منگل 3 فروری 2026 - 06:00
نظریۂ مہدویت اور امامت پر اعتقاد تشیع کی اہم ترین خصوصیات میں سے ہے

حوزہ/ حضرت آیت اللہ مکارم شیرازی نے کہا: مہدویت کا نظریہ اور مصلح کی ضرورت، امامت کے منصب کی استمرار اور انسانی معاشرے میں اس کی موجودگی کا لزوم ہے کیونکہ امام کے بغیر ہدایت کا راستہ گم ہو جاتا ہے اور انسان سعادت تک نہیں پہنچ پاتا۔ اسی وجہ سے امامت پر اعتقاد کو تشیع کی سب سے اہم خصوصیت قرار دیا جا سکتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حضرت آیت اللہ مکارم شیرازی نے اکیسویں بین الاقوامی مہدویت ڈاکٹرائن کانفرنس کے نام پیغام جاری کیا ہے۔ جس کا متن حسب ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ابتداء میں ضروری سمجھتا ہوں کہ اس کانفرنس کے تمام منتظمین اور شرکاء کا شکریہ ادا کروں جو حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے نام سے منور ہے اور امید کرتا ہوں کہ یہ پروگرام اپنے مقاصد اور اہداف تک پہنچے گا اور اسلامی معاشرے میں مہدویت کی ثقافت کی معرفت اور ترویج کے میدان میں ایک مفید قدم ثابت ہوگا۔

اگرچہ مصلح کے ظہور پر اعتقاد صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ دیگر آسمانی ادیان کے پیروکار بھی اس پر یقین رکھتے ہیں لیکن یہ فکر کسی بھی مکتب میں مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرح توجہ کا مرکز نہیں اور نہ ہی ایک بنیادی فکر کے طور پر متعارف ہوئی ہے۔

مہدویت کا تصور اور مصلح کی ضرورت، منصب امامت کے استمرار اور انسانی معاشرے میں اس کے وجود کی ضرورت ہےکیونکہ امام کے بغیر ہدایت کا راستہ گم ہو جاتا ہے اور انسان سعادت تک پہنچنے میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ اسی وجہ سے امام کے منصب پر عقیدہ اور امامت پر اعتقاد کو تشیع کی سب سے اہم خصوصیت قرار دیا جا سکتا ہے۔

آج ہم دنیا میں جو ظلم و ستم اور افراتفری دیکھ رہے ہیں، شاید اپنی نوعیت میں بے نظیر ہو اور اس کا اہم ترین سبب خصوصاً اس خطے میں ناجائز اور ظالم صہیونی ریاست اور اس کے حامیوں کا وجود ہے۔

غزہ اور لبنان کے دردناک سانحات اور ہمارے ملک پر حملہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اور بلاشبہ جو چیز ہمیں اس خونخوار ریاست کے مقابلے میں استقامت بخشتی ہے، وہ ایک برتر طاقت اور تمام انسانی طاقتوں پر حاکم پر ایمان اور یقین ہے اور اس یقین اور امید کی پرورش حقیقی منتظر کی تربیت کا ذریعہ ہے۔

دشمن کی شناخت اور اس کے منصوبوں، چالوں اور نفوذ کے راستوں سے آگاہی انہیں مصلح کے ظہور پر ایمان کی روشنی کو بجھانے اور انتظار کی ثقافت کو ختم کرنے میں ناکام بناتی ہے۔

بلاشبہ، ظہور کے واقعے کے مختلف پہلوؤں جیسے فرج کے انتظار کی حقیقت، ظہور کی تیاری اور مہدوی حکومت کی صفات پر توجہ دینا، اور ایک جملہ میں ہر وہ چیز جو اس بارے میں شیعوں اور عام طور پر مسلمانوں کی بصیرت اور آگاہی میں اضافہ کرتی ہے، ایک قابل قدر اور قابل تحسین کام ہے۔

میں ایک بار پھر اس کانفرنس کے تمام منتظمین اور محترم شرکاء کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور خداوند متعال سے ایران کی سلامتی اور عظمت اور ہماری عزیز قوم کی صحت اور عافیت کی دعا کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ ظہور امام زمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف تک یہ سرزمین حضرت ولی عصر ارواحنا فداہ کے عاشقوں، منتظرین اور شیعوں کا مرکز رہے۔ انشاء اللہ۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ

قم – ناصر مکارم شیرازی

01 فروری 2026ء

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha