جمعہ 13 فروری 2026 - 16:18
تقلید صرف فرد کی اصلاح نہیں، بلکہ امت کی فکری حفاظت کا ذریعہ بھی ہے، محترمہ بشریٰ فاطمہ

حوزہ/ مدرسہ بنتُ الہدیٰ (رجسٹرڈ) ہریانہ الہند کی جانب سے «تقلید — شعورِ بندگی سے شعورِ ذمہ داری تک» کے عنوان سے آن لائن درسِ اخلاق کا انعقاد کیا گیا۔ یہ پروگرام گوگل میٹ پلیٹ فارم کے ذریعے منعقد ہوا، جس میں ہندوستان کے مختلف مقامات سے تعلق رکھنے والی طالبات اور خواتین نے بھرپور شرکت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ بنتُ الہدیٰ (رجسٹرڈ) ہریانہ الہند کی جانب سے «تقلید — شعورِ بندگی سے شعورِ ذمہ داری تک» کے عنوان سے آن لائن درسِ اخلاق کا انعقاد کیا گیا۔ یہ پروگرام گوگل میٹ پلیٹ فارم کے ذریعے منعقد ہوا، جس میں ہندوستان کے مختلف مقامات سے تعلق رکھنے والی طالبات اور خواتین نے بھرپور شرکت کی۔

تقلید صرف فرد کی اصلاح نہیں، بلکہ امت کی فکری حفاظت کا ذریعہ بھی ہے، محترمہ بشریٰ فاطمہ

درس کا آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید سے ہوا، جس کے بعد منقبت خوان خواہران نے بارگاہِ اہلِ بیت علیہم السّلام میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔

اسی نشست میں تمرینِ خطابت کے طور پر مدرسہ کی ایک طالبہ نے موضوعِ امامِ زمانہؑ پر مختصر مگر مؤثر تقریر بھی پیش کی۔

اس نشست کی خطیبہ عالمہ محترمہ بشریٰ فاطمہ صاحبہ تھیں۔

تقلید صرف فرد کی اصلاح نہیں، بلکہ امت کی فکری حفاظت کا ذریعہ بھی ہے، محترمہ بشریٰ فاطمہ

انہوں نے نہایت شائستہ، مدلل اور رواں اسلوب میں «تقلید — شعورِ بندگی سے شعورِ ذمہ داری تک» کے عنوان سے انتہائی جامع خطاب کیا۔

درسِ اخلاق کا مکمل متن ناظرین کی خدمت میں حاضر ہے:

تقلید — شعورِ بندگی سے شعورِ ذمہ داری تک

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد للہ ربّ العالمین، والصلاۃ والسلام علی سیدنا محمد وآلہ الطاہرین

عزیزانِ محترم!

آج کے اس درسِ اخلاق میں ہم ایک ایسے بنیادی دینی فریضے پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں جس سے ہماری نماز، روزہ، معاملات، معاشرت، حتیٰ کہ ہماری فکری سمت بھی وابستہ ہے — اور وہ ہے تقلید۔

بدقسمتی سے تقلید کو بعض اوقات صرف ایک فقہی اصطلاح سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تقلید، انسان کی دینی ذمہ داری کو منظم کرنے کا نام ہے۔

تقلید کا حقیقی مفہوم

تقلید کا مطلب اندھی پیروی نہیں۔

محترم خواتین و طالبات!

تقلید کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص خود شریعت کے دقیق احکام تک پہنچنے کی علمی صلاحیت نہیں رکھتا، وہ ایک ایسے فقیہِ جامع الشرائط کی طرف رجوع کرے جو قرآن، سنت، عقل اور اجماع کی بنیاد پر احکامِ الٰہی کو سمجھنے کی قدرت رکھتا ہو۔

پس تقلید، عقل سے فرار نہیں بلکہ عقل کے تقاضے پر عمل ہے۔

جس طرح ایک مریض علاج میں خود فیصلہ نہیں کرتا بلکہ ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرتا ہے، اسی طرح دین کے پیچیدہ مسائل میں غیر مجتہد کا مجتہد کی طرف رجوع کرنا ہی عقل و شرع دونوں کا تقاضا ہے۔

قرآن کی روشنی میں تقلید کا اصول

قرآنِ کریم کا واضح ارشاد ہے: فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ.“اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھو۔”

یہ آیت ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ دین میں خود ساختہ رائے، قیاس آرائی اور جذباتی فتوے نہیں بلکہ اہلِ علم کی طرف رجوع ہی اصل راستہ ہے۔

اہلِ بیتؑ کی تعلیمات میں تقلید

اہلِ بیتِ اطہارؑ نے ہمیشہ امت کو یہ سکھایا کہ دین کو صرف روایت کے جذبات سے نہیں بلکہ علمی معیار سے لیا جائے۔

امام جعفر صادقؑ کے دور میں بھی شیعہ اپنے شہروں میں موجود قابل، متقی اور صاحبِ فہم راویوں اور فقہاء کی طرف رجوع کرتے تھے۔

یہی سلسلہ بعد میں باقاعدہ نظامِ مرجعیت کی صورت میں منظم ہوا۔

پس مرجعیت کوئی نیا ادارہ نہیں، بلکہ اہلِ بیتؑ کی علمی میراث کا تسلسل ہے۔

تقلید کیوں ضروری ہے؟

محترم عزیزو!

آج کا دور صرف عبادات کا نہیں بلکہ زندگی کے ہزاروں مسائل کا دور ہے: بینک، تجارت، بیمہ، تعلیم، میڈیا، سماجی معاملات، خواتین کے حقوق، خاندانی نظام، سیاست اور سماجی ذمہ داریاں — یہ سب فقہی سوالات سے جڑے ہوئے ہیں۔

اب ایک عام مؤمن کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ خود: روایات کی اسناد جانچے، ناسخ و منسوخ سمجھے اور فقہی قواعد کا صحیح اطلاق کرے۔

اس لیے تقلید دراصل دین کو بکھرنے سے بچانے کا ذریعہ ہے۔

تقلید اور روحِ اخلاق

یہاں ایک نہایت اہم نکتہ سمجھنے کا ہے۔

تقلید صرف رسالہ کھول کر مسئلہ دیکھ لینے کا نام نہیں، بلکہ تقلید کا اصل مقصد ہے دین کے سامنے جھک جانا۔

یعنی جب مرجع کا حکم ہماری خواہش کے خلاف ہو تب بھی ہم یہ کہیں: یہ میری مرضی نہیں، میرے ربّ کا حکم ہے۔ یہی تقلید انسان میں تواضع، بندگی اور ذمہ داری کا شعور پیدا کرتی ہے۔

رہبرِ معظم اور مسئلۂ تقلید

محترم خواتین!

آج کے دور میں رہبرِ معظم حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای (دام ظلہ العالی) نے بارہا اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ امتِ مسلمہ کو صرف جذباتی نعروں سے نہیں، بلکہ دینی بصیرت اور فقہی شعور سے آگے بڑھنا ہوگا۔

رہبرِ معظم کے نزدیک مرجعیت اور ولایتِ فقیہ دونوں دین کی حفاظت کے دو مضبوط ستون ہیں۔

وہ اس بات پر خاص زور دیتے ہیں کہ اگر عوام دینی قیادت سے جڑے رہیں، اگر ان کا رابطہ فقہاء سے مضبوط رہے، تو نہ فکری انحراف جنم لیتا ہے اور نہ امت آسانی سے گمراہ کی جا سکتی ہے۔

یعنی تقلید صرف فرد کی اصلاح نہیں، بلکہ امت کی فکری حفاظت کا ذریعہ بھی ہے۔

مرجعِ عالی قدر اور تقلید کا اخلاقی پہلو

محترم خواتین!

مرجعِ عالی قدر حضرت آیت اللہ العظمیٰ علی حسینی سیستانی (دام ظلہ الوارف) اور تقلید کا اخلاقی پہلو بھی ہمارے لیے نہایت رہنمائی رکھتا ہے۔

مرجعِ عالی قدر کی پوری علمی اور عملی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ تقلید کا مرکز شہرت، سیاست یا طاقت نہیں، بلکہ تقویٰ، احتیاط اور خدمتِ خلق ہے۔

آیت اللہ سیستانی کی سیرت میں ہمیں واضح طور پر نظر آتا ہے کہ مرجعیت کو ذاتی اثر و رسوخ کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا، بلکہ مرجعیت کو امت کے تحفظ اور مظلوموں کی حمایت کے لیے وقف کیا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ان کی تقلید کرنے والا مؤمن صرف عبادت میں نہیں، بلکہ سماجی ذمہ داری میں بھی بیدار ہوتا ہے۔

تقلید اور اختلافِ مراجع

اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ جب مراجع کے فتاویٰ میں فرق ہوتا ہے تو ہم کیا کریں؟

یاد رکھیے!

یہ اختلاف دین کا ضعف نہیں بلکہ فقہ کی وسعت اور اجتہاد کی گہرائی کی علامت ہے۔

ہم پر لازم ہے کہ جس مرجعِ جامع الشرائط کی تقلید ہم نے اختیار کی ہے، اسی کے فتوے پر عمل کریں اور دوسرے مراجع کے احترام کو بھی باقی رکھیں؛ یہی اخلاقِ تقلید ہے۔

نوجوان نسل اور تقلید

آج سب سے زیادہ خطرہ نوجوان نسل کو ہے۔

سوشل میڈیا، خود ساختہ مفتی، مختصر کلپس اور جذباتی بیانات نوجوان ذہن کو یہ باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ “ہر شخص خود ہی سب کچھ سمجھ سکتا ہے۔”

حالانکہ دین، یوٹیوب کے کلپ سے نہیں بلکہ صبر، علم اور استاد سے سمجھا جاتا ہے۔

اگر نوجوان مرجعیت سے کٹ گیا تو دراصل وہ اہلِ بیتؑ کی علمی امانت سے کٹ جائے گا۔

تقلید اور اجتماعی کردار

آج کے درسِ اخلاق میں یہ بات بھی نہایت توجہ طلب ہے کہ تقلید کا تعلق صرف انفرادی عبادات تک محدود نہیں رہتا، بلکہ یہ انسان کے اجتماعی کردار کی تشکیل بھی کرتی ہے۔

جو مؤمن مرجع کی رہنمائی میں اپنی زندگی کو منظم کرتا ہے وہ اختلاف، تعصب اور انتہاپسندی کے بجائے اعتدال، تحمل اور باہمی احترام کی راہ اختیار کرتا ہے۔

یوں تقلید فرد کو صرف بہتر نمازی نہیں، بلکہ بہتر شہری، بہتر والدین اور بہتر داعیِ دین بھی بناتی ہے اور یہی وہ اخلاقی ثمر ہے جو ایک صالح معاشرے کی بنیاد بنتا ہے۔

آخری کلام

عزیزانِ محترم!

آج کے درس کا خلاصہ یہ ہے کہ تقلید کوئی کمزوری نہیں، بلکہ مؤمن کی فکری پختگی کی علامت ہے۔

تقلید ہمیں: خود رائی سے بچاتی ہے، دین کو سلیقے سے جینے کا ہنر سکھاتی ہے اور ہمیں اہلِ بیتؑ کے راستے پر منظم انداز میں قائم رکھتی ہے۔

رہبرِ معظم دام ظلہ العالی کی بصیرت ہو یا مرجعِ عالی قدر آیت اللہ سیستانی دام ظلہ الوارف کی احتیاط اور خاموش خدمت — دونوں ہمیں یہی سکھاتے ہیں کہ دین جذبات سے نہیں، فقہ اور تقویٰ سے زندہ رہتا ہے۔

آخر میں بارگاہِ خداوندی میں دعاگو ہوں:

پروردگار! ہمیں صحیح مرجع کی معرفت عطا فرما! ہماری تقلید کو محض رسم نہ بنا، بلکہ شعور، بندگی اور ذمہ داری کا راستہ بنا دے!

وآخر دعوانا أن الحمد لله ربّ العالمين

والسلام علیکم ورحمۃ الله

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha