جمعہ 20 فروری 2026 - 12:41
جب وارث حیدر (ع) نے وارث جزیرۂ ایپسٹین کو للکارا

حوزہ/ایک طرف جزیرۂ ایپسٹین کی غلاظت میں لتھڑی تہذیب کے علمبردار اپنے بحری بیڑوں اور مادی طاقت کے نشے میں چُور تھے تو دوسری طرف ایک مردِ مؤمن، حسینی فکر کا وارث، تاریخ کے سب سے بڑے انقلابی مکتب کا نمائندہ، مکمل سکون و اطمینان کے ساتھ مسند پر جلوہ افروز ہوا۔ رہبرِ معظم، امام خامنہ ای کی گزشتہ دنوں کی تقریر محض ایک سیاسی بیان نہیں تھی، بلکہ یہ عصرِ حاضر کی کربلا میں دیا گیا ایک خطبہ تھا، جس نے نہ صرف دوستوں کے دلوں کو یقین سے بھر دیا بلکہ دشمن کے ایوانوں میں بھی لرزہ طاری کر دیا۔

تحریر: صادق الوعد

حوزہ نیوز ایجنسی| تاریخ کے پردے پر کچھ لمحے ایسے ثبت ہوتے ہیں جب الفاظ محض حروف کا مجموعہ نہیں رہتے، بلکہ تلوار بن جاتے ہیں؛ جب ایک آواز کسی فرد کی نہیں، بلکہ ایک پوری تہذیب، ایک پوری تاریخ اور ایک اٹل نظریے کی گونج بن جاتی ہے۔ یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب حق و باطل کی لکیریں کھینچی جاتی ہیں، جب دوست اور دشمن کی پہچان واضح ہوتی ہے اور جب آنے والی نسلوں کے لیے جدوجہد کی سمت متعین کر دی جاتی ہے۔ ایسا ہی ایک لمحہ تب آیا جب استکبارِ عالمی کی جانب سے دھمکیوں، فوجی نقل و حرکت اور نفسیاتی جنگ کا شور عروج پر تھا، اور دنیا کی نگاہیں محورِ مقاومت کے قلب، اسلامی جمہوریہ ایران، پر جمی تھیں۔ ایک طرف جزیرۂ ایپسٹین کی غلاظت میں لتھڑی تہذیب کے علمبردار اپنے بحری بیڑوں اور مادی طاقت کے نشے میں چُور تھے، تو دوسری طرف ایک مردِ مؤمن، حسینی فکر کا وارث، تاریخ کے سب سے بڑے انقلابی مکتب کا نمائندہ، مکمل سکون و اطمینان کے ساتھ مسند پر جلوہ افروز ہوا۔ رہبرِ معظم، امام خامنہ ای کی گزشتہ دنوں کی تقریر محض ایک سیاسی بیان نہیں تھی، بلکہ یہ عصرِ حاضر کی کربلا میں دیا گیا ایک خطبہ تھا، جس نے نہ صرف دوستوں کے دلوں کو یقین سے بھر دیا، بلکہ دشمن کے ایوانوں میں بھی لرزہ طاری کر دیا۔

آئیے، اس تاریخی خطاب کی گہرائیوں میں اتر کر ان پیغامات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

طوفانوں کے مقابل ایک چٹان

سیاست اور جنگ کے میدان میں سب سے بڑا ہتھیار اکثر خاموشی، سکون اور اطمینان ہوتا ہے۔ جس لمحے دشمن آپ کو خوفزدہ، مشتعل یا جذباتی دیکھنا چاہتا ہے، اسی لمحے متانت اور وقار کا مظاہرہ کرنا خود ایک فتح ہے۔ امام خامنہ ای کی تقریر کا پہلا اور سب سے گہرا پیغام ان کے الفاظ سے زیادہ ان کے انداز میں پوشیدہ تھا۔

ایک ایسے وقت میں جب دشمن کے جرنیل اور صدور چیخ چیخ کر دھمکیاں دے رہے تھے، جب میڈیا چینلز پر جنگ کے نقشے دکھائے جا رہے تھے، رہبرِ انقلاب کے چہرے پر ایک مثالی سکون طاری تھا۔ ان کے الفاظ، ایک ایک کر کے، انتہائی ٹھہراؤ اور واضح انداز میں ادا ہو رہے تھے۔ یہ وہ سکون تھا جو ایمان باللہ سے پیدا ہوتا ہے، جو اپنی قوم کی طاقت پر یقین سے جنم لیتا ہے، اور جو تاریخ کے جبر پر فتح کے اعتماد سے عبارت ہے۔

انہوں نے اسی ایک مہینے میں کم ازکم آٹھ بار اپنی موجودگی اور لوکیشن بتا کر دشمن کو پیغام دیا کہ ہم تم سے، تمہارے جاسوسی سیاروں اور تمہاری مادی طاقت سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ ہم یہاں ہیں، اپنے عوام کے درمیان، اور اسی زمین سے تمہاری طاقت کے کھوکھلے پن کو چیلنج کر رہے ہیں۔ یہ انداز محض بہادری نہیں، بلکہ ایک گہری نفسیاتی حکمت عملی تھی۔ اس نے دشمن کو یہ پیغام دیا کہ تمہاری سب سے بڑی طاقت،خوف پھیلانا اب ناکام ہو چکی ہے۔ تم جس شیر کو ڈرانا چاہتے ہو، وہ تمہاری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مسکرا رہا ہے۔ یہ اس گہرے یقین کا اظہار تھا کہ “خدائے مدافع جمہوری اسلامی، تمہارے ماڈرن بحری بیڑوں کے بنانے والوں سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔

زخموں پر مرہم اور عزم کی تجدید

ایک عظیم قائد کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ بیرونی طوفانوں سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر کو بھی سنبھالتا ہے۔ تقریر کا پہلا حصہ ملتِ ایران کے لیے تھا، جس میں بیک وقت ایک مشفق باپ کی نرمی بھی تھی اور ایک سپہ سالار کی بصیرت بھی۔

دشمن چاہتا ہے کہ تم ڈر جاؤ، کام روک دو، اور ملک کی ترقی کا پہیہ جام ہو جائے۔ لیکن تمہیں اس کے برعکس کرنا ہے۔ طلباء اور زیادہ محنت سے پڑھیں، مزدور اور زیادہ تندی سے کام کریں، اور حکام دگنی ذمہ داری سے اپنے فرائض انجام دیں۔ یہ پیغام تھا کہ اصل جنگ محاذ پر نہیں، بلکہ کارخانوں، یونیورسٹیوں اور تحقیقی مراکز میں لڑی جا رہی ہے۔ دشمن کی چال کو ناکام بنانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کی پیدا کردہ مایوسی کو امید اور تعمیر سے شکست دی جائے۔

حالیہ واقعات میں جانبحق ہونے والوں کے بارے میں ان کا تجزیہ قیادت اور حکمت کا شاہکار تھا۔ انہوں نے قوم کے زخموں پر نمک پاشی کے بجائے ان پر مرہم رکھا اور دشمن کی تقسیم کرو اور حکومت کرو کی سازش کو ناکام بنا دیا۔ انہوں نے جانبحق ہونے والوں کو تین گروہوں میں تقسیم کر کے ہر ایک کے ساتھ انصاف کیا۔

سب سے اہم اور دل کو چھو لینے والا حصہ دھوکہ کھائے ہوئے نوجوان سے متعلق تھا۔ ان کو فسادیوں اور اصل مجرموں سے الگ کرتے ہوئے، ان نوجوانوں کے بارے میں فرمایا: وہ بھی ہمارے ہیں، وہ ہمارے بچے ہیں۔ جو لوگ ان میں سے مارے گئے، انہیں بھی شہید شمار کرنے کے حکومتی فیصلے کو سراہا۔ یہ ایک باپ کی آواز تھی جو اپنے بھٹکے ہوئے بچوں کو واپس بلاتا ہے۔ یہ اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ دشمن ہمارے ہی بچوں کو ہمارے خلاف استعمال کرتا ہے، اور ہمارا فرض انہیں دشمن سمجھنا نہیں، بلکہ انہیں بچانا اور واپس لانا ہے۔ اس ایک جملے نے نفرت کی خلیج کو پاٹ کر قومی وحدت کا ایک نیا باب روشن کر دیا۔

استکبار کو جواب

جب گھر کو سنبھال لیا، تو اب باری تھی باہر کھڑے دشمن کی۔ یہاں لہجے میں شفقت کی جگہ جلال اور متانت کی جگہ للکار نے لے لی۔

امریکی صدر کے اس بیان پر کہ "ہم نے ایران کی طرف بحری بیڑے بھیجے ہیں ، کا جواب طنزیہ مگر انتہائی گہرا تھا۔ یقینا وه بحری بیڑے ایک خطرناک ٹیکنالوجی ہے، لیکن اس سے زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے جو اس بحری بیڑے کو سمندر کی تہہ میں غرق کر سکتا ہے۔ یہ محض ایک دھمکی نہیں تھی، بلکہ یہ پیغام تھا کہ تم اپنی طاقت کے پیمانوں سے ہماری طاقت کو مت ناپو۔ تمہاری ٹیکنالوجی مہنگی اور بھاری بھرکم ہے، جبکہ ہمارا ایمان، حوصلہ اور حکمت تم پر بھاری ہے۔

امریکی صدر کے اس دعوے پر کہ ہماری فوج دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے، جواب میں استکبار کو تاریخ یاد دلائی کہ دنیا کی سب سے طاقتور فوج بھی کبھی کبھی ایسا طمانچہ کھاتی ہے کہ پھر اٹھ نہیں پاتی۔ یہ ویتنام سے لے کر افغانستان اور عراق تک، امریکی شکستوں کی طرف ایک لطیف اشارہ تھا۔ یہ یاددہانی تھی کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں، قوموں کے عزم سے جیتی جاتی ہیں۔

سب سے کاری ضرب وہ تھی جب امریکی صدر کے اپنے الفاظ اسی کے خلاف استعمال کیے گئے۔ امریکی صدر نے خود شکایت کی ہے کہ امریکہ 47 سال سے اسلامی جمہوریہ کو ختم نہیں کر سکا۔ اسے ایک اچھا اعتراف قرار دے کر رہبر نے فرمایا: تم اب بھی نہیں کر سکو گے۔ جس دن یہ ایک نازک پودا تھا، تم اسے اکھاڑ نہیں سکے، آج تو یہ ایک تناور اور پھل دار درخت بن چکا ہے۔ در حقیقت یہ دشمن کی مایوسی اور ناکامی کا جشن تھا، جو اسی کی زبان سے بیان ہوا۔

جزیرۂ ایپسٹین کی عریاں حقیقت

تقریر کا عروج اس وقت آیا جب رہبر نے اس جنگ کو فوجی اور سیاسی دائرے سے نکال کر تہذیبی اور اخلاقی میدان میں لاکھڑا کیا۔ انہوں نے جزیرۂ ایپسٹین کے اسکینڈل کا ذکر کر کے مغرب کے منہ پر لگا لبرل ڈیموکریسی اور انسانی حقوق کا نقاب نوچ ڈالا۔

یہ ایک انتہائی گہرا نکتہ تھا۔ جس میں اصل پیغام یہ تھا کہ ہمارا اور تمہارا جھگڑا تیل، ایٹم بم یا جغرافیائی حدود پر نہیں ہے۔ ہمارا جھگڑا تہذیب کا ہے، اقدار کا ہے، اور انسان کی تعریف پر ہے۔ ایک طرف ہماری تہذیب ہے جو خاندان کے تقدس، انسانی حیا اور کمزوروں کے تحفظ پر قائم ہے۔ دوسری طرف تمہاری تہذیب ہے جس کی حقیقت جزیرۂ بدنام پر ہونے والی شیطانیت ہے۔ جہاں دنیا کے طاقتور ترین لوگ معصوم بچیوں کی عصمت دری کرتے ہیں۔یہ کہہ کر انہوں نے دنیا کے سامنے سوال رکھ دیا کہ تم کس کے ساتھ کھڑے ہو؟ اس حسینی تہذیب کے ساتھ جو انسانیت کی تکریم سکھاتی ہے، یا اس یزیدی تہذیب کے ساتھ جس کی بنیاد ہی فساد، استحصال اور ابلیسیت پر ہے؟ یہ وہ نکتہ تھا جس نے مغرب کے تمام اخلاقی دعوؤں کو ایک لمحے میں راکھ کر دیا۔

پیغامِ کربلا

اہل نظر اس نکتے سے بخوبی واقف ہیں کہ رہبرِ معظم اپنی عمومی تقاریر، بالخصوص جب مخاطب عالمی استکبار ہو، میں عموماً براہِ راست شیعہ عقائد کے دقیق مباحث کو چھیڑنے سے گریز کرتے ہیں، تاکہ پیغام کی آفاقیت برقرار رہے۔ لیکن اس روز، انہوں نے شعوری طور پر اس پردے کو ہٹایا اور بحث کو سیاسی دائرے سے نکال کر اس کی حقیقی روح، یعنی کربلا کی فکر سے جوڑ دیا۔ یہ دشمن کو یاد دلانے کے لیے تھا کہ تم جس قوم کو دھمکا رہے ہو، اس کی شناخت کا سرچشمہ کوئی جغرافیہ یا نسل نہیں، بلکہ ایک تاریخی عہد ہے؛ ایک ایسی یاد ہے جہاں بہتر (۷۲) پیاسے، تیس ہزار مسلح افواج کے سامنے سر نہیں جھکاتے، بلکہ تاریخ کا رخ موڑ دیتے ہیں۔ یہ اعلان تھا کہ ہماری طاقت کا راز میزائلوں میں نہیں، اس مکتب میں پوشیدہ ہے جس کے ہم وارث ہیں۔

دوسرا اہم نکتہ جو آج کی تقریر میں تھا ۔ وه یہ کہ انہوں نے امام حسین علیہ السلام کا وہ تاریخی قول نقل کیا: "مِثلی لا یُبایِعُ یَزید" (مجھ جیسا یزید کی بیعت نہیں کرے گا)۔

یہاں ایک انتہائی لطیف اور گہرا نکتہ پوشیدہ تھا جس پر اہل نظر حیران رہ گئے۔ امام حسینؑ کا اصل قول تھا "مِثلی لا یُبایِعُ مِثلَه" (مجھ جیسا، اس جیسے کی بیعت نہیں کرتا)۔ لیکن رہبرِ انقلاب نے مِثلہ (اس جیسا) کی جگہ خود یزید کا نام لیا۔ اس ایک تبدیلی نے معنی کا جہاں بدل دیا۔

اس جیسا کہنے کا مطلب ہوتا کہ ہم آج یزید جیسے ایک کردار سے لڑ رہے ہیں۔لیکن یزید کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم آج خود یزید سے لڑ رہے ہیں۔

یزید ایک شخص کا نام نہیں، ایک سوچ، ایک تہذیب اور ایک نظام کا نام ہے۔ وہ نظام جو ظلم، فسق و فجور، جھوٹ، تکبر اور انسانیت کی تذلیل پر قائم ہو۔ جزیرۂ ایپسٹین کی تہذیب، دنیا پر اپنی بالادستی قائم کرنے کی ہوس، اور کمزور قوموں کا خون چوسنے کی پالیسی، یہ سب دورِ حاضر کی یزیدیت کے چہرے ہیں۔

لہٰذا، جب فرزندِ حسینؑ نے یہ کہا کہ مجھ جیسا یزید کی بیعت نہیں کرے گا ، تو وہ دراصل یہ اعلان کر رہے تھے کہ کربلا کا معرکہ ختم نہیں ہوا۔ آج بھی ایک طرف حسینی لشکر ہے جو انسانی اقدار، انصاف اور خدا کی حاکمیت کے لیے کھڑا ہے، اور دوسری طرف یزیدی لشکر ہے جو اپنی مادی طاقت اور شیطانی خواہشات کے ساتھ صف آرا ہے۔

مگر فتح ہوگی حزب اللہی کی ان شاء الله

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha