جمعہ 13 فروری 2026 - 11:47
خطبۂ شعبانیہ کی روشنی میں انسانی تزکیہ اور سماجی تشکیل

حوزہ/شعبان المبارک کے مہینے کے آخری دنوں میں پیغمبرِ خدا نے صحابہ کے اجتماع سے خطاب فرمایا اور اس خطبے میں مسلمانوں کو رمضان المبارک کی عظمت اور اہمیت سے آگاہ کرتے ہوئے اس مہینے کی خصوصیات و برکات اور دن رات میں مسلمانوں کے وظیفے کو بیان فرمایا یہ خطبہ، خطبۂ شعبانیہ کے نام سے مشہور ہے ۔ اس خطبے کو شیخ صدوق نے کتاب '' عیون اخبار الرضا'' میں امام علی علیہ السلام سے روایت کیا ہے۔ خطبۂ شعبانیہ رسولِ اکرم کی اُن نادر نصوص میں سے ہے جو محض ایک وقتی وعظ نہیں، بلکہ ایک مکمل تربیتی و فکری منشور ہے۔

تحریر: سید منظور عالم جعفری سرسوی

حوزہ نیوز ایجنسی| ماہ رمضان المبارک اپنے آپ کو برائیوں اور گناہوں سے پاک کرنے، فضائل و کمالات سے آراستہ ہونے اور رب کریم سے قرب کاایک بہترین اور مناسب موقع ہے، لیکن اس فرصت اور موقع سے صحیح اور مکمل استفادہ کرنا اسی وقت میسر ہے جب انسان اس مہینہ کی عظمت و فضیلت ، اس کے احکام و اعمال واجبات و محرمات سے باخبر ہو۔

شعبان المبارک کے مہینے کے آخری دنوں میں پیغمبرِ خدا ﷺ نے صحابہ کے اجتماع سے خطاب فرمایا اور اس خطبے میں مسلمانوں کو رمضان المبارک کی عظمت اور اہمیت سے آگاہ کرتے ہوئے اس مہینے کی خصوصیات و برکات اور دن رات میں مسلمانوں کے وظیفے کو بیان فرمایا یہ خطبہ ، خطبہ شعبانیہ کے نام سے مشہور ہے ۔ اس خطبے کو شیخ صدوق نے کتاب '' عیون اخبار الرضا'' میں امام علی علیہ السلام سے روایت کیا ہے۔ خطبۂ شعبانیہ رسول اکرم ﷺ کی اُن نادر نصوص میں سے ہے جو محض ایک وقتی وعظ نہیں بلکہ ایک مکمل تربیتی و فکری منشور ہے۔ اس کا دائرہ صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ انسان کی روح، اخلاق، سماج اور ولایت سے وابستگی تک پھیلا ہوا ہے۔

یہ مقالہ اسی خطبہ کو بنیاد بنا کر یہ ثابت کرتا ہے کہ رسول خدا ﷺ نے اس خطبہ میں فرد کی اصلاح، سماج کی تطہیر اور امت کی فکری سمت کو ایک جامع نظام کی صورت میں پیش فرمایا۔

1. ماہِ رمضان: رحمت، مغفرت اور تربیت کا مہینہ

آپ ﷺ فرماتے ہیں:«أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ قَدْ أَقْبَلَ إِلَيْكُمْ شَهْرُ اللَّهِ بِالْبَرَكَةِ وَالرَّحْمَةِ وَالْمَغْفِرَةِ»،ترجمہ : اے لوگو خدا کا برکت ، رحمت اور مغفرت سے بھرپور مہینہ آرہا ہے ، یہ ایک ایسا مہینہ ہے۔ یہاں رسول اکرم ﷺ رمضان کو محض ایک مہینہ نہیں بلکہ الٰہی منصوبہ (Divine Program) قرار دیتے ہیں۔

آپ ﷺ نے امت کو تین بنیادی عناصرکی طرف متوجہ کیا ہے: برکت عملی، یعنی: زندگی میں نظم، رحمت ، یعنی: خدا سے تعلق کی نرمی، مغفرت، یعنی: اخلاقی تطہیر ،یہ تینوں مل کر انسان کو نئے سرے سے تعمیر کرتے ہیں، جو کسی بھی سماجی انقلاب کی بنیاد ہے۔آپؐ نے اس مہینے کو شہرُ اللہ (اللہ کا مہینہ) قرار دیا ہے۔ اگرچہ حقیقت میں تمام مہینے اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں، لیکن ماہِ رمضان کو ایک خاص عظمت، فضیلت اور روحانی مقام حاصل ہے۔ اس مبارک مہینے میں بندوں کے لیے اللہ سے قرب حاصل کرنے، عبادت میں اخلاص پیدا کرنے اور روحانی پاکیزگی حاصل کرنے کے بے شمار مواقع میسر آتے ہیں۔ اسی خصوصی شان اور برکت کی وجہ سے روایات میں ماہِ رمضان کو شہرُ اللہ کہا گیا ہے۔

2. قرآن سے تعلق: ہدایت کا زندہ رشتہ

آپ ﷺ فرماتے ہیں:«فَاسْأَلُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ بِنِیَّاتٍ صَادِقَةٍ وَ قُلُوبٍ طَاهِرَةٍ أَنْ یُوَفِّقَكُمْ لِصِیَامِهِ وَ تِلَاوَةِ كِتَابِهِ فَإِنَّ الشَّقِیَّ مَنْ حُرِمَ غُفْرَانَ اللَّهِ فِی هَذَا الشَّهْرِ الْعَظِیمِ» ترجمہ: لہذا تم سب کو اس مہینے میں نیک اور سچی نیتوں اور پاک دلوں کے ساتھ اللہ سے سوال کرنا چاہئے کہ تمہیں اس مہینے کے روزہ رکھنے اور قرآن پاک کی تلاوت کرنے کی توفیق عنایت کرے ، کیونکہ بدبخت ہے وہ شخص جو اس بابرکت مہینے میں غفران الہیٰ سے محروم رہا ۔ یہ جملہ بتاتا ہے کہ قرآن سے تعلق دراصل ہدایت کے ساتھ ایک زندہ اور دائمی رشتہ قائم کرنے کا نام ہے۔قرآن صرف تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا مکمل دستور ہے،جو شخص قرآن سے جڑ جاتا ہے وہ فکری، اخلاقی اور روحانی طور پر مضبوط ہو جاتا ہے۔قرآن انسان کو اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لے جاتا ہے۔یہ کتاب انسان کو اپنے رب کی معرفت اور اپنی حقیقت کا شعور دیتی ہے۔روزانہ قرآن کی تلاوت، تدبر اور عمل انسان کے دل کو زندہ رکھتا ہے۔قرآن مشکلات میں صبر، اور نعمتوں میں شکر سکھاتا ہے،یہ انسان کو عدل، رحمت، تقویٰ اور اخلاص کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن سے جڑا ہوا دل گمراہی سے محفوظ رہتا ہے۔یہ کتاب ہر زمانے کے انسان کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔قرآن سے مضبوط تعلق دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے۔اسی لیے اہلِ ایمان کی زندگی قرآن کے ساتھ جڑی ہوئی ہونی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی معاشروں کی اصلاح ہمیشہ قرآنی بیداری سے شروع ہوئی ہے۔

3. سماجی ذمہ داری اور انسانی ہمدردی

آپ ﷺ فرماتے ہیں:«وَتَصَدَّقُوا عَلَى فُقَرَائِكُمْ وَمَسَاكِينِكُمْ» ترجمہ: غریب اور تنگ دست لوگوں کو صدقہ دو۔ خطبۂ شعبانیہ عبادت کو سماجی ذمہ داری سے جدا نہیں کرتا۔سماجی ذمہ داری اور انسانی ہمدردی ایک مہذب اور متوازن معاشرے کی بنیاد ہیں۔ انسان فطری طور پر سماجی مخلوق ہے اور اس کی کامیابی صرف ذاتی ترقی تک محدود نہیں بلکہ دوسروں کی بھلائی سے بھی جڑی ہوتی ہے۔ سماجی ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ ہر فرد اپنے معاشرے کے مسائل کو سمجھے اور اپنی استطاعت کے مطابق ان کے حل میں حصہ لے۔ انسانی ہمدردی دل کی وہ کیفیت ہے جو دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ محسوس کرنے کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔ اگر معاشرے میں ہمدردی کا جذبہ مضبوط ہو تو غربت، ناانصافی اور محرومی جیسے مسائل کم ہو سکتے ہیں۔ اسلام بھی انسان کو دوسروں کی مدد، خیر خواہی اور تعاون کی تعلیم دیتا ہے۔ سماجی ذمہ داری اور ہمدردی مل کر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیتی ہیں جہاں محبت، انصاف اور باہمی احترام فروغ پاتا ہے۔ ایک ذمہ دار اور ہمدرد انسان نہ صرف خود کامیاب ہوتا ہے بلکہ پورے معاشرے کی ترقی کا ذریعہ بنتا ہے۔

4. اخلاقی تزکیہ: زبان اور نگاہ کی حفاظت

آپ ﷺ فرماتے ہیں:« واحْفَظُوا أَلْسِنَتَكُمْ وَ غُضُّوا عَمَّا لَا یَحِلُّ النَّظَرُ إِلَیْهِ أَبْصَارَكُمْ وَ عَمَّا لَا یَحِلُّ الِاسْتِمَاعُ إِلَیْهِ أَسْمَاعَكُمْ» ترجمہ: اپنی زبانوں کو ہر قسم کی برائی سے بچاؤ اور اپنی نگاہوں کو ان چیزوں کی طرف دیکھنے سے بچاؤ جنہیں دیکھنا جائز نہیں ( حرام ہے ) اور اپنے کانوں کو ایسی آوازوں سے بچاؤکہ جنہیں سننا حرام ہے۔یہ احکامات ظاہر کرتے ہیں کہ اخلاقی تزکیہ انسان کی باطنی اصلاح کا بنیادی ستون ہے، اور اس میں زبان اور نگاہ کی حفاظت کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ زبان انسان کی شخصیت کا آئینہ ہوتی ہے، اس لیے جھوٹ، غیبت، بہتان اور سخت گفتگو سے بچنا اخلاقی پاکیزگی کا حصہ ہے۔ اچھی زبان دلوں کو جوڑتی ہے جبکہ بری زبان رشتوں کو توڑ دیتی ہے۔

اسی طرح نگاہ کی حفاظت انسان کے دل اور فکر کی پاکیزگی کا ذریعہ بنتی ہے۔ بے قابو نگاہ انسان کو گناہ اور برائی کی طرف لے جا سکتی ہے، جبکہ باحیا اور محتاط نگاہ روحانی سکون پیدا کرتی ہے۔ اسلام نے انسان کو نگاہ نیچی رکھنے اور پاکیزگی اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے۔جب انسان اپنی زبان اور نگاہ کی حفاظت کرتا ہے تو اس کا کردار مضبوط ہوتا ہے اور وہ معاشرے کے لیے ایک مثبت مثال بنتا ہے۔ اخلاقی تزکیہ دراصل انسان کو اللہ کے قریب اور معاشرے کے لیے مفید بناتا ہے۔

5. دعا اور استغفار: امید اور خوف کا توازن

آپ ﷺ فرماتے ہیں:«وَ تُوبُوا إِلَى اللَّهِ مِنْ ذُنُوبِكُمْ وَارْفَعُوا إِلَیْهِ أَیْدِیَكُمْ بِالدُّعَاءِ فِی أَوْقَاتِ صَلَاتِكُمْ ‏فَإِنَّهَا أَفْضَلُ السَّاعَاتِ یَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ فِیهَا بِالرَّحْمَةِ إِلَى عِبَادِهِ یُجِیبُهُمْ إِذَا نَاجَوْهُ وَیُلَبِّیهِمْ إِذَا نَادَوْهُ وَیُعْطِیهِمْ إِذَا سَأَلُوهُ وَیَسْتَجِیبُ لَهُمْ إِذَا دَعَوْهُ»،ترجمہ: اپنے گناہوں سے اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرو، اور اوقات نماز میں اپنے ہاتھوں کو اللہ کی طرف بلند کرو کیونکہ اوقات نماز بہترین اوقات ہیں کہ جس میں خدا وندعالم اپنے بندوں کی طر ف خاص رحمت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اُس سے مناجات کریں تو جواب دیتا ہے اور اسے پکارے تو لبیک کہتا ہے، اورجب اس سے کوئی چیز مانگیں اور دعا کریں تو اجابت کرتا ہے۔

دعا اور استغفار مومن کی روحانی زندگی کے دو اہم ستون ہیں جو امید اور خوف کے درمیان توازن قائم رکھتے ہیں۔ دعا انسان کو اللہ کی رحمت، کرم اور قبولیت کی امید دلاتی ہے، جبکہ استغفار انسان کو اپنی کمزوریوں، خطاؤں اور ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے۔ مومن نہ صرف اللہ کی رحمت کا امیدوار ہوتا ہے بلکہ اس کے عذاب اور ناراضگی سے خوف بھی رکھتا ہے۔ یہ توازن انسان کو غرور سے بچاتا ہے اور مایوسی سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ اگر صرف امید ہو تو انسان لاپرواہ ہو سکتا ہے اور اگر صرف خوف ہو تو انسان ناامید ہو سکتا ہے۔ اسلام انسان کو سکھاتا ہے کہ وہ اللہ کو غفور و رحیم بھی سمجھے اور عادل و حساب لینے والا بھی۔دعا دل کو سکون دیتی ہے اور استغفار روح کو پاک کرتا ہے۔ جو انسان دعا اور استغفار کو اپنی زندگی کا حصہ بناتا ہے وہ اللہ سے مضبوط تعلق قائم کرتا ہے اور ایک متوازن، باعمل اور بااخلاق زندگی گزارتا ہے۔ یہاں دعا کو محض حاجت طلبی نہیں بلکہ خود احتسابی، اور الٰہی رجوع کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ انسان کو ناامیدی سے بچاتی ہے اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرتی ہے۔

6.تقویٰ: عبادت کی روح

حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں : پس میں کھڑا ہوا اور عرض کیا یارسول للہ ﷺ اس مہینے میں سب سے بہترین عمل کیا ہے ؟ فرمایا:« الْوَرَعُ عَنْ مَحَارِمِ اللَّهِ» اے ابوالحسن علیہ السلام اس مہینے میں بہترین عمل محرمات الہی سے پرہیز کرنا ہے ۔ گناہوں کو ترک کرنا جسے اسلامی اصطلاح میں تقویٰ کہاجاتا ہے ، قرآن مجید اور روایات معصومین علیہم السلام میں اس کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے اور اسے تمام کمالات اور خوبیوں کا سرچشمہ کہا گیا ہے ۔ قرآن مجید نے تقویٰ کو بہترین زاد آخرت بتایا ہے : ﴿ فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى﴾ ترجمہ: سب سے بہتر زادِ راہ یقیناپرہیزگاری ہے،ایک مقام پر اسے ایک ایسا لباس کہا ہے جو انسان کی برائیوں کو چھپاتا ہے : ﴿وَ لِبَاسُ التَّقْوٰىۙ-ذٰلِكَ خَیْرٌؕ﴾ ترجمہ: اور پرہیزگاری کا لباس سب سے بہتر ہے۔ اور ایک آیت میں آیا ہے کہ خداوندعالم صرف صاحبان تقویٰ کے اعمال کو قبول کرتا ہے:﴿اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ﴾،تقویٰ عبادت کی اصل روح اور اس کا حقیقی مقصد ہے، کیونکہ عبادت کا ہدف صرف ظاہری اعمال نہیں بلکہ دل کی اصلاح اور اللہ کی رضا کا حصول ہے۔ تقویٰ انسان کو گناہوں سے بچاتا اور نیکی کی طرف راغب کرتا ہے۔ جب عبادت تقویٰ کے ساتھ ہو تو وہ انسان کے کردار اور اخلاق میں مثبت تبدیلی پیدا کرتی ہے۔ تقویٰ انسان کو ہر حال میں اللہ کی موجودگی کا احساس دلاتا ہے۔ یہی احساس عبادت کو زندہ، بامعنی اور اثر انگیز بناتا ہے۔

7. ولایتِ علیؑ: خطبہ کا فکری نقطۂ عروج

حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں : اس کے بعد پیامبرﷺ گریہ کرنے لگے میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺکس چیز نے آپ کو رلایا؟ فرمایا:«فقالَ یا علیّ، أبکی لِما یَستحلّ مِنک فی هذا الشّهر.کأنّی بِکَ وَ أنتَ تُصلّی لِرَبّکَ وَ قد انبَعَثَ أشقَی الأولینَ شَقیقَ عاقِرِ ناقَهِ ثمود، فَضَرَبَکَ ضربَةً علَی قَرَنِکَ فَخَضّبَ منها لِحیتَکَ، قالَ امیرُالمؤمنینَ علیه السّلام: فَقلتُ: یا رسولَ اللهِ، و ذلکَ فی سَلامَةٍ مِن دِینی؟فقال صلی الله علیه و آله: فی سلامة من دینک» ترجمہ: اے علی علیہ السلام میں اس لئے رو رہا ہوں کیوں کہ اس مہینے میں تمہارا خون بہایا جائے گا ( اس مہینے آپ کو شہید کردیا جائے گا) گویا میں تمہاری شہادت کے منظر کو دیکھ رہا ہوں ، درحالیکہ تم اپنے پروردگار کے لئے نماز پڑھنے میں مشغول ہوں گے، اس وقت شقی اولین وآخرین قاتل ناقہ صالح، تمہارے فرق پر ایک وار کریگا جس سے تمہاری ریش اور چہرہ خون سے ترہوں جائے گا ۔ امیر المؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ کیا اس وقت میرا دین ثابت وسالم ہوگا؟ فرمایا : ہاں اس وقت تمہار دین سالم ہوگا۔

اس کے بعد پیامبرﷺنے فرمایا: «یا علیّ، مَن قَتلکَ فَقد قَتلَنِی،و مَن أبغَضَکَ فَقَد أبغَضَنی،و مَن سَبّکَ فَقَد سَبّنِی، لأنّکَ مِنّی کَنَفسِی، روحُکَ مِن روحی، و طِینتُکَ مِن طینتِی، إنّ الله تبارک و تعالی خَلقنِی و ایّاکَ،و أصطَفانِی وَ ایّاکَ،و أختارَنی للنبوّة، وَ أختارَکَ لِلإمامَةِ،و مَن أنکَرَ امامَتَکَ فَقَد أنکَرَ نُبُوّتِی»ترجمہ: اے علی علیہ السلام جس نے تمہیں قتل کیا گویا اس نے مجھے قتل کیا اور جس نے تمہارے ساتھ بغض ودشمنی کی درحقیقت اس نے مجھ سے دشمنی کی ہے اور جو کوئی تمہیں ناسزا کہے گویا اس نے مجھے ناسزا کہا ہے کیونکہ تم مجھ سے ہو اور میرے نفس کی مانند ہو تمہاری روح میری روح سے ہے اور تمہاری طینت وفطرت میری فطرت سے ہے یقینا خدا نے ہم دونوں کو خلق کیا اور ہم دونوں کو انتخاب کیا، مجھے نبوت کے لئے انتخاب کیا اور تمہیں امامت کے لئے انتخاب کیا اگر کوئی تمہاری امامت سے انکار کرے تو اس نے میری نبوت سے انکار کیاہے ۔

«یاعَلِی أَنْتَ وَصِیی وَ أَبُو وُلْدِی وَ زَوْجُ ابْنَتِی وَ خَلِیفَتِی عَلَی أُمَّتِی فِی حَیاتِی وَ بَعْدَ مَوْتِی أَمْرُک أَمْرِی وَ نَهْیک نَهْیی»ترجمہ: اے علی علیہ السلام تم میرے جانشین وخلیفہ ہو اور تم میرے بچوں کے باپ اور میری بیٹی کے شوہر ہو اور تم میری زندگی میں بھی اور میرے مرنے کے بعد بھی میری امت پر میرے جانشین اور خلیفہ ہو تمہارا حکم میرا حکم ہے اور تمہاری نہی میری نہیں ہے ۔

«أُقْسِمُ بِالَّذِی بَعَثَنِی بِالنُّبُوَّةِ وَ جَعَلَنِی خَیرَ الْبَرِیةِ إِنَّک لَحُجَّةُ اللَّهِ عَلَی خَلْقِهِ وَ أَمِینُهُ عَلَی سِرِّهِ وَ خَلِیفَتُهُ عَلَی عِبَادِه»ترجمہ: ذات خدا کی قسم کہ جس نے مجھے نبوت پر مبعوث کیا اور مجھے انسانوں میں سے سب سے بہترقرار دیا یقینا تم مخلوقات پر خدا کی حجت ہو اور خدا کے اسرار کا امین ہو اور اس کے بندوں پر خلیفہ ہو۔

خطبۂ شعبانیہ کا اختتام امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے ذکر پر ہونا محض اتفاق نہیں بلکہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اسلام کی عملی تفسیر اور حقیقی روح اہلِ بیتؑ کی سیرت میں جلوہ گر ہے۔ رسول اکرمﷺ نے ماہِ رمضان کی فضیلت بیان کرنے کے بعد حضرت علیؑ علیہ السلام کے مقام اور ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا ذکر فرما کر ولایت اور ہدایت کے تسلسل کو واضح کیا۔ یہ اختتام اس بات کی علامت ہے کہ عبادت، تقویٰ اور ہدایت کا راستہ ولایتِ اہلِ بیت علیہم السلام سے جدا نہیں۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام صبر، عدالت اور بندگیِ خدا کا کامل نمونہ ہیں۔ اس طرح خطبۂ شعبانیہ ایمان، عبادت اور ولایت کے باہمی تعلق کو مکمل صورت میں پیش کرتا ہے۔ اوریہ بتاتا ہے کہ عبادت بغیر ولایت کے ناقص ہے، اور ولایت بغیر اخلاق کے بے اثر ،یہی شیعہ فکر کا بنیادی ستون ہے۔

خلاصہ:

خطبۂ شعبانیہ رسول اکرمﷺ کا وہ اہم خطبہ ہے جس میں ماہِ رمضان کی عظمت، روحانیت اور عبادت کی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ اس خطبہ میں رمضان کو اللہ کا مہینہ قرار دیتے ہوئے روزہ، تلاوتِ قرآن، دعا اور استغفار کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ رسول اکرمﷺ نے اس مہینے کو خودسازی، تقویٰ اور اخلاقی اصلاح کا بہترین موقع بتایا ہے۔ خطبہ میں غریبوں کی مدد، یتیموں پر شفقت، صلۂ رحم اور حسنِ اخلاق کی خاص تاکید کی گئی ہے۔ اس میں روزہ دار کے مقام اور اس کے اعمال کے اجر کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ زبان، نگاہ اور عمل کی حفاظت کو حقیقی روزہ قرار دیا گیا ہے۔ خطبہ میں امید اور خوف کے توازن کے ساتھ اللہ کی رحمت کی وسعت کو بیان کیا گیا ہے۔ اس کے آخر میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے مقام و فضیلت کی طرف اشارہ کر کے ولایت کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے۔ خطبۂ شعبانیہ دراصل رمضان کے روحانی اور سماجی پیغام کا جامع منشور ہے۔ یہ خطبہ انسان کو عبادت کے ساتھ ساتھ سماجی ذمہ داری کی بھی تعلیم دیتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha