمختاری ہے۔ مغرب زدہ ماڈلز کے مقابل ایک اسلامی، مقامی اور اخلاقی نظام کی تشکیل نے تہذیبی سطح پر مزاحمت کو جنم دیا۔ اس مزاحمت کا مطلب عالمی دنیا سے کٹ جانا نہیں بلکہ اپنی اقدار کے ساتھ عالمی مکالمے میں شریک ہونا ہے۔ یہ موقف برصغیر کے فکری حلقوں میں بھی پذیرائی پاتا ہے جہاں نوآبادیاتی تاریخ کے باعث خودداری اور ثقافتی شناخت کا سوال ہمیشہ زندہ رہا ہے۔ اسی لیے یہ شعر عوامی جذبات میں ایک ہم آہنگی پیدا کرتا ہے—گویا ایران کی مزاحمت برصغیر کے نوآبادیاتی زخموں کی ترجمان بن جاتی ہے۔

سیاسی خودداری اور علاقائی اثرات

ایران کی خودمختار پالیسی نے خطے میں طاقت کے توازن پر اثر ڈالا۔ لبنان، فلسطین اور دیگر تنازعات میں مزاحمتی بیانیے کو اخلاقی سہارا ملا۔ اگرچہ اس کے نتیجے میں پابندیاں، دباؤ اور سفارتی تناؤ بھی بڑھا، مگر ایران نے خودداری کے بیانیے کو ترک نہیں کیا۔ یہ پہلو اس شعر کی معنویت کو مزید گہرا کرتا ہے: ڈر محض عسکری قوت سے نہیں بلکہ ایک ایسے بیانیے سے لگتا ہے جو کمزور اقوام کو خودداری کا حوصلہ دے۔

تنقیدی زاویہ: جذبات اور حقیقت کے درمیان

یہ بھی ضروری ہے کہ اس مصرعے کو جذباتی نعروں سے اوپر اٹھ کر تنقیدی نگاہ سے دیکھا جائے۔ ایران کو داخلی سطح پر معاشی مشکلات، پابندیوں کے اثرات اور سماجی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ خودمختاری کا بیانیہ اس وقت زیادہ پائیدار بنتا ہے جب وہ عوامی بہبود، شفاف حکمرانی اور سماجی انصاف سے جڑا ہو۔ محض استکبار مخالف نعروں سے دیرپا ترقی ممکن نہیں۔ لہٰذا اس شعر کو ایک تحریک انگیز علامت سمجھتے ہوئے عملی اصلاحات اور داخلی مضبوطی کو اس کا لازمی تقاضا ماننا چاہیے۔

نوجوان نسل اور مزاحمتی شعور

عصرِ حاضر میں نوجوان نسل سوشل میڈیا، عالمی ثقافت اور تیز رفتار معلوماتی بہاؤ سے متاثر ہے۔ اس تناظر میں انقلابِ ایران کے بیانیے کو نئے اسلوب میں پیش کرنا ضروری ہے—جہاں روحانیت کو جدید سماجی انصاف، علمی ترقی اور ٹیکنالوجیکل خودکفالت سے جوڑا جائے۔ “تسبیح کے دانے” محض عبادت نہیں بلکہ اخلاقی نظم و ضبط کی علامت بنیں؛ اور “ڈر” کا مفہوم محض خوف نہیں بلکہ ایک اخلاقی چیلنج کی صورت میں سامنے آئے۔

برصغیر میں شعری اثر اور عوامی مقبولیت

برصغیر کی ادبی روایت میں انقلابی شاعری ہمیشہ عوامی تحریکوں کے ساتھ جڑی رہی ہے۔ فیض، جوش اور دیگر شعرا کی روایت میں یہ مصرعہ ایک نئے سیاسی-مذہبی بیانیے کی نمائندگی کرتا ہے۔ عوامی جلسوں، پوسٹروں اور نعتیہ/مرثیہ روایت کے درمیان ایسے اشعار عوامی شعور کو متحرک کرتے ہیں۔ تاہم ذمہ دارانہ طرزِ بیان یہ تقاضا کرتا ہے کہ شاعری کو نفرت کے بجائے خودداری، عدل اور امن کے پیغام کے ساتھ جوڑا جائے۔

نتیجہ

“اے خمینی! تیری تسبیح کے دانوں کی قسم—کفر کو آج تک ایران سے ڈر لگتا ہے” ایک علامتی مصرعہ ہے جو اسلامی انقلابِ ایران کے روحانی، سیاسی اور تہذیبی اثرات کو سادہ مگر پُراثر انداز میں سمیٹتا ہے۔ اس میں روحانیت کی قوت، خودمختاری کا عزم اور استکبار کے مقابل اخلاقی مزاحمت کا پیغام پوشیدہ ہے۔ تاہم اس پیغام کی پائیداری اس بات سے مشروط ہے کہ مزاحمت کو داخلی اصلاح، سماجی انصاف اور علمی ترقی کے ساتھ جوڑا جائے۔ تبھی یہ بیانیہ محض نعرہ نہیں بلکہ ایک قابلِ عمل اخلاقی و سیاسی ماڈل بن سکتا ہے—ایسا ماڈل جو خطے اور دنیا میں وقار، خودداری اور امن کی بنیاد رکھے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha