بدھ 4 فروری 2026 - 13:22
ہالیووڈ اور منجی کا تصور (حصہ اوّل)

حوزہ/ منجی بشریت کے ظہور کا قیام عدل، ظلم کے خاتمے اور انسانی نجات جیسے بنیادی تصورات سے گہرا تعلق ہونا، اس بات کا سبب بنا ہے کہ دنیا کے تمام ادیان اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے انسان ہمیشہ اپنے منجی کے ظہور کے منتظر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ منجی کے ظہور سے وابستہ شوق اور اشتیاق مختلف اسباب و عوامل کا نتیجہ ہوتا ہے، جن میں ذرائع ابلاغ کا کردار نہایت مؤثر اور فیصلہ کن سمجھا جاتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی | منجی بشریت پر ایمان، ان عقائد میں سے ہے جو صرف ابراہیمی ادیان ہی نہیں بلکہ غیر ابراہیمی مذاہب میں بھی مشترک طور پر پایا جاتا ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں آنے والے شدید بحران، ہلاکت خیز آفات اور وہ مشکلات جنہوں نے انسانی وجود کو خطرے میں ڈال دیا، اور جن کا مقابلہ انسان اپنی محدود صلاحیتوں کے بل پر نہ کر سکا، منجی کے تصور کے وجود میں آنے کی بنیادی وجہ بنے۔

چونکہ منجی کا ظہور عدل کے قیام، ظلم کے خاتمے اور انسانی فلاح سے جڑا ہوا سمجھا جاتا ہے، اسی لیے ہر مذہب اور ہر تہذیب کے انسان اپنے اپنے منجی کے منتظر رہے ہیں۔ اس اشتیاق کی شدت مختلف عوامل سے متاثر ہوتی ہے، جن میں جدید دور کے ذرائع ابلاغ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

میڈیا، خصوصاً فلم، نہ صرف براہِ راست افراد پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ ان ثقافتی اقدار، سماجی معیاروں اور فکری سانچوں کو بھی تشکیل دیتے ہیں، جن کی بنیاد پر انسان اپنی عملی زندگی استوار کرتا ہے۔

ہالی وڈ اور منجی کے تصور کی ترویج

1990 کے بعد ہالی وڈ کی فلم انڈسٹری میں ایک بتدریج مگر واضح تبدیلی دیکھنے میں آئی، جس کے تحت فلموں اور سیریلز کا عمومی رجحان منجی پرستی اور آخرالزمانی موضوعات کی جانب منتقل ہوتا چلا گیا۔

ہالی وڈ اور منجی کی ضرورت کا احساس

ہالی وڈ کی آخری زمانے سے متعلق فلموں میں منجی کی شدید ضرورت اور اضطرار کا احساس پیدا کرنا ایک نمایاں عنصر ہے۔

2023 میں بننے والی فلم The Creator میں انسان اور مصنوعی ذہانت کے درمیان ٹکراؤ کو موضوع بنایا گیا ہے، جہاں کہانی اس حد تک آگے بڑھتی ہے کہ صرف انسان ہی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کو بھی منجی کا محتاج اور منتظر دکھایا جاتا ہے۔

ہالی وڈ اور منجی کی ضرورت کا احساس

منجی کی ضرورت کو اجاگر کرنے کے لیے ہالی وڈ ایک مؤثر تکنیک، یعنی خیر و شر کی شدید دو قطبی تقسیم، استعمال کرتا ہے۔ ان فلموں میں شر کی قوتوں کو اس قدر طاقتور دکھایا جاتا ہے کہ معمول کے حالات میں ان پر قابو پانا ناممکن نظر آتا ہے، یہاں تک کہ ناظر اس نتیجے پر پہنچ جاتا ہے کہ نجات کا واحد راستہ منجی کا ظہور ہے۔

2013 کی فلم World War Z اس کی واضح مثال ہے، جس میں زومبیز پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں اور انسانیت کے لیے نجات کی امید تقریباً ختم ہو جاتی ہے۔ اس طرح کے مناظر ناظر کو یہ باور کراتے ہیں کہ منجی کے بغیر بقا ممکن نہیں۔

ہالی وڈ کی مصنوعات میں اس طرزِ فکر کی بار بار تکرار، ناظر کو حقیقی زندگی میں بھی اس نتیجے تک پہنچا دیتی ہے کہ دنیا کے شرور سے نجات کا واحد حل منجی کی آمد ہے۔

ہالی وڈ اور منجی کی ضرورت کا احساس

ایک اور نمایاں تکنیک، منجی کے بے مثال ایثار اور قربانی کو نمایاں کرنا ہے۔ ہالی وڈ کے منجی کرداروں کو اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ وہ انسانیت کی نجات کے لیے اپنی ذاتی خوشیوں، تعلقات اور حتیٰ کہ خاندان تک کو قربان کرنے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔

2014 کی مشہور فلم Interstellar اس تکنیک کی بہترین مثال ہے، جہاں منجی نما کردار پوری انسانیت کو بچانے کے لیے اپنی بیٹی سے جدائی کا کرب برداشت کرتا ہے اور ذاتی ترجیحات کو اجتماعی مفاد پر قربان کر دیتا ہے۔

ہالی وڈ کے آخرالزمانی فلموں کی فکری کارکردگیاں

اوّل: آخرالزمانی واقعات کو منظم اور ناگزیر دکھانا

عیسائی کتب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ظہور سے قبل دردناک اور تباہ کن واقعات کا ذکر ملتا ہے۔ ہالی وڈ کی آخرالزمانی فلمیں انہی تصورات کو بنیاد بنا کر یہ باور کرانے کی کوشش کرتی ہیں کہ سنہری دور کے حصول سے پہلے تباہ کن واقعات کا رونما ہونا ایک فطری اور ناگزیر عمل ہے۔

دوم: موجودہ انسانی طرزِ زندگی پر تنبیہ

بہت سی آخرالزمانی فلمیں موجودہ انسانی تہذیب پر تنقیدی نظر رکھتی ہیں، جہاں دکھایا جاتا ہے کہ انسان کے اپنے اعمال، مثلاً ٹیکنالوجی کا بے لگام استعمال، خود اس کے لیے تباہی کا سبب بنتا ہے۔

Terminator سیریز اور The Creator جیسی فلمیں اس بات کی مثال ہیں کہ مصنوعی ذہانت، جو انسان کی اپنی تخلیق ہے، بالآخر اسی کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔

سوم: طنز کے ذریعے خوف میں کمی

کچھ فلموں میں طنز و مزاح کے ذریعے آخرالزمانی خوف کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جیسے This Is the End اور The World’s End (2013)۔ اس طرزِ پیشکش سے ناظر آہستہ آہستہ ان ہولناک واقعات کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے ایک معمولی یا مزاحیہ مسئلہ سمجھنے لگتا ہے۔

اسلامی منجی کی شبیہ سازی کی کوشش

۲۰۲۰ء میں بننے والا ہالی وڈ سیریل Messiah حالیہ برسوں کی سب سے متنازعہ تخلیقات میں شمار ہوتا ہے۔

اس میں مرکزی کردار ایک مسلمان اداکار مہدی دہبی نے ادا کیا ہے۔ اگرچہ بظاہر اس کردار کو کسی خاص مذہب سے وابستہ نہیں دکھایا گیا، لیکن اس کی اسلامی شناخت دیگر تمام پہلوؤں پر غالب نظر آتی ہے۔

سیریل میں منجی کی الوہیت کو رد کیا جاتا ہے، مگر وہ خود کو دیے گئے القابات — مسیح، نبی، امام، خدا کا بیٹا — کی نفی بھی نہیں کرتا، جو اس کردار کی فریب کاری کو واضح کرتا ہے۔

علم کو واحد نجات دہندہ کے طور پر پیش کرنا

ہالی وڈ کے آخرالزمانی سینما میں بعض اوقات علم کو واحد نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

۲۰۲۴ء میں نشر ہونے والا Netflix کا مہنگا ترین سیریل 3 Body Problem اس رجحان کی واضح مثال ہے، جہاں ماورائی و الٰہی طاقتوں کو رد کرتے ہوئے صرف انسانی علم اور سائنس کو انسانیت کی نجات کا ذریعہ بتایا جاتا ہے۔

جاری ہے…

مرکزِ تخصصی مہدویت، حوزۂ علمیہ قم (گروہ: مغرب اور مہدویت) — (معمولی ترمیم کے ساتھ)

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha