جمعرات 12 فروری 2026 - 17:29
مناجاتِ شعبانیہ میں معرفتِ الٰہی کے مفاہیم

حوزہ/اسلامی معارف میں دعا کو محض طلبِ حاجت کا ذریعہ نہیں، بلکہ معرفتِ الٰہی، تزکیۂ نفس اور قربِ خداوندی کا اہم وسیلہ قرار دیا گیا ہے۔ اہلِ بیتِ اطہارؑ سے منقول دعاؤں اور مناجات میں ایسی عمیق معرفتی اور عرفانی تعلیمات پائی جاتی ہیں جو انسان کو ظاہری عبادت سے باطنی شعور تک لے جاتی ہیں۔

تحریر: سید منظور عالم جعفری سرسوی

حوزہ نیوز ایجنسی| اسلامی معارف میں دعا کو محض طلبِ حاجت کا ذریعہ نہیں بلکہ معرفتِ الٰہی، تزکیۂ نفس اور قربِ خداوندی کا اہم وسیلہ قرار دیا گیا ہے۔ اہلِ بیتِ اطہارؑ سے منقول دعاؤں اور مناجات میں ایسی عمیق معرفتی اور عرفانی تعلیمات پائی جاتی ہیں جو انسان کو ظاہری عبادت سے باطنی شعور تک لے جاتی ہیں۔

انہی عظیم دعاؤں میں مناجاتِ شعبانیہ کو ایک امتیازی مقام حاصل ہے، جو بالخصوص امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام اور دیگر ائمہؑ سے منقول ہے۔ علامہ مجلسیؒ لکھتے ہیں: »هَذِهِ الْمُنَاجَاةُ كَانَ يَدْعُو بِهَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْأَئِمَّةُ مِنْ وُلْدِهِ فِي شَهْرِ شَعْبَانَ«. اس دعا کو امیرالمؤمنین علیہ السلام اور آپ کی نسل سے بعد میں آنے والے معصوم علیہم السلام ماہ شعبان میں تلاوت کرتے تھے۔ سید ابن طاؤسؒ فرماتے ہیں: »وَجَدْنَا هَذِهِ الْمُنَاجَاةَ مَرْوِيَّةً عَنِ الْأَئِمَّةِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، وَكَانُوا يَدْعُونَ بِهَا فِي شَهْرِ شَعْبَانَ«. مناجاتِ شعبانیہ کو شیعہ علماء نے معتبر دعاؤں میں شمار کیا ہے۔ یہ دعا قدیم دعائی مجموعوں میں نقل ہوئی ہے، جن میں: اقبال الأعمال، سید ابن طاؤسؒ ، بلد الامین ،شیخ طوسیؒ ، مصباح المتهجد،شیخ طوسیؒ وغیرہ معروف کتابیں ہیں۔

مناجاتِ شعبانیہ اہلِ بیتِ اطہارؑ کی اُن عظیم روحانی دعاؤں میں سے ہے جو بندۂ مؤمن کے باطن، اخلاق اور معرفتِ الٰہی کو جِلا بخشتی ہیں۔ یہ مناجات بالخصوص حضرت امیرالمؤمنین علیؑ اور دیگر ائمہ اہلِ بیتؑ سے منقول ہے اور ماہِ شعبان کی روحانی فضا میں ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ اس کا اسلوب دعا اور مناجات کے روایتی سانچے میں رہتے ہوئے عمیق عرفانی مضامین کا حامل ہے۔زیرِ نظر مقالہ میں مناجاتِ شعبانیہ کے منتخب فقروں کی تشریح، اس کے عرفانی مضامین اور انسانی تربیت میں اس کی اہمیت کو پیش کیا گیا ہے۔

کلیدی الفاظ:

مناجاتِ شعبانیہ، معرفتِ الٰہی، قربِ خدا، عرفانِ اسلامی، دعا اہلِ بیتؑ، توحید، عبدیت، توبہ

دعا کا اسلوب اور تصورِ قربِ الٰہی

یہ دعا اللہ سے سننے کی درخواست سے شروع ہوتی ہے، جو اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ دعا کی توفیق بھی اللہ کی عطا ہے۔ »اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَاٰلِ مُحَمَّدٍ،وَاسْمَعْ دُعَائِيْ اِذَا دَعَوْتُكَ،وَاسْمَعْ نِدَائِیْ اِذَا نَادَیْتُكَ،وَأَقْبِلْ عَلَيَّ إِذَا نَاجَيْتُكَ«۔ ترجمہ: اے معبود! محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما،اور جب میں تجھ سے دعا کروں تو میری دعا سن،جب میں تجھے پکاروں تو میری پکار کو سن، جب میں تجھ سے مناجات کروں تو میری طرف توجہ فرما۔یہاں بندہ مطالبہ نہیں کر رہا بلکہ ادب کے ساتھ عرض کر رہا ہے کہ: اے پروردگار! مجھے وہ قرب عطا کر کہ میری پکار تیری بارگاہ تک پہنچے۔ یہ اسلوب انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ دعا میں لہجہ، کیفیت اور حضورِ قلب بنیادی شرط ہیں۔یہ اقتباس دعا کے اس بنیادی نکتے کو واضح کرتا ہے کہ قبولیت، دعا کا لازمی نتیجہ نہیں بلکہ خدا کی عطا ہے۔ یہاں بندہ نہ حق جتا رہا ہے اور نہ مطالبہ، بلکہ اللہ کے سامنے اپنی محتاجی کا اعتراف کر رہا ہے۔یہ اسلوب قرآنی تعلیمات سے ہم آہنگ ہے، جہاں دعا کو اذنِ الٰہی سے مشروط قرار دیا گیا ہے۔

مناجاتِ شعبانیہ میں معرفتِ الٰہی کا تصور

مناجاتِ شعبانیہ کی بنیاد معرفتِ خدا پر ہے، نہ کہ صرف ثواب یا عذاب کے تصور پر۔ دعا کا آغاز ہی خدا کی بارگاہ میں قرب اور توجہ کی طلب سے ہوتا ہے: »إِلَهِي هَبْ لِي كَمَالَ الِانْقِطَاعِ إِلَيْكَ،وَأَنِرْ أَبْصَارَ قُلُوبِنَا بِضِيَاءِ نَظَرِهَا إِلَيْكَ« ۔ ترجمہ: میرے خدا مجھے توفیق دے کہ میں تیری بارگاہ کا ہو جاؤں، اور ہمارے دلوں کی آنکھیں جب تیری طرف نظر کریں تو انہیں نورانی بنا دے ۔

یہ جملہ معرفتِ الٰہی کے ایک بلند عرفانی مقام کی طرف اشارہ کرتا ہے، جہاں بندہ ظاہری اسباب سے کٹ کر خدا سے وابستہ ہو جاتا ہے۔ اس دعا میں بندہ خدا سے مکمل طور پر اس کی طرف متوجہ ہونے (کمالِ انقطاع) کی درخواست کرتا ہے۔ یہ انقطاع دنیا سے فرار نہیں بلکہ دل کی مرکزیت کو خدا کے ساتھ وابستہ کرنا ہے۔ دل کی آنکھوں کو نورِ الٰہی سے روشن کرنے کی دعا معرفتِ قلبی کی اعلیٰ منزل کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہی مقام انسان کو حقیقی سکون اور قربِ الٰہی عطا کرتا ہے۔

فرار الیٰ اللہ: توبہ کا حقیقی مفہوم

توبہ کی حقیقت کے بارے میں مناجاتِ شعبانیہ میں ارشاد ہوتا ہے:«فَقَدْ هَرَبْتُ إِلَيْكَ وَوَقَفْتُ بَيْنَ يَدَيْكَ« ۔ ترجمہ: کہ تیرے ہاں تیزی سے آیا ہوں میں تیری بارگاہ میں کھڑا ہوں۔ یہ نہ جغرافیائی فرار ہے اور نہ معاشرتی، بلکہ یہاں “فرار” کا لفظ نہایت بلیغ ہے، یہ دنیا سے ترکِ تعلق نہیں بلکہ: خود مرکزیت (Self-centeredness)، نفس کی غلامی ، گناہ کی عادت، دنیاوی انحصار، مخلوق پر اعتماد سے اللہ کی طرف واپسی ہے۔

یہی قرآن کے اس تصور سے ہم آہنگ اورعملی تفسیر ہے ہے: «فَفِرُّوا إِلَى اللّٰهِ« ۔ ترجمہ: پس تم اللہ کی طرف بھاگو۔یہ مفہوم قرآنی توبہ کو محض نفسیاتی ندامت کے بجائے وجودی تبدیلی کے طور پر پیش کرتا ہے۔

آیت اللہ سیستانی فرماتے ہیں: گناہوں سے توبہ اہم ترین امور اور واجبات میں سے ہے توبہ کی حقیقت گناہوں سے پشیمان ہونا ہے اور پشیمانی ایک قلبی امر ہے، صرف (استغفراللہ) کہنا توبہ کے لیے کافی نہیں ہے بلکہ توبہ کے لیے حقیقی طور پر پشیمان ہونا لازم ہے اور اگر واقعاً پشیمان ہو جائے تو (استغفراللہ) کہنا لازم نہیں ہے ، گرچہ اس کا کہنا احتیاط مستحب ہے اور توبہ کے شرعی آثار پائے جانے کے لیے دو امر لازم ہیں:

الف: انسان حتمی ارادہ رکھتا ہو کہ گناہ کی طرف دوبارہ نہیں پلٹے گا۔

ب: جو کچھ بھی نافرمانی کی ہے امکان کی صورت میں شریعت کے دستور کے مطابق اصلاح کرے یہاں "فرار" ایک گہرا مفہوم رکھتا ہے۔

معرفتِ نفس اور فقرِ عبدی

مناجاتِ شعبانیہ میں بار بار انسان کی کمزوری، فقر، محتاجی، عبدیت اور انسان کی ontological حیثیت کو بیان کیا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے: »مُسْتَكِينًا لَكَ مُتَضَرِّعًا إِلَيْكَ « ۔ ترجمہ: اپنی بے چارگی تجھ پر ظاہر کر رہا ہوں، تیرے سامنے نالہ و فریاد کرتا ہوں۔

یہ جملہ انسان کو اس کی اصل پہچان یاد دلاتا ہے: وہ عبد ہے، مالک نہیں۔ یہ دعا غرورِ عبادت کو توڑتی ہے اور یہ سکھاتی ہے کہ: اللہ کے سامنے سب سے بڑی قوت، عاجزی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ معرفت کے نزدیک آنسوؤں سے نکلی دعا، زبان سے نکلی ہزار دعاؤں پر فوقیت رکھتی ہے۔»اِلٰھِیْ وَٲَنَا عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِك،قَائِمٌ بَیْنَ یَدَیْكَ مُتَوَسِّلٌ بِكَرَمِكَ اِلَیْك،َاِلٰھِیْ ٲَنَا عَبْدٌ ٲَتَنَصَّلُ اِلَیْكَ « ۔ ترجمہ: پھر بھی اے معبود! میں تیرا بندہ اور تیرے بندے کا بیٹا ہوں،اور تیرے ہی لطف و کرم کو وسیلہ بنا کر تیری بارگاہ میں آ کر کھڑا ہوں،میرے خدا! میں وہ بندہ ہوں جو خود کو تیری طرف کھینچ لایا ہے۔

اسلامی تصور میں انسان خود کفیل نہیں، مطلق مختار نہیں، بلکہ بنیادی طور پر عبدہے۔یہی تصور اسلامی اخلاق کی بنیاد بنتا ہے، جہاں تکبر سب سے بڑا اخلاقی زوال شمار ہوتا ہے۔

عرفانی و تربیتی اہمیت

1.مناجاتِ شعبانیہ سلوکِ الیٰ اللہ کا عملی دستور ہے۔

2. یہ دعا انسان کو خود احتسابی، توبہ اور اخلاقی اصلاح کی طرف متوجہ کرتی ہے۔

3. اہلِ بیتؑ کے عرفانی مکتب فکر کی جامع نمائندہ ہے۔

4. ماہِ شعبان میں روحانی آمادگی کا بہترین ذریعہ ہے۔

خلاصہ

مناجاتِ شعبانیہ ایک ہمہ جہت دعائیہ متن ہے جو:توحید،انسان شناسی،اخلاق، اور عرفان کو ایک منظم فکری ڈھانچے میں پیش کرتی ہے۔ یہ دعا محض عبادت نہیں بلکہ اسلامی فکر کا زندہ دستاویز ہے، جو ہر دور کے انسان کو اپنی ذات اور اپنے رب کے تعلق پر غور کی دعوت دیتی ہے۔ یہ دعا صرف پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ جینے کے لیے ہے۔کیونکہ یہ دعا انسان کو بندگی سکھاتی ہے، اس کے نفس کی اصلاح کرتی ہے ، اس کےعقیدہ مضبوط کرتی ہے،اور انسان کو اللہ کے قریب لے جاتی ہے،مناجاتِ شعبانیہ ایک ایسی جامع دعا ہے جو انسان کو عبدیت سے معرفت، توبہ سے قرب اور خوف سے محبتِ الٰہی تک کے سفر پر گامزن کرتی ہے۔ اس کی تفصیلی شرح سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اہلِ بیتؑ کی دعائیں نہ صرف روحانی متون ہیں، بلکہ ایک مکمل تربیتی نظام بھی پیش کرتی ہیں، جو ہر دور کے انسان کے لیے یکساں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha