تحریر و ترتیب: عرفان حسین انجم
حوزہ نیوز ایجنسی| تشیع مکتبِ امید ہے اور اس امید کا مرکز نظریہ مہدویت ہے دنیا کے پا برہنہ اور مستضعف لوگوں کیلیے نجات کا سہارا اور عدل و انصاف کی برپائی کی کلید وہ حکومت ہے جو حضرت مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف ظہور کے بعد اس کرہ ارض پر قائم کریں گے وہ ایک ایسی عالم گیر حکومت ہوگی جو دنیا کو اس طرح عدل و انصاف سے بھر دے گی جیسے یہ دنیا ظلم وستم سے لبریز ہے۔
آج جبکہ امام پردہ غیبت میں ہیں اور ہم امام کے انتظار کررہے ہیں کہ امام ظہور کریں گے اس وقت ہماری زمہ داری کیا ہے؟ ہم امام کے ظہور کے لیے کیا کرسکتے ہیں اور انتظار سے کیا مراد ہے؟ انتظار کے معنی، انتظار کرنا کیا ہے؟ اس مضمون میں بیان کریں گے۔
انتظار کیا ہے اور وہ کونسے عناصر ہیں جن سے انتظار تشکیل پاتے ہیں؟
ہم انتظار کی تعریف سے پہلے وہ عناصر بیان کریں گے جن سے انتظار تشکیل پاتا ہے اور ایک انسان منتظر کہلاتا ہے۔
انتظار تشکیل دینے والے عناصر
انسان اس وقت تک منتظر نہیں کہلائے گا جب تک اس میں یہ تین بنیادی عناصر موجود نہ ہوں:
1- عقیدتی عنصر
جو شخص امام کا منتظر ہے اسے امام کے ظہور اور اس کے نجات بخشنے پر قطعی یقین اور راسخ ایمان ہونا چاہیے
2- نفسیاتی عنصر
جو شخص امام کا منتظر ہے اسے چاہے کہ ہمیشہ آمادگی کی حالت میں زندگی بسر کرے۔
3ـ علمی و سلوکی عنصر
جو شخص امام کا منتظر ہے اسے چاہیے کہ اپنی استطاعت کے مطابق انفرادی اور اجتماعی امور میں اپنی رفتار کردار کے ذریعے امام کے ظہور کا زمینہ فراہم کریں۔
اگر ان تینوں بنیادی عنصر میں سے ایک عنصر بھی انتظار کے لیے فراہم نہ ہو تو حقیقت میں انتظار کا معنی پیدا نہیں ہو سکتا ہے۔
ہمارے ذہنوں میں انتظار کا مفہوم
ہم انتظار سے مراد نظارہ کرنے کی لیتے ہیں۔ جیسے مجلس ہورہی ہو اور ابھی مولانا نہیں آئے تو سب مسجد میں بیٹھے ہوئے ہیں,جب ان سے پوچھو کیا کررہے ہو تو کہتے ہیں کہ مولانا کا انتظار کررہے ہیں جس طرح ہم یہاں پر انتظار کا معنی لیتے ہیں اسی طرح امام کے بارے میں بھی یہی معنی لیتے ہیں کہ ہم امام کا انتظار کررہے ہیں یہ انتظار کا غلط مفہوم ہے جو ہمارے ذہنوں میں ہے جب کہ اس انتظار کو رسول اکرم نے عبادت قرار دیا ہے۔ رسول خدا کا فرمان ہے: سب سے افضل عبادت انتظار فرج ہے۔
انتظار کس کو کہتے ہیں؟
انتظار کا لغوی معنی اپنے امور کو تاخیر کے ہیں، حفاظت کرنا،چشم براہ ہونا اور آئندہ کے لیے امیدوار ہونا ہے۔
جو کچھ لغت کی کتابوں کی طرف رجوع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انتظار ایک نفسیاتی حالت ہے جو تامل اور تاخیر کے ہمراہ ہے۔
اس لحاظ سے انتظار کی دو قسمیں سمجھی جاتی ہیں:
1- قسم اول
نفسیاتی حالت اور چشم براہ ہونا ()،انسان کو گوشہ نشینی اختیار کرنے کی منزل تک پہچادے ،ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر موجودہ حالت کو تحمل کرے اور آیندہ کے مطلوبات کا فقط خیال کرتا رہے۔
2- قسم دوم
چشم براہ ہونا معتدل حرکت کا باعث ،اور وسیع قسم کے اقدام کی آمادگی کا عامل بن جائے۔
اب دینی مصادر و منابع کی طرف رجوع کرنے کے ساتھ ہی ہمیں یہ تحقیق و جستجو کرنی چاہیے کہ ان دونوں موجودہ معانی میں سے کونسا معنی حقیقت انتظار سے ہم آہنگ اور رہبران الٰہی کے نزدیک صحیح اور مقصود و مطلب ہے۔
رہبران الٰہی کے نزدیک انتطار فرج
اب ہم یہاں رہبران دین کے اقوال میں دیکھیں گئے کہ ان دونوں میں سے کونسا قسم مراد ہے تب جاکر ایک جامع تعریف کرسکے گئے
امام جعفر صادق علیہ السّلام کا فرمان ہے: لیعدن احدکم لخروج القائم و لو سھما،فان اللّٰہ اذا علم ذلک من نیته رجوت لان ینسی فی عمره حتی یدرکه ویکون من اعوانه و انصار. (بحار الانوار ج52 ص 366) ترجمہ: تم لوگوں سے ہر ایک کو اہے کہ امام کے خروج کے لیے اسلحہ کے ساتھ تیار رہے خواہ وہ ایک تیر ہی کیوں نہ ہو ،کیونکہ جب اللّٰہ تعالیٰ تمہاری نیت دیکھ لے گا تو ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری عمر میں اتنا اضافہ کردے گا کہ تم ان کے زمانہ ظہور کودرک کرلو اور امام زمانہ کے اعوان و انصار میں شامل ہو جائے۔
یہاں تاکید اور لزوم ہے کہ ہر ایک اپنے آپ کو آمادہ کرے ایک تیر جو بے قیمت اور معمولی چیز ہے جسے انسان اپنے ہاتھوں سے بھی بنا سکتا ہے کم از کم اتنی آمادگی ہو کہ اپنے امام کے ظہورِ کے لیے اپنے آپ کو تیار رکھو ،لیکن ہم نے صرف امام کو حاجتوں کا وسیلہ بنایا ہے ہم اس انتظار میں ہے کہ جو خرابیاں ہے وہ امام آکے ٹھیک کریں گئے بس اس حدیث میں جو آمادگی کی تاکید سے پتا چلتا ہے کہ قسم دوم والے صحیح ہیں۔
معصوم کا فرمان ہے: افضل العبادۃ انتظار الفرج
ترجمہ:سب سے بڑی عبادت انتظار فرج ہے۔( بحار الانوار، ج126، ص 52)
اس حدیث میں لفظ فرج آیا ہے ہمیں سب سے پہلے اس کا معنی پتا ہونا چاہیے جب اس کا معنی پتا چلا تو ہمیں حدیث کا مفہوم سمجھ آجائیں گا۔
فرج یعنی کشائش کو کہتے تنگی اور رکاوٹ کا ہٹ جانا فرج ہے۔
اب اگر ہم یہاں پر قسم اول والوں والا تعریف کریں تو یہ بنتا ہے کہ انتظار یعنی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر موجودہ حالت کو تحمل کرنا اور آیندہ کے مطلوبات کا فقط خیال کرنا ،یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا صرف خیال کرنے سے تنگی اور رکاوٹ ہٹ جائے گی یا اس کے لیے حرکت کی بھی ضرورت ہوتی ہے بس تنگی اور رکاوٹ حرکت کرنے سے ہی ہوگی بس انتظارِ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر موجودہ حالت کو تحمل کرنے اور آیندہ مطلوبات کا خیال کرنا ہرگز نہیں ہوتا ہے کیونکہ ہاتھ پر ہاتھ رکھنے سے کبھی تنگی دور نہیں ہوگی بس اب اوپر والی حدیث کو مدد نظر رکھتے ہوئے انتظار کا ایک جامع تعریف کریں گے۔
انتظار کی ایک جامع تعریف:
انتظار یعنی حرکت کرنا، یعنی ایسی حرکت جس سے یہ تنگی اور رکاوٹیں دور ہو جائیں اب اس انتظار کو انتظار فرج کہے سکتے ہیں یہ انتظار اور انتظار فرج ہے۔
اب اس انتظار کے عالم میں ایک منتظر کے اوپر کیا زمہ داریاں عائد ہوتی ہیں؟
منتظر امام مہدی علیہ السّلام کے فرائض :
1️⃣: آزمائشوں میں دین حق سے متمسک رہنا
شیخ کلینی نے اپنی سند کے ساتھ امام صادق سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: " ان لصاحب الأمر غيبة المتمسك فيها بدينه كالخارط للقتاد ... ان لصاحب هذا الامر غيبة ، فليتق الله عبد و ليتمسك بدينه (کافی ،ج1،ص335)
ترجمہ: یقینا اس صاحب امر کے لیے غیبت ہے اور اس دور غیبت میں اپنے دین سے متمسک رہنے والا ایساہی ہے جسے کوئی شخص خارے پر شدہ پھول پر ہاتھ کھینچا ہو یقین اس صاحب امر کے لیے غیبت ہے لوگوں کو چاہیے کہ اللہ سے ڈرتے رہیں اور اپنے دین سے متمسک رہیں۔
2️⃣: امام زمانہ کی ولادت سے متمسک رہنا
شیخ صدوق نے اپنی سند کے ساتھ امام محمد باقر علیہ السّلام سے نقل کیا ہے کہ رسول خدا نے فرمایا ٫٫وہ شخص بڑا خوش نصیب ہوگا جو میرے اہل بیت میں سے امام قائم کا زمانہ درک کرے گا اور وہ ان کی غیبت میں قیامت سے پہلے انہیں اپنا امام تسلیم کرے گا، اور ان کے دوستوں کو اپنا دوست اور ان کے دشمنوں سے عداوت رکھے گا ، یہی لوگ میرے رفیق میرے اہل بیت کے محب اور قیامت کے دن میرے نزدیک بہت مکرم و معزز ہوں گئے،،( کمال دین ،ص286،ح2
3️⃣: تجدید بیعت اور اطاعت پر ثابت قدم رہنا
امام زمانہ کی امامت سے متمسک رہنے کے منجملہ مظاہر میں سے حضرت کی بیعت کی ہمیشہ تجدید کرنا اور ان کی اطاعت پر ثابت قدم رہنا ہے تا کہ جاہلیت کی موت سے نجات حاصل کی جاسکے۔
دعائے عہد میں امام صادق سے یہ فقرات نقل ہوئے ہیں:" اللهم انی اجدد ل في صبيحة يومي هذا و ما عشت في ايامي عهداً و عقداً و بيعة له في عنقى لا احول عنها ولا ازول ابداً، اللهم اجعلني من انصاره و اعوانه و الذابين عنه ..
ترجمہ: " خدایا ! میں تجدید (عہد ) کرتا ہوں آج کے دن کی صبح اور جتنے دنوں میں زندہ رہوں اپنے اقتدار بیعت کی جو میری گردن میں ہے۔ میں اس بیعت سے نہ پلٹوں گا اور ابد ( ہمیشہ ) تک اس پر ثابت قدم رہوں گا، خدایا! مجھ کو ان کے اعوان و انصار اور ان سے دفاع کرنے والوں میں سے قرار دے ۔( مصباح الزائر ،ص 235)
4️⃣: شبہات کا مقابلہ
علماء اور دانشوروں کے فرائض میں سے حضرت مہدی کے زمانہ غیبت میں ان شکوک و شبہات کا مقابلہ کرنا بھی ہے جو حضرت مہدی کی غیبت کے تقاضے سے رونما ہوئے ہیں اس لیے کہ اگر معاشرہ میں ان کے شک و شبہ کا انہیں جواب نہ دیا جائے تو لوگوں کا حضرت کی امامت و ولایت کی بہ نسبت ایمان متزلزل ہو سکتا ہے۔
نعمانی نے اپنی سند کے ساتھ امام صادق سے نقل کیا ہے کہ حضرت نے فرمایا: ... فاياكم و الشك و الارتياب ، انفوا عن انفسكم الشكوك و قد حذرتكم فاحذروا ، اسأل الله توفيقكم و ارشادكم ( غیبت نعمانی ،ص150،
ترجمہ:لہذا خبردار! شک وریب سے پر ہیز کرنا ، اپنے دلوں سے شکوک و شبہات باہر نکال دو،میں نے تم لوگوں کو بر حذر کر دیا ہے لہذا تم لوگ شکوک و شبہات سے باز رہو، میں اللہ تعالیٰ سے تمہارے لیے توفیقات اور ہدایت کی دعا کروں گا۔
5️⃣: برادران ایمانی کے ساتھ ہمدردی اور مدد کرنا
شیخ صدوق نے اپنی سند کے ساتھ امام صادق سے سورہ عصر " والعصران الانسان لفی خسر " کی ان آیات کے متعلق ارشاد فرمایا: " عصر سے مراد، قائم کے ظہور کا زمانہ ہے۔ اور ان الانسان لفي خسر " سے مراد ہمارے دشمن ہیں۔ اور " آلا الذین آمنوا " یعنی ہماری آیات کے ذریعے ایمان لائیں ہوں گے اور "عملوا الصالحات " یعنی برادران دینی کے ساتھ ہمدردی اور تعاون ، اور و تواصوا بالحق این امامت اور و تواصوا بالصبر یعنی زمانہ فترت ۔ (کمال دین ،ج 2،ص656)
فترت سے مراد وہی امام زمانہ کی غیبت کا زمانہ ہے۔
6️⃣: تزکیہ نفس
انسان کو چاہے کہ اپنے تزکیہ نفس پر توجہ دے کیونکہ امام کے ظہور کے لیے تیاری کی ضرورت ہے جو انسان اپنی تزکیہ نہیں کرسکتا وہ کیسے امام کے لیے راستہ فراہم کریں گا جیسے کہ معصوم کا فرمان بھی ہے کہ اپنا محاسبہ کرو اس سے پہلے کہ محاسبہ کیا جائے۔
وہ شخص جو اپنے آپ کو منتظر امام کہتا ہے اس کو چاہے ان فرائض کو انجام دیں فرائض تو اور بھی ہے لیکن ہم یہاں پر انہی پر اتفاق کرتے ہیں۔
نتیجہ:
بس ہر وہ شخص جو اپنے آپ کو منتظر کہتا ہے اس پر کچھ زمہ داریاں بھی ہے کوئی بھی منتظر امام ان زمہ داریوں کے بغیر نہیں ہے منتظر سے مراد وہ شخص جو امام کی ظہور کے لیے حرکت کریں امام کی راہ میں موجود رکاوٹوں کو دور کریں منتظر وہ نہیں جو فقط دیکھتا رہے کہ امام کب آکے یہ معملات حل کریں گے۔









آپ کا تبصرہ